پنجاب میں اہم شخصیات پر حملوں کا خدشہ ،سکیورٹی فول پروف بنانے کی ہدایت


پنجاب میں اہم شخصیات پر حملوں کا خدشہ ،سکیورٹی فول پروف بنانے کی ہدایت

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پنجاب بھرمیں اہم سیاستدانوں اور شخصیات کو ٹارگٹ بنائے جانے کا خدشہ ہے جبکہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے گورنر اور وزیراعلی پنجاب سمیت اہم سیاسی شخصیات کی سیکورٹی فول پروف بنانے کی ہدایت کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس حکام اورسکیورٹی سے متعلق اداروں کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ معلوم ہوا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی شہریار محسود گروپ پنجاب بھر میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اہم سیاسی شخصیات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے لہٰذا گورنر، وزیراعلی اور وزرا سمیت اہم شخصیات کی سکیورٹی کو فول پروف رکھا جائے۔وقفے وقفے سے انٹیلی جنس بیسڈکومبنگ و سرچ آپریشنز کئے جائیں، تمام حساس اور اہم تنصیبات، عمارتوں، ہسپتالوں اور سکولوں سمیت اہم رہائشی علاقوں کی کڑی نگرانی رکھی جائے اور اس حوالے سے اٹھائے جانیوالے تمام اقدامات سے آئی جی پنجاب آفس کو تفصیلی طور پر آگاہ رکھا جائے۔

http://dailypakistan.com.pk/back-page/22-Jun-2017/597847

دہشتگرد ،دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔طالبان ,‫‏پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناسور ہیں۔
طالبان دہشتگرد ایک مشترکہ خصوصیت کے حامل ہیں اور وہ انارکسٹ فلسفہ کے پیروکار ہیں اور انکے پیچھے کارفرما ذہن ایک مخصوص طرز فکر رکھنے والا ذہن ہے۔ان میں سے بعض شعوری طور پر دین اسلام اور پاکستان کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔یہ گروہ اپنی منفرد مذھبی روایات اور مخصوص انتہا پسندانہ طرز زندگی کو اسلام کے نام پر پاکستانی معاشرے پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ان میں موجود اسلام کے شعوری دشمن ، غیر انسانی اور غیر قرآنی مذھبی روایات اور قبائلی ثقافت کو اسلام کی اقدار و ثقافت قرار دے کر دین اسلام کی روز افزوں مقبولیت کو کم کرنے کے درپے ہیں۔ دونوں تکفیری اور اسلام دشمن ہیں۔
طالبان جہاد نہ کر رہے ہیں ۔ ان کا نام نہاد جہاد اسلامی جہاد کے تقاضون کے منافی ہے۔
طالبان کےدہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں .طالبان دہشتگرد کسی اعلیٰ نظریئے کے حصول لئےنہ لڑ رہے ہیں بلکہ یہ اپنے اقتدار کےلئے لڑ رہے ہیں۔ یہ گمراہ لوگ ہیں اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ رمضان کے مقدس مہینہ میں خودکش حملے کرنا ، کو ئی غیر مسلم ہی سوچ اور کر سکتا ہے۔
دہشتگرد، پاکستان ،پاکستانی عوام اور اسلام کےد شمن ہیں اور ہمیں ان سے ہر دم چوکنا و ہوشیار رہنا ہو گا اور ان کو دوبارہ اپنے گل کھلانے کا موقع بہم نہ پہنانا ہو گا کیونکہ یہ پاکستان اور اسلام دشمنی ظاہر کرنے کا کو ئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے ہیں۔

 

Advertisements