کابل میں سخی مزار کے قریب خود کش حملہ ،29افراد ہلاک 52 زخمی


کابل میں سخی مزار کے قریب خود کش حملہ ،29افراد ہلاک 52 زخمی

افغانستان کے دارالخلافہ کابل میں فارسی نئے سال کی خوشی میں معروف بزرگ سخی کے مزار پر منعقد تقریب پر خودکش حملے کے نتیجے میں 29 افراد ہلاک ہوگئے۔ کابل میں مشہور مزار سخی کے مزار کے باہر دھماکا اس وقت ہوا جب لوگ نوروز منارہے تھے۔ داعش نے اپنے میڈیا ونگ عمق کے ذریعے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

دوسری جانب طالبان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر حملے میں ملوث ہونے سے انکار کردیا۔ وزارت داخلہ کی ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا تھا کہ وزارتِ داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی نے بتایا کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 40 منٹ پر ہوا۔۔ انھوں نے بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور پیدل چلتا ہوا آیا اور وہ مزار کے اندر موجود افراد کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

نائب ترجمان کا کہنا تھا کہ اپنے ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی سکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ آور کو روکا تو اُس نے کابل یونیورسٹی کے نزدیک علی آباد ہسپتال کے قریب اُس نے اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔

حکام نے اب تک اس حملے میں 29 افراد کی ہلاکت اور 52 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور نوروز کی تقریب کو نشانہ بنانا چاہتا تھا تاہم سیکورٹی اہلکاروں کے روکے جانے پر اس نے خود کو اڑالیا۔دھماکے کے فوری بعد ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا۔

وزارت صحت نے 29 ہلاکتوں اور 52 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ خیال رہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش اس سے قبل بھی کئی مزاروں کو نشانہ بنا چکی ہے۔ کابل کے سخی مزار کا شمار شہر کے بڑے مزاروں میں ہوتا ہے۔

اس سے قبل بھی سخی مزار پر یومِ عاشورہ کے موقع ہونے والے دھماکے میں درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

داعش کے خودکش حملے،دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا .معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب خلاف شریعہ ہے۔ علمائے اسلام ایسے جہاد کوفی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ کہتے ہیں۔ خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔بدلہ لینا جہاد نہ ہوتا ہے۔  داعش جہاد نہ کر رہے ہیں بلکہ اپنے اقتدار کے لئے لڑ رہے ہیں۔

جہاد کے لئے یا دفاع کے لئے اجازت دینا صرف قانونی وجود رکھنے والی ریاست کا اختیار اوراستحقاق ہے۔ کسی سنگل فرد یا تنظیم کو ہتھیار اٹھانے کی قطعا اجازت نہ ہے۔

اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہ.یں داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔

انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔

Advertisements