قربانی کی کھالیں اور دہشتگرد


قربانی کی کھالیں اور دہشتگرد

عیدالضحی کے موقع پر پاکستانی طالبان سمیت دوسری دہشت گرد تنظیمیں قربانی کی کھالوں کو اکٹھا کر کے، ان سے حاصل کردہ رقم کو ،اپنی جہادی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ قربانی کی یہ کھالیں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کیلئے فنڈز کی فراہمی و دستیابی کا بہت بڑا ذریعہ ہونگی۔

 

قربانی کی کھالیں جمع کرنے والوں میں پاکستانی طالبان ، جماعت الدعوة ، تحریک غلبہ اسلام، حرکت المجاہدین، انصار الامہ ،جیش محمد اور اہل سنت والجماعت جیسی کالعدم تنظیموں شامل ہیں جو کھالیں جمع کرنے کے بعد ٹینریز کو فروخت کر دیتی ہیں۔
مگر قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے اپنے الحاقی یا ذیلی گروہوں کے ذریعے یہ عمل سرانجام دیتی ہیں۔ جماعت الدعوة فنڈز جمع کرنے کیلئے فلاح انسانیت کی ڈھال استعمال کرتی ہے، جیش محمد الرحمت ٹرسٹ کے نام سے رسیدیں جاری کرتی ہے ، انصار الامہ الہلال ٹرسٹ کے نام سے کھالیں اکٹھی کرتی ہے جبکہ اہل سنت ال ایثار ویلفیئر ٹرسٹ کا نام استعمال کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ برس لگ بھگ دس ملین جانور قربان کئے گئے تھے اور ان کی کھالوں کی قیمت پاکستان روپے میں 35,000ملین بنتی ہے۔

عید الضحیٰ پرکالعدم تنظیموں اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں اور اداروں کی کھالیں اکھٹی کرنے پرپابندی ہو گی۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں اور مشکو ک سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں کو کھالیں اکھٹی کرنے پر پابندی عائد ہو گی اور جو تنظیمیں یا ادارے قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر سے اجازت طلب کریگی اورڈپٹی کمشنر کی اجازت کے بغیر عید قربان پرکھالیں جمع نہیں کر سکیں گے اوران افراد یا اداروں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کاروائی کی جائیگی عید الضحیٰ پر اس حکم پرعمل درآمد کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائینگے عید الضحیٰ پرکالعد م تنظیموں اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث اداروں کی تفصیلات نیکٹا اور وزارت داخلہ کی جانب سے چاروں صوبائی حکومتوں ، فاٹا سیکرٹریٹ کو ارسال کی جا چکی ہیں اور آئندہ چند روز میں اس حوالے سے باقاعدہ طورپرنئی پالیسی جاری کر دی جائیگی

دہشتگرد تنظیمیں ،اکٹھا ہونے والا روپیہ پیسہ اپنی دہشتگردانہ سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے اور اپنی طاقت بڑہانے استعمال کرتی ہیں۔ اس پیسے کے بل بوتے پر دہشتگرد اسلحہ خریدتے ہیں اور پھر خودکش حملوں اور بم دہماکے کرتے ہوئے پاکستان کے معصوم و بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ہمیں یہ سوچنا چاہئیے کہ

کیا ہم دہشتگردوں کے ہاتھوں اپنے ملک کومکمل تباہ وبرباد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر اس کوبچانا چاہتے ہیں؟

لہذا ہم سب کو چاہئیے کہ وہ اپنے قربانی کے جانوروں کی کھالیں دہشتگرد تنظیموں کو ہر گز ہر گز نہ دیں بلکہ یتم خانوں اور دوسرے مستحق اداروں اور خیراتی اداروں کو دیں اور وطن پاکستان کو دہشتگردوں سے بچانے کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔
آپ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چوکس کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی شعور بیدار کریں کہ قربانی کی کھالیں کہیں دہشت گردی کے لئے تو استعمال نہیں ہو رہی؟

 

Advertisements