کوئٹہ میں خود کش حملہ، 5 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد شہید اور 25 زخمی


کوئٹہ میں خود کش حملہ، 5 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد شہید اور 25 زخمی

بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ایک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بن گیا ،صوبائی اسمبلی کے قریب زرغون روڈ پر بلوچستان کانسٹیبلری کے ٹرک پر خود کش حملے میں 5اہلکاروں سمیت 6افراد شہید اور 25 زخمی ہوگئے ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق خود کش حملہ آور پیدل تھا اور صوبائی اسمبلی کی طرف جانا چاہتا تھا ،راستہ نہ ملنے پر خود کو کانسٹیبلری کے ٹرک کے قریب دھماکے سے اڑالیا۔

آئی جی بلوچستان معظم جاہ انصاری کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پورس سے دہشت گرد داخل ہوکر اہداف کو نشانہ بناتے ہیں ،آج کا حملہ آور بھی سرحد پار سے آیا ہوگا۔

حکام کا کہنا تھا کہ بلوچستان اسمبلی خود کش حملہ آور کا ہدف تھی،لیکن راستہ نہ ملنے پر اس نے بلوچستان کانسٹیبلری کے ٹرک کو نشانہ بنایا،ساتھ میں چلنے والی مسافر بس بھی دہشت گردی کے واقعے کی لپیٹ میں آئی۔

حکام کے مطابق دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کے اثرات دور تک محسوس ہوکیے گئے،دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کو سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا ،جہاں 6 زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق خود کش حملہ آور کی عمر 15سے 20 سال کے درمیان تھی،جس نے دہشت گردی کی اس واردات میں 8 سے 10 کلو بارودی مواد استعمال کیا۔

دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کوئٹہ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

وزیراعظم نے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بزدلانہ کارروائیاں دہشتگردی کے خلاف قومی عزم متزلزل نہیں کرسکتیں۔

بلوچستان اسمبلی کے قریب زرغون روڈ پر ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔

غیر ملکی صحافی ایف جیفری کے مطابق تحریک طالبان پاکستان نے کوئٹہ کے علاقے زرغون روڈ پر جی پی او چوک میں ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، ٹی ٹی پی کے مطابق یہ حملہ ایک خودکش حملہ آور کے ذریعے کیا

https://dailypakistan.com.pk/09-Jan-2018/710211

خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں خودکشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں.

طالبان دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ دہشتگرد ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں. ان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔
طالبان دہشت گرد فساد فی الارض کے مجرم اور جہنمی ہیں۔ ۔اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام . ے۔خودساختہ تاویلات کی بنیاد پر مسلم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا اسلامی شریعہ کے مطابق درست نہ ہے ۔

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s