پارا چنار طوری بازار میں یکے بعد دیگرے 2 دھماکے ،72 افراد شہید ،متعدد زخمی


پارا چنار طوری بازار میں یکے بعد دیگرے 2 دھماکے ،72 افراد شہید ،متعدد زخمی

پار ا چنار کے مصروف ترین طوری  بازار  میں یکے بعد دیگرے 2  دھماکے ،72 افراد شہید اورمتعدد زخمی ہو گئے ،20 سے زائد زخمیوں کی حالت انتہائی تشویش ناک ،شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ،سرکاری حکام نے پارا چنار میں ہونے والے دھماکے کو خود کش قرار دے دیا ۔ ’اے ایف پی‘ کے مطابق سرکاری حکام نے جمعہ کو ہونے والے دو دھماکوں میں زخمی ہونے والے مزید 5 افراد کے دوران علاج جاں بحق ہونے کی تصدیق کی، جس کے بعددہشتگردی کے واقع میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 72 تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ مزید 10 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعتہ الوداع کے موقع پر کوئٹہ کے بعد پارا چنار کے مصروف ترین بازار میں  میں یک بعد دیگرے 2دھماکوں کے نتیجے میں72افراد شہیدہوگئے ہیں جبکہمتعدد  زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے30سے زخمیوں کی حالت انتہائی  تشویشناک ہے جبکہ شہادتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہے ہے ۔نجی ٹی وی کے مطابق پارا چنار کے طوری بازار میں لوگ عید کی خرید داری میں مصروف تھے کہ ایک ہلکا دھماکہ ہوا ،جب لوگ دھماکے کی جگہ پر جمع ہوا تو دوسرا  انتہائی  زور دار دھماکہ ہوا جس کی آواز 2 کلو میٹر دور تک سنی گئی ،دھماکے کے فوری بعد طوری بازار میں قیامت صغریٰ کا منظر پیش کر رہا تھا ،ہر طرف زخمیوں کی چیخ و پکار دلوں کو دہلا رہی تھی ،مقامی لوگو اپنی مدد آپ کے تحت طوری بازار سے زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کے لئے بھاگ دوڑ کرتے نظر آئے جبکہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج ،فرنٹیئر کور ،پولیس اور دیگر امدادی ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتال پہنچایا ،دھماکے کے بعد پارا چنار کے تمام  ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے ،جبکہ سیکیورٹی فورسز نے بھی جائے حادثہ کی جگہ کو گھیرے میں لیتے ہوئے ابتدائی طور پر امدای کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔یاد رہے کہ پارا چنار دھماکے کے فوری بعد 10 افراد کی شہادت کی اطلاع تھی لیکن بعد میں اس افسوسناک دہشت گردی کے واقعہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد 15اور بعد میں بڑھ کر 72 ہو گئی ہے جبکہ ان شہادتوں میں ابھی مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ایک دوسرے ٹی وی کے مطابق طوری بازار میں  پہلا دھماکہ ہوا تو  خریداری میں مصروف  لوگ دھماکے کی جگہ پر اکٹھے ہونا شروع ہو گئے ،ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ خوفناک دھماکے نے ہر چیز تباہ و برباد کر کے رکھ دی جبکہ  دھماکے کی آواز 10کلومیٹر دور تک سنائی گئی۔دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، جب کہ ریسکیو آپریشن کے بعد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے پاراچنار دھماکوں پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد آسان اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں جب کہ کوئی بھی مسلمان ایسے گھناؤنے اقدامات کا تصور بھی نہیں کرسکتا تاہم دہشت گردی کے ایسے واقعات کو ریاست کی طاقت سے کچل دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے جب کہ وزیراعظم نے ملک بھر میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی بھی ہدایت کی۔

چیرمین پی ٹی آئی عمران خان اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بھی پارا چنار دھماکوں کی شدید مذمت کی جب کہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاراچنارکے شہدا کے ورثا کےغم میں برابرکے شریک ہیں اور دہشتگردی کو نیست ونابود کرنے کے لیے قوم تیار ہوجائے۔

دہشتگردوں کو رمضان کے مقدس مہینے اور جمعتہ الوداع کے  تقدس کا بھی خیال نہ ہے۔

خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام میں خود کش حملے حرام، قتل شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اوربدترین جرم ہے۔

اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ جماعت احرار گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔عورعتوں اور بچوں کا قتل حالت جنگ میں بھی ممنوع ہے اور یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

جماعت احرار جان لیں کہ وہ اللہ کی بے گناہ مخلوق کا قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول(ص) کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. دہشتگردوں کو سمجھنا چاہیے کہ وہ خودکش حملے  اور بم دہماکےکر کے غیرشرعی اور حرام فعل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

یہ شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔علمائے اسلام ایسے جہاد کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں ۔ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوتا ہے  ۔ جماعت احرار   کا طرز عمل ، جہاد فی سبیل کے اسلامی اصولوں اور شرائط کے منافی ہے۔

اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جماعت احرار اپنے اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں اور جہاد نہ کر رہے ہیں۔دہشتگرد ،دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشت گردوں کی ایک تعداد ضرب عضب کے علاقوں سے فرار ہو کر مختلف علاقوں میں چھپ گئی‘ اب ان دہشت گردوں کی باقیات وقفے وقفے سے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی واردات کر کے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔

 

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s