باجوڑ ایجنسی میں ریموٹ کنٹرول بم حملے میں تحصیلدار سمیت پانچ اہلکار ہلاک


باجوڑ ایجنسی میں ریموٹ کنٹرول بم حملے میں تحصیلدار سمیت پانچ اہلکار ہلاک

باجوڑ ایجنسی کی تحصیل لوئی ماموند کے علاقے تنگی میں طالبان کے بم حملے میں پولیٹیکل تحصیلدار ماموند فواد علی اور 5لیویز اہلکار شہید جبکہ ایک اہلکار شدید زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق باجوڑ ایجنسی کی تحصیل لوئی ماموند کے علاقے تنگی میں سڑک کنارے نصب بم دہشت گردوں کی جانب سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اس وقت اڑا دیا گیا جب وہاں سے پولیٹیکل تحصیلدار ماموند فواد علی کا قافلہ گزر رہا تھا جس کی زد میں آکر فواد علی اور ان کے ساتھ سکیورٹی پر مامور 5 لیویز اہلکار شہید جبکہ ایک اہلکار شدید زخمی ہوگیا۔ پولیٹیکل حکام کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا اور دہشت گردوں کا ہدف پولیٹیکل تحصیلدار فواد علی ہو سکتے ہیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جنہوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور نعشوں اور زخمی اہلکار کو ہسپتال منتقل کیا۔ ذرائع کے مطابق واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے ارد گرد کے علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے اور اس دوران متعدد مشکوک افراد کو حراست میں بھی لے لیا۔ تحریک طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ترجمان طالبان محمد خراسانی کا کہنا تھا ہمارا مشن لا دین جمہوری سسٹم کا خاتمہ کرنا اور اسلامی نظام لانا ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان نے دھماکے کی مذمت کی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ملکر دہشت گردی کے عفریت کو شکست دینی ہے۔ دشمن پاکستان میں معاشی و اقتصادی ترقی نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پوری انسانیت کے دشمن ہیں اور قوم ملک سے دہشت گردی و انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے پرعزم اور متحد ہے۔شہید ہونیوالوں میں تحصیلدار فواد علی، لیویز اہلکار معتبر، برادر، جان محمد، ڈرائیور یوسف اور رشید زمان شامل ہیں۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوگئی۔ دریں اثناءشہید ہونیوالے پولیٹیکل تحصیلدار اور لیویز اہلکاروں کی نماز جنازہ سول کالونی خار میں ادا کی گئی ۔ اس سے قبل شہید ہونیوالے پولیٹیکل تحصیلدار اور لیویز اہلکاروں کو لیویز فورس کے چاق وچوبنددستے نے سلامی پیش کی ۔ سابق صدر آصف علی ز رداری نے باجوڑ میں ہونے والی دہشتگردی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سابق ایم این اے اور پارٹی کے رہنما اخونزادہ چٹان کو فوری طور پر شہداءکے ورثاءکے پاس پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ شدت پسند اور دہشتگرد ملک اور قوم کے دشمن ہیں نہ صرف دہشتگردوں بلکہ منصوبہ سازوں کا صفایا ضروری ہوگیا ہے۔ قائم مقام صدر میاں رضا ربانی کی جانب سے باجوڑ بم دھماکے کی شدید مذمت کی اور شہداءکے بلندی درجات کے لیے دعا کی۔ قائم مقام صدر میاں رضا ربانی نے کہا کہ دہشت گردی جیسے ناسور پر متحد ہو کر قابو پایا جا سکتا ہے۔  شہید ہونیوالوں میں تحصیلدار فواد علی، لیویز اہلکار معتبر، برادر، جان محمد، ڈرائیور یوسف اور رشید زمان شامل ہیں۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوگئی۔ دریں اثناءشہید ہونیوالے پولیٹیکل تحصیلدار اور لیویز اہلکاروں کی نماز جنازہ سول کالونی خار میں ادا کی گئی ۔ اس سے قبل شہید ہونیوالے پولیٹیکل تحصیلدار اور لیویز اہلکاروں کو لیویز فورس کے چاق وچوبنددستے نے سلامی پیش کی ۔ نما ز جنازوں میں سیکٹر کمانڈرنارتھ بریگیڈئےر عامر کیانی، پولیٹیکل ایجنٹ باجوڑ انجینئر عامر خٹک، اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ خار عارف خان ، اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ ناوگئی انورالحق، سرکاری حکام، لیویز اہلکاروں، قبائلی عمائدین اورمختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے بڑ ی تعداد میں شرکت کی۔ سابق صدر آصف علی ز رداری نے باجوڑ میں ہونے والی دہشتگردی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سابق ایم این اے اور پارٹی کے رہنما اخونزادہ چٹان کو فوری طور پر شہداءکے ورثاءکے پاس پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ شدت پسند اور دہشتگرد ملک اور قوم کے دشمن ہیں نہ صرف دہشتگردوں بلکہ منصوبہ سازوں کا صفایا ضروری ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی شہداءکے ورثاءکے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے شہداءکے بلند درجات کے لئے دعا بھی کی۔ قائم مقام صدر میاں رضا ربانی کی جانب سے باجوڑ بم دھماکے کی شدید مذمت کی اور شہداءکے بلندی درجات کے لیے دعا کی۔ قائم مقام صدر میاں رضا ربانی نے کہا کہ دہشت گردی جیسے ناسور پر متحد ہو کر قابو پایا جا سکتا ہے۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/national/18-Sep-2017/664146

دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔

دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ دہشتگرد ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں.  ان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔

انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔  نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ کیا طالبان نے رسول اکرم کی یہ حدیث نہیں پڑہی، جس میں کہا گیا ہے کہ  ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے“ہمارا مذہب اسلام امن کا درس دیتا ہے، نفرت اور دہشت کا نہیں۔

Advertisements