کابل میں خودکش کار بم دھماکا، 35 بے گناہ افراد ہلاک،متعدد زخمی


کابل میں خودکش کار بم دہماکہ،35 بے گناہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مغربی علاقے میں ہونے والے کار بم دھماکے کے نتیجے میں35 بے گناہ  افراد ہلاک جبکہ 42 زخمی ہوگئے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترجمان نجیب دانش کا کہنا تھا کہ ‘بارود سے بھری گاڑی وزارت کان کنی کے ملازمین کو لے کر جانے والے بس سے جا ٹکرائی’۔ افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے میں کم سے کم 42 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

افغان وزارتِ داخلہ نے اسے ‘انسانیت کے خلاف جرم’ قرار دیا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے بھی اس خودکش حملے کی مذمت کی ہے۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ حملہ انٹلیجنس سروسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے میں کم سے کم 42 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق یہ ایک خود کش حملہ تھا جو شہر کے مغرب میں شیعہ آبادی والے علاقے میں ہوا ۔ سیاست داں محمد محقق کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘ہم سمجھتے ہیں کہ حملہ آور محقق کے مکان کو نشانہ بنانا چاہتا تھا لیکن محافظ نے اسے روک دیا۔

طالبان نے اس دہماکہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اگرچہ طالبان نے اس دہماکہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے مگر یہ دہماکہ حقانی نیٹ ورک کا کام دکھائی دیتا ہے۔ حقانی نیٹ ورک ایک موثر اور فعال دہشتگرد گروہ ہے جو کہ پاکستان و افغانستان کے سرحدی علاقوں میں سرگرم  ہے اوریہ پاکستان اور افغانستان کے لئے ایک صاف،واضع اور موجودہ خطرہ ہے۔

خودکش حملے،دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا خلاف شریعہ ہے۔

معصوم اور بے گناہوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔

یہ جہاد نہ ہے اور ایسے جہاد کو جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ کہا جاتا ہے کیونکہ جہاد کرنا حکومت وقت اور ریاست کی ، نا کہ کسی گروہ یا جتھے کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ مزید براں جہاد اللہ کی خاطر ، اللہ کی خوشنودی کے لئے کیا جاتا ہے ۔

جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئےہوتا ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔.حقانی نیٹ ورک کے لو گ جہاد نہ کر رہے ہیں۔ وہ اپنے اقتدار کی جنگ کر رہے ہیں۔ویسے بھی جہاد خدا کی راہ میں خدا کی خوشنودی کے لئے ہوتا ہے۔علمائے اسلام ایسے جہاد کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں اور ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوتا ہے ۔اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s