کوئٹہ میں آئی جی کے دفتر کے سامنے ممکنہ خودکش حملہ ، پولیس اہلکار وں سمیت 12افراد شہید ، 20 زخمی


کوئٹہ میں آئی جی کے دفتر کے سامنے ممکنہ خودکش حملہ ، پولیس اہلکار وں سمیت 12افراد شہید ، 20 زخمی

کوئٹہ کے علاقے گلستان روڈ پر آئی جی آفس کے سامنے ممکنہ خودکش حملے میں6 پولیس اہلکاروں سمیت 12افراد شہید اور 20زخمی ہو گئے ۔جائے حادثہ کے قریب ڈی آئی جی کا دفتر بھی واقع ہے جبکہ گرلز و بوائز سکول بھی قریب ہی واقع ہیں۔

دھماکے کے بعد سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔بم ڈسپوزل سکواڈ کا کہنا ہے کہ دھماکا خٰیز مواد کار میں نصب تھا جس میں مبینہ خودکش بمبار بھی موجود تھا جسے روکنے کی کوشش کی گئی تو دہشتگرد نے  دھماکا کیا۔حملہ آور کا ٹارگٹ ممکنہ طور پر آئی جی آفس ہی تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کوئٹہ کے علاقے جناح چیک پوسٹ کے قریب  آئی جی پولیس کے دفتر کے سامنے کار میں نصب بم دھماکا ہوا ہے جس میں پولیساہلکاروں سمیت 12 افراد شہید اورایک بچی سمیت 20 زخمی ہیں جنہیں سول ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے ۔زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں ۔دھماکے کی آواز پورے شہر میں سنی گئی جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے ۔دھماکے سے 2 گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔شہید اہلکاروں کی شناخت لال خان ، غنی خان اور ساجد کے ناموں سے ہوئی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑی چلانے والے شخص کی عمر 18سے 20سال کے درمیان تھی جس کی وضع قطع کے بارے تاحال کچھ نہیں بتایا گیا تاہم اس کا نشانہ ممکنہ طور پر آئی جی آفس تھا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جناح چیک پوسٹ کے قریب  کینٹ کا علاقہ بھی واقع ہے۔ دھماکے کے بعد امدادی ٹیمیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے حادثہ پر پہنچ گئے جبکہ پولیس اور ایف سی نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے ۔ اس کے علاوہ  بم ڈسپوزل سکواڈ کو بھی طلب کر لیا گیاہے جو دھماکے کی نوعیت کاپتہ لگانے میں مصروف ہیں۔ دھماکے سے محکمہ تعلیم کی عمارت کی دیوار بھی زمین بوس ہو گئی۔

ترجمان بلوچستان حکومت انورا لحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ دھماکا خیز مواد کار میں نصب تھا جس کے نتیجے میں پانچ افراد شہید ہوئے تاہم دھماکے سے لگتا ہے کہ پولیس کے اہم دفاتر دہشتگردوں کا ٹارگٹ تھے۔سیکیورٹی اہلکاروں نے کار کو روکا تو دھماکا ہوا تاہم دھماکے کی جگہ سیکیورٹی موجود تھی۔

انہوں نے کہا کہ بم دھماکوں کے حوالے سے انٹیلی جنس اطلاعات تھیں جس وجہ سے سیکیورٹی ہائی الرٹ پر تھی تاہم جس نوعیت کا دھماکا تھا اس قدر نقصان نہیں ہوا ، دھماکے سے زیادہ جانی نقصان ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔’’دہشتگردوں نے سافٹ ٹارگٹ کیا ہواتھا جو شائد آگے بڑھنا چاہ رہے تھے مگر ایسا نہیں ہو سکا تو انہوں نے اسی جگہ دھماکا کر دیا ‘‘۔

ادھر سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی سید جمیل الرحمان کے نام سے رجسٹرڈ ہے جس کا نمبر ٹی 4377 ہے اور کراچی سے رجسٹرڈ شدہ ہے، دھماکے سے قبل گاڑی گلستان روڈ پر ایک چوک میں خراب بھی ہوئی جس کے بعد ڈرائیور کے کہنے پر سیکیورٹی اہلکاروں نے دھکا لگا کر اسے سائیٖڈ پر کر دیا جس کے فوری بعد دھماکا ہو گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑی میں سوار شخص کی عمر 18 سے 20 سال تھی جس کا ہدف ممکنہ طور پر آئی جی آفس تھا۔

http://dailypakistan.com.pk/quetta/23-Jun-2017/598502

صدر ممنون حسین نے کوئٹہ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد آخری سانسیں لے رہے ہیں جبکہ ریاست عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے گی۔

وزیراعظم نواز شریف نے کوئٹہ میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک کےمقدس مہینے میں معصوم انسانوں کو نشانہ بنانا دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی بزدلی کی بدترین مثال ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم پرعزم ہوکر دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دے گی۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں سنگین جرم میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کےلئےکوئی کسراٹھانہ رکھیں۔ دہشت گردی میں ملوث عناصر کو ہرصورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو علاج معالجےکی بہترین طبی سہولیات فوری مہیاکی جائیں، وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ سفاکانہ عمل میں ملوث دہشت گرد کسی طور قابل رحم نہیں ، انہیں ہر صورت انجام تک پہنچائیں گے۔وزیراعظم نواز شریف نے بتایا کہ دہشت گردی و انتہاپسندی کو جڑ سےاکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری قوم پر عزم ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے بھی کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

جماعت احرار نے اس دہماکہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

جماعت احرار پاکستان  بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرر ہی ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام اورپاکستان سے کھلی بغاوت ہے۔ دہشتگرد اپنے گمراہ کن نظریات کی وجہ سے اسلام کو بد نام کررہے ہیں۔ گمراہ عناصرنے خونریزی کر کے اسلام کو بدنام کیا ہے اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔

خودکش حملے،دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. دہشتگردوں کا طرز عمل جہاد فی سبیل اللہ  کے اسلامی اصولوں اور شرائط کے منافی ہے.۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔جماعت احرار گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔

جماعت احرار اپنے اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں اور جہاد نہ کر رہے ہیں۔دہشتگرد ،دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشت گردوں کی ایک تعداد ضرب عضب کے علاقوں سے فرار ہو کر مختلف علاقوں میں چھپ گئی‘ اب ان دہشت گردوں کی باقیات وقفے وقفے سے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی واردات کر کے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔دہشت گردی ایک ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ، دہشت گرد انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں۔ دہشت گردوں کا ایجنڈا اسلام اور پاکستان دشمنی ہے۔

Advertisements