صومالیہ ٹرک حملے میں ہلاکتیں 300 ہوگئیں


صومالیہ ٹرک حملے میں ہلاکتیں 300 ہوگئیں

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ہفتے کے روز ہوٹل کے قریب ٹرک بم حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 300 ہوگئی جب کہ آرمی چیف اور وزیردفاع نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے ‘رائٹر’ کے مطابق موغادیشو کی ایمبولینس سروس کے ڈائریکٹر عابد قادر عبدالرحمان نے ٹرک حملے میں 300 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جب کہ انہوں نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

عابد قادر کے مطابق حملے کی زد میں آنے والے کئی افراد اب بھی لاپتہ ہیں جب کہ مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج زخمیوں میں سے بھی بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔

دوسری جانب صومالیہ کے وزیر اطلاعات عبدالرحمان عثمان نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کو موغادیشو کے مصروف علاقے میں ٹرک بم حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 275 ہوگئی جب کہ 300 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

سماجی رابطہ سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں وزیر اطلاعات نے حملے کو بربریت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکی، ایتھوپیا اور کینیا سمیت مختلف ممالک کی جانب سے میڈیکل تعاون کی پیشکش کی ہے۔

دوسری جانب صدر محمد عبداللہ محمد فارماجو نے قومی سطح پر تین دن تک یوم سوگ کا اعلان کیا ہے اور اس دوران تمام سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں رہیں گے۔

صدارتی آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد کبھی کامیاب نہیں ہوں گے جب کہ انہوں نے عوام سے متاثرہ افراد کے لئے دعاؤں کی اپیل کی ہے۔

ادھر اب تک کسی بھی گروپ کی جانب سے ٹرک حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی جب کہ آرمی چیف اور وزیر دفاع نے کسی بھی وضاحت کے بغیر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔

http://urdu.geo.tv/latest/173949-

دھماکےمیں قمیتی انسانی جانوں کے ضیاع پرصومالیہ کے صدر محمد عبداللہ نے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے ملک میں 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ صدرمحمد عبداللہ نے زخمیوں کیلئے خون کا عطیہ دینے کی بھی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قوم کو دہشت گردوں کے خلاف متحدہونا پڑے گا، دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونےدیں گے۔الشباب پر حملہ کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ ٹرک حملہ خودکش تھا۔

خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں حرام ہیں اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔الشباب کےدہشتگرد قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔الشباب خونی قاتل ،بھیڑئیے اور ٹھگ ہیں۔ بے گناہ اور معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔

Advertisements