کوئٹہ میں پشین اسٹاپ کے قریب دھماکا، 15 افراد شہید


کوئٹہ میں پشین اسٹاپ کے قریب دھماکا، 15 افراد شہید

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں خودکش دہماکے کے ذریعے سیکورٹی فورسز کی گاڑی کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اب تک 15 افراد شہید جبکہ 27 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔یہ دھماکا پشین روڈ پر موجود ایک گاڑی میں ہوا ہے جس کے بعد کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔

وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دھماکا بہت بڑا تھا جس کے باعث آگ لگ گئی، زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے ذریعے سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ۔ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے 8 سے 9 افراد کی حالت تشویشناک ہے جنہیں طبی امداد دی جارہی ہے۔آگ لگنے والی گاڑیوں میں دو گاڑیاں، چار رکشے اور دو موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔ دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔کوئٹہ کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے 15 افراد میں سات شہری شامل ہیں جبکہ 25 زخمیوں میں 15 شہری شامل ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر )کے مطابق دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنا کر دھماکہ کیا ہے جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کوئٹہ دھماکہ یوم آزادی کی تقاریب کو سبوتازژ کرنے کی کوشش ہے۔ دھماکہ کوئٹہ کے حساس ترین علاقے میں ہوا تھا، جائے دھماکہ کے قریب ایف سی ہاسٹل اور بلوچستان اسمبلی ہے جبکہ اس کے قریب ایک نجی ہسپتال بھی واقع ہے ۔

دھماکہ سیکورٹی فورسز کی بس کو  نشانہ بنانے کے لئے کیا گیا ، دھماکے کے زخمیوں میں سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔دھماکے کے تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے

صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پشین سٹاپ میں گزشتہ روز ہونے والے خود کش حملہ کرنے والے کا سر مل گیا ہے ،جبکہ اس حوالے سے مزیدتفتیش جاری ہے۔دوسری طرف پنجاب سے تین رکنی فرانزک ٹیم کوئٹہ پہنچ چکی ہے،جہاںوہ خود کش حملے کی تحقیقات کرے گی۔
گزشتہ روز ہونے والے خود کش حملے میں پاک فوج کے آٹھ جوانوں سمیت پندرہ افراد شہید ہو گئے تھے جبکہ 25سے زائد افراد شدید زخمی ہوگئے تھے۔

.دہشت گردی، خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے.۔لشکر جھنگوی کی دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے. ۔ دہشتگرد ،قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ دہشتگرد ،دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ کسی بھی بے گناہ کے قتل کی اسلام میں اجازت نہ ہے۔ ایک اسلامی مملکت کے خلاف ہتھیار اٹھانا یا مسلح جدوجہد کرنے کی اسلام میں اجازت نہ ہے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔ یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ جہاد کے لئے یا دفاع کے لئے اجازت دینا صرف قانونی وجود رکھنے والی ریاست کا اختیار اوراستحقاق ہے۔ کسی سنگل فرد یا تنظیم کو ہتھیار اٹھانے کی قطعا اجازت نہ ہے۔ اسلام امن،برداشت اور بھائی چارہ کا دین ہے۔لشکر جھنگوی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ ایک خاص مائنڈ سیٹ ہے۔دہشتگردوں کا نام نہاد جہاد اسلامی جہاد کے خیال کی نفی کرتا ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔  نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔

پاکستان کا بچہ بچہ دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانے کیلئے پوری طرح پرعزم ہے۔ پاکستان کا تعلق ہے تو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے حتمی کامیابی تک ان شاء اللہ پاکستانی قوم یہ جدوجہد جاری رکھے گی اور اس کے اس عزم کو کمزور کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں بے پناہ قربانیاں دینے اور مختلف آپریشن کرنے کے باوجود کچھ عرصے کی خاموشی کے بعد دہشت گردوں کی مستقل کارروائیاں اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ ان کا نیٹ ورک اب بھی بہت مضبوط ہے جس کی سرکوبی کے لیے سول اور عسکری اداروں کو ایک پلیٹ فارم سے ان کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی۔

 

Advertisements