کوئٹہ چرچ پر خود کش حملہ ، 9افراد جاں بحق ، 50زخمی


کوئٹہ چرچ پر خود کش حملہ ، 9افراد جاں بحق ، 50زخمی

   کوئٹہ میں دی میتھوڈسٹ گرجا گھر پر دہشت گردوں کا حملہ 2 خواتین سمیت9افراد جاں بحق ،خواتین اور بچوں سمیت 50 افراد زخمی ہوگئے جن میں کئی کی حالت تشویشناک ہے ۔

چرچ پر حملے کے بعد سول ہسپتال کوئٹہ سمیت تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ۔دہشت گردوں نے اس وقت چرچ پر حملہ کیا جب وہاں دعائیہ تقریب ہو رہی تھی ۔پولیس سمیت دیگر سکیورٹی فورسز نے بروقت کا رروائی کر تے ہوئے ایک دہشت گرد کو مرکزی دروازے پر مار گرایا دوسرے دہشت گرد نے اندر جا کر خود کو دھماکہ سے اڑا دیا جبکہ 2 حملہ آور فرار ہو گئے ۔واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے چرچ کو کلیئر کر دیا گیا خواتین ، مردوں اور بچوں کو چرچ سے باہر نکال دیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے زرغون روڈ پر ریڈ زون کے قریب واقع دی میتھو ڈسٹ گھر جا گھر پر اتوار کے روز دہشت گردوں نے اس وقت حملہ کیا جب مسیحی برادری کے افراد کرسمس کی تیاریوں کے سلسلے میں عبادت اور دعائیہ تقریب میں مصروف تھے تو دہشت گردوں نے مین گیٹ پر چوکیدار کو تیز آلہ سے ہلاک کر دیا جس کے بعد دہشت گرد اندر داخل ہونے کی کوشش کی جس پر سیکورٹی فورسز نے بروقت کا رروائی کر تے ہوئے ایک دہشت گرد کو مرکزی گیٹ پر مار دیا جبکہ دوسرے کو زخمی کر دیا جس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں2 خواتین سمیت8افراد آکاش، مہک سہیل، چوکیدر گورج ، فضل، آزاد جاں بحق ہو گئے جبکہ 45 افراد شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا جن میں سے کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔ آئی جی بلوچستان معظم جاہ انصاری نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ خودکش حملہ آوروں کی تعداد 4تھی جن میں ایک دہشت گرد چرچ کے مرکزی دروازے پر مارا گیا جب کہ دوسرے نے احاطے میں خود کو دھماکے سے اڑایاجبکہ دو فرار ہو گئے جن کی تلاش جاری ہے آئی جی کے مطابق چرچ میں تقریبا 400 افراد موجود تھے، اگر دہشت گرد چرچ کے اندر پہنچ جاتے تو بہت بڑا نقصان ہوسکتا تھا تاہم سکیورٹی فورسز نے فرائض انجام دیتے ہوئے قوم کو بڑے سانحہ سے بچالیا۔

برطانوی خبررساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق شدت پسند تنظیم داعش کی اعماق نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری آن لائن بیان میں کوئٹہ میں چر چ پر ہونے والے دہشتگرد حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ داعش کے 2ارکان نے حملہ کیا تاہم دعوے کے حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے ۔

خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں خودکشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہےداعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔

عورتوں اور بچوں کا قتل خلاف شریعہ ہے۔۔معصوم و بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘ (المائدة، 5 : 32

 

Advertisements