رائے ونڈ میں پولیس چیک پوسٹ کے قریب خودکش حملہ، 5 اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید


رائے ونڈ میں پولیس چیک پوسٹ کے قریب خودکش حملہ، 5 اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید

لاہورکے علاقے رائے ونڈ میں اجتماع گاہ کے قریب پولیس چیک پوسٹ پر خود کش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید ہوگئے۔دھماکے کے نتیجے میں 13 پولیس اہلکاروں سمیت 25 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق اجتماع گاہ کے باہر قائم پولیس چیک پوسٹ کے قریب رات تقریباً 8 بجکر 45 منٹ پر اس وقت دھماکا ہوا جب چیک پوسٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں کی ایک ٹیم اپنی شفٹ ختم کرکے جارہی تھی اور ڈیوٹی پر آنے والی دوسری ٹیم کو اے ایس پی زبیر نذیر بریفنگ دے رہے تھے۔

پولیس کے مطابق جس وقت اے ایس پی زبیر نذیر بریفنگ دے رہے تھے اسی وقت موٹرسائیکل پر سوار خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

پولیس حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملہ آور نے تین سے چار کلو بارودی مواد خود کش جیکٹ میں لگایا ہوا تھا۔

دھماکے کے مقام سے مشتبہ دہشت گرد کے جسم کے اعضاء بھی مل گئے ہیں جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے لیب بھجوادیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیر لیا اور شواہد اکھٹے کیے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 25 افراد زخمی ہوئے جن میں اے ایس پی سمیت 13 پولیس اہلکار شامل ہیں۔

خیال رہے کہ دھماکا رائے ونڈ میں اجتماع گاہ کے قریب ہوا جہاں تبلیغی جماعت کا سالانہ اجتماع جاری ہے۔

صدر ممنون حسین نے رائے ونڈ میں دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔انہوں نے متعلقہ اداروں کو زخمیوں اور متاثرین کی ہرممکن مدد کرنے کی ہدایت کی۔صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم نے بے پناہ قربانیاں دے کر دہشتگردوں کو شکست دی ہے اور اس قسم کی بزدلانہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے رائے ونڈ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

حکومت پنجاب کی جانب سے سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہیدوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

شہباز شریف نے بھی خود اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ پولیس کے بہادر جوانوں نے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں کی قربانی دی جن پر قوم کو فخر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز اور قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

سابق صدر آصف زرداری نے بھی رائے ونڈ میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے منصوبہ سازوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آصف زرداری نے کہا ہے کہ پولیس کے جوانوں نے ہمیشہ دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملائے اور دہشت گردی کی نرسریاں تباہ کرنا امن کے لیے ضروری ہے۔

شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف زرداری نے دھماکے میں زخمی ہونے والے پولیس افسران اور جوانوں کی صحت یابی کی دعا بھی کی۔

https://urdu.geo.tv/latest/181350-

کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے برطانوی خبررساں ایجنسی کے صحافی کو بھیجے گئے واٹس ایپ پیغام میں حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

https://jang.com.pk/news/463132

تحریک طالبان پاکستان نے خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ خودکش بمبار نے پولیس حکام کو نشانہ بنانے کے لیے بم موٹر سائیکل میں نصب کیا تھا۔

https://www.dawnnews.tv/news/1075089/laor-mi-khodksh-dmaka-8-afrad-shid

رائیونڈ میں تبلیغی مرکز کے قریب خود کش حملے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید اور 35 زخمی ہوگئے تھے اور اب اس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرلی ۔ کالعدم تنظیم کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ’تحریک طالبان پاکستان کے استشہادی مجاہدیعقوب غازی نے آج عشاء کے بعدلاہور کے علاقے رائیونڈ روڈ پر واقع پولیس چوکی پر حملہ کیا، یہ کارروائی ، پنجاب میں ہمارے بے شمار ساتھیوں کی ہلاکت کے انتقام کی ایک کڑی ہے،حکومت اور سیکیورٹی ادارے مزید کے انتظار میں رہیں۔

https://dailypakistan.com.pk/15-Mar-2018/748134

دہشتگردی، بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی اسلامی شریعہ میں اجازت نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں ۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چند دہشت گردوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مسلمانوں اور اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔طالبان جہاد نہ کر رہے ہیں بلکہ اپنے اقتدار کے لئے لڑ رہے ہیں۔

اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔ دہشت گرد طاقت کے بل بوتےپر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان اور پاکستانی عوام پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں ۔

طالبان پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ ہیں۔ طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ایک اسلامی مملکت کے خلاف ہتھیار اٹھانا یا مسلح جدوجہد کرنے کی اسلام میں اجازت نہ ہے۔ جہاد کے لئے یا دفاع کے لئے اجازت دینا صرف قانونی وجود رکھنے والی ریاست کا اختیار اوراستحقاق ہے۔ کسی سنگل فرد یا تنظیم کو ہتھیار اٹھانے کی قطعا اجازت نہ ہے۔ خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔بدلہ لینا جہاد نہ ہوتا ہے۔ طالبان کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب تک 102.51ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے۔ طالبان انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں اور ٖصرف نام کے مسلمان ہیں ۔ ان کے اعمال اسلام کے خلاف ہیں۔اسلام کو اپنے سیاسی مقاصد اور اقتدار کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

Advertisements