جھل مگسی کے درگاہ فتح پورمیں خودکش دھماکا، 22افراد جاں بحق


جھل مگسی کے درگاہ فتح پور میں خودکش دہماکہ،22 افراد جان بحق

بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں درگاہ فتح پور میں خود کش دھماکے کے نتیجے میں 22 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جھل مگسی میں واقع درگاہ فتح پور کے مرکزی دروازے پر دھماکا ہوا۔بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ کے مطابق پولیس نے خود کش حملہ آور کو درگاہ کے اندر جانے سے روکا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل شہید ہوا۔

دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے درگاہ کو گھیرے میں لے لیا جبکہ امدادی ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

دھماکے کے بعد ڈیرہ مراد جمالی اورسبی کے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق زخمیوں کی تعداد 40 سے زائد ہوچکی ہے جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ جمعرات کا دن ہونے کی وجہ سے درگاہ میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ درگاہ میں عرس جاری تھا اور اسی دوران دھماکا ہوا۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

https://www.express.pk/story/954845

درگاہ میں جمعرات کا روز ہونے کی وجہ سے معمول سے زیادہ لوگ موجود تھے جبکہ دھماکا درگاہ فتح پور شریف کے مرکزی دروازے پر دھمال کے وقت ہوا۔پولیس حکام کے مطابق ایک خود کش حملہ آور درگاہ کے اندر گھسنے کی کوشش کر رہا تھا ، جسے پولیس اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی اسی کوشش کے دوران اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، زخمی اور ہلاکتوں میں اضافے کا خطرہ ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ مرنے والوں میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔

گنداوہ ہسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر رخسانہ مگسی نے بتایا کہ ہسپتال میں 15 لاشیں لائی گئیں۔

اس دہماکہ کی ذمہ داری اسلامک سٹیٹ( داعش) نے قبول کی  ہے۔

اسلام میں خودکش حملے حرام، قتل شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اوربدترین جرم ہے، مزاروں، تعلیمی اداروں، مارکیٹوں، پولیس، سرکار ی افسروں اور سکیورٹی فورسز پر حملے فساد ہیں۔  بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے سپاہی نہیں اسلام کے غدار اور پاکستان کے باغی ہیں، دہشت گرد فساد فی الارض کے مجرم اور جہنمی ہیں۔

بے گناہ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے انسانیت اور اسلام کے دشمن ہیں۔یہ عوام میں خوف وہراس پیدا کرکے ملک میں انارکی پھیلانے کی کوشش ہے۔ بچوں کا قتل خلاف شریعہ ہے۔

مزارات صرف امن ومحبت اور بقائے باہمی کی علامت ہی نہیں بلکہ کئی غریبوں کا گھر بھی ہیں، جہاں انہیں کھانا اور رہائش بھی ملتی ہے ، ایسی جگہوں پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کا کوئی دین، مذہب اور نظریہ نہیں ہوتا ،وہ  انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔ دہشت گردی اور دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کے خلاف پوری قوم متحد ہے،ان دہشت گردوں کی ہمارے معاشرے، مذہب اور ثقافت میں کوئی جگہ نہیں۔ دہشت گرد انسانیت اورامن کے دشمن ہیں ۔دہشتگردوں کا کوئی دین ومذہب نہیں ، ان شدت پسندوں کی دہشتگردانہ کارروائیوں سے کوئی شہری بھی محفوظ نہیں۔ جب تک دہشتگردوں کو کیفرکردارتک پہنچا یا نہیں جاتا اس وقت تک ملک میں امن و استحکام ممکن نہیں۔

خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں خودکشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل

 اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔  داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔داعش  کے پیروکار ایسے نظریے کے ماننے والے ہیں جس کی مسلم تاریخ میں مثال نہیں ملتی، داعش کے ارکان کا تعارف صرف یہی ہے کہ وہ ایسے مجرم ہیں جو مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنیوالے نادان اوربے خبرہیں۔ اسلام میں بچوں اور عورتوں کا قتل حالت جنگ میں بھی منع ہے۔

Advertisements