افغانستان میں بنک پر کار بم حملہ،34افراد شہید ،60سے زائد زخمی


افغانستان میں بنک پر کار بم حملہ،34افراد شہید ،60سے زائد زخمی

افغانستان میں کابل بینک کے قریب کار دھماکے سے 34افراد شہید جبکہ 60 افراد کے قریب شدید زخمی ہو گئے جن میں افغان فوج کے جوان بھی شامل ہیں ۔زیادہ تر مرنے والے سویلین ہیں۔

میڈ یا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے صوبے ہلمند کے شہر لشکر گاہ میں کابل بینک کے قریب بارود سے بھری گاڑی میں زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 34افراد شہید جبکہ 60سے زائد شدید زخمی ہو گئے ۔دھماکے کے فوری بعد افغان سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا جبکہ امدادی ٹیمیں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہی ہیں ۔بتا یا جا رہا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں افغان فوج کے اہلکار بھی شامل ہیں ۔

افغان حکام کے مطابق دھماکا صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ میں نیوکابل بینک برانچ کے باہر اس وقت ہوا جب عام شہری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکا ر تنخواہ کے حصول کیلئے کھڑے تھے۔واضح رہے کہ عید کی چھٹیاں نزدیک ہونے اور عید بونس کے باعث بینک پر رقوم نکلوانے کےلیے بڑی تعداد میں مقامی پولیس، فوج اور سویلین اداروں کے ملازمین قطاریں لگائے ہوئے موجود تھے۔

افغانستان میں بینک کے باہر خود کش کار بم دھماکے میں ہلاک افراد کی تعداد 34 ہوگئی۔

اب تک کسی گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہلمند کے بیشتر علاقوں پر افغان طالبان کا اثر و رسوخ بہت بڑھ چکا ہے تاہم لشکر گاہ ابھی تک افغان حکومت ہی کے کنٹرول میں ہے اس لیے ممکنہ طور پر یہ کارروائی افغان طالبان کی جانب سے ہوسکتی ہے۔

دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے. خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. خودکشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے۔ اِس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے.​

’’اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبان احسان بنو، بے شک اﷲ احسان والوں سے محبت فرماتا ہے. ۔ البقرة، 2 : 195​

اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ حدیث رسول کریم ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔

طالبان  قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حدیث رسول کریم ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے.

طالبان جہاد نہ کر رہے ہیں بلکہ اپنے اقتدار کےل ئے جنگ کر رہے ہیں۔علمائے اسلام ایسے جہاد کوفی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ کہتے ہیں۔انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا افغانستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ 

​وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور اللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء

 

Advertisements