دہی کے فوائد


دہی کے فوائد

دہی دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی مقبول ترین غذاﺅں میں سے ایک ہے۔عصر حاضر میں دہی کا استعمال بہت عام ہے۔ دہی پاکستان کے ہر حصے میں روز مرہ کے کھانوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ہاضمہ آور ہونے کے ساتھ ساتھ جسم کی حرارت کو بھی برقرار رکھتا تھا۔ مغل بادشاہ کے ہنرمند باورچیوں نے دہی سے اس قدر عمدہ رائتے بنائے جس کا مفصل ذکر جہانگیر کے عہد میں لکھے ایک نسخے ‘ایوان نعمت’ میں ملتا ہے۔

کیلشیم سے بھرپور ، پروٹین اور پروبائیوٹک سے لیس دہی دودھ سے بنے والی ایک بہترین غذا ہے ۔ اسے ڈیری پراڈکٹس کا سپر ہیرو بھی کہا جاسکتا ہے ۔ کھانے میں اس کا استعمال عام ہے۔ اسے سادہ بھی کھایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ سلاد کی ڈریسنگ اور مشروب کے طور پر بھی دہی کو بہت پسند کیا جاتا ہے ۔ دہی گرمیوں سردیوں ہر موسم میں ہی استعمال کیا جاتا ہے ۔ دہی سے جسم کو بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ ایک مکمل غذا ہے ۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دودھ سے بھی زیادہ فائدے مند ہے ۔دہی صدیوں سے انسانی غذا کا حصہ رہا ہے۔

دہی ہزار بیماریوں کا علاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمانۂ قدیم سے لے کر آج تک دہی ہمارے ساتھ ہے۔ نہ صرف پیر بلکہ جواں سال بھی اسے بڑے چاؤ سے کھاتے ہیں۔ اس میں کیلشیم، فولاد، زنک، پوٹاشیم، فاسفورس، میگنیشیم پایا جاتا ہے جو انسانی جسم کی صحت کے لیے ضروری عناصر ہیں۔

دہی میں موجود کیلشیم اور فاسفورس ہڈیوں اور دانتوں کو مظبوط کرتا ہے ۔ ڈھائی سو گرام دہی میں 275 ملی گرام کیلشیئم موجود ہوتا ہے، کیلشیئم نہ صرف ہڈیوں کی موٹائی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ انہیں مضبوط بھی بناتا ہے۔ کیلشیم اور فاسفورس ہڈیوں اور دانتوں کے لیے بے حد ضروری ہے ۔ دہی کا مستقل استعمال آسٹوپروسس اور گٹھیا جیسے مرض کے خطرات سے محفوظ رکھتا ہے ۔

دہی میں موجود کیلشیم جسم میں کارٹیسول بننے سے روکتا ہے۔ کارٹیسول کی وجہ سے ہائپر ٹینشن اور موٹاپے جیسے مسائل پیش آتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر روزانہ اٹھارا اونس دہی کھایا جائے تو اس سے پیٹ کی چربی گھلتی ہے ۔ جسم میں کیلشیم فیٹس کے خلیات میں سے کارٹیسول کے اخراج کو روکتا ہے جس انسان کا وزن نہیں بڑھتا ۔

دل کی صحت کے لیے دہی کا استعمال بے حد مفید ہے ۔ دہی جسم میں کولیسٹرول کو کنٹرول کرتا ہے ۔ یہ ہائپر ٹٰنشن اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض سے بھی بچاتا ہے۔

Advertisements