میتھی کے فوائد


میتھی کے فوائد

میتھی موسم سرما کی سبزی ہے ۔میتھی میں وٹامن اے، بی، سی ، فولاد، فاسفورس اور کیلشیم پایا جاتا ہے۔ میتھی کے نہ صرف پتے بلکہ اس کا بیج بھی کئی امراض اور کھانوں، اچار وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پاک و ہند میں اس کا استعمال زیادہ ہے اور ہم  میتھی کی افادیت سے آگاہ ہیں۔

میتھی کے فوائد:
٭میتھی کے استعمال سے آنکھوں کی پیلاہٹ دور ہوتی ہے۔
٭ میتھی کے استعمال سے منہ کا کڑوا ذائقہ درست ہو جاتا ہے۔
٭میتھی کھانے سے رال بہنے جیسے مسئلے سے نجات ملتی ہے۔
٭میتھی بھوک کی کمی کو دور کرتی ہے۔
٭میتھی کھانے سے کھٹی ڈکاریں نہیں آتی ہیں۔
٭میتھی کھانے سے بد ہضمی سے نجات ملتی ہے۔
٭ میتھی کا استعمال قبض سے نجات دلاتا ہے۔
٭میتھی خون کی کمی کو دور کرتی ہے۔
٭میتھی کھانے سے جلد خاص طور پر چہرہ پر رونق ہو جاتا ہے۔
٭میتھی کا استعمال جسم کے دردوں سے آرام پہنچاتا ہے۔
٭میتھی کے استعمال سے جسم سے کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے۔
٭ میتھی انسولین پیدا کرتی ہے۔
٭میتھی کو حاملہ خواتین استعمال نہ کریں۔
٭ میتھی بلغم اور گلے کی خراش میں فائدہ مند ہے۔
٭میتھی کے استعمال سے پیشاب کھل کر آتا ہے۔
٭بند حیض میں اس کا جوشاندہ مفید ہوتا ہے۔
٭میتھی سے خواتین کے دودھ میں اضافہ ہوتا ہے۔
٭میتھی کا شوربہ کا استعمال دمہ کے مریضوں کے لئے مفید ہے۔

ذیابطیس (شوگر ) اور میتھی کی کرامات
ذیابطیس کے علاج میں میتھی کو انتہائی موثر پایا گیا ہے راشٹر یہ پوشن انو سندھان حیدر آباد (بھارت )کے ڈاکٹر آرڈی شر ما ور گھورام اور دیگر ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی عرصہ دراز سے ذیابطیس (ڈایا بیٹیز )کے علاج کے سلسلے میں تحقیقات کر رہی تھی انہوں نے ہزاروں مریضوں پر تخم میتھی استعمال کروایا ۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیج ذیابطیس اور دل کے امراض میں مفید ہیں میتھی کے بیج روزانہ 20 گرام درد رے پیس کر کھانے سے صرف دس دن کے اندر ہی پیشاب اور خون میں شکر کی مقدار کم ہو جاتی ہے اگرچہ علامات مرض میں کمی ہونے سے مریض کو خود بھی فائدے کا اندازہ ہو جاتا ہے لیکن بہتر ہے کہ ہر دس دن بعد شوگر کا باقاعدہ ٹسٹ کر وا لیا جائے شوگر کے تناسب سے میتھی کے بیج کا استعمال 100 گرام روزانہ تک بھی کیا جا سکتا ہے اس سلسلے میں میتھی کے بیج دال کی طرح یا کسی سبزی میں ملا کر پکا کے بھی استعمال ہو سکتے ہیں ۔ شوگر کے مریضوں کو میتھی کے بیج استعمال کروانے کا طریقہ یہ ہے کہ میتھی کے بیجوں کو پیس لیں اور صبح دوپہر شام 20-20 گرام سادہ پانی سے استعمال کریں۔ شوگر زیادہ ہو تو 30-30 گرام اور اگر کم ہو تو 10-10 گرام بھی صبح دوپہر شام استعمال کئے جا سکتے ہیں ۔ اس کے استعمال کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں مذکورہ بالا کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیجوں کا استعمال ذیابطیس میں انتہائی مفید ہے اس دوران چاول ، آلو ، گوبھی ، اروی کیلا اور دیگر میٹھی اشیاء سے پرہیز ضروری ہے صبح کی سیر بھی لازمی ہے اور یاد رہے کہ میتھی کے استعمال کے دوران ایلو پیتھک ادویہ استعمال ہو رہی ہو ں تو کوئی حرج نہیں ۔

 

?کیا آپ نے کبھی عرب میں پیدا ہونے والی میتھی کھائی ہے جس پر اللہ کے رسولﷺ نے شفا کی مہر ثبت فرمائی ہے اور اسکی شان افادیت میں کئی احادیث مرقوم ہوئی ہیں ۔بعض اطباء کہتے ہیں کہ اگر لوگ میتھی کے فوائد سے آشنا ہو جائیں تو سونے کے دام کے برابر اس کی قیمت دے کر اس کو خریدنے لگیں گے۔اہل عرب اسکو اسی بنا پر شوق سے کھاتے تھے۔

 

میتھی کو عربی میں حلبة کہتے ہیں۔ روایت ہے کہ ایک بار آپﷺ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓکی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو فرمایا کہ کسی ماہر طبیب کو بلا لائو  چنانچہ حارث بن کلدہ کو بلایا گیا۔ اس نے ان کو دیکھ کر کہا کہ کوئی خطرے کی بات نہیں ہے ان کے نسخہ میں میتھی کوتازہ عجوہ کھجور کے ساتھ جوش دیا جائے اور اسی کا حریرہ ان کو دیا جائے ۔چنانچہ یہی کیا گیا تو یہ شفایاب ہوگئے۔حضرت قاسم بن عبدالرحمٰنؓ سے روایت کی جاتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میتھی کے ذریعہ شفاءحاصل کرو۔
http://dailypakistan.com.pk/education-and-health/07-Jul-2017/604864

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s