مفتی نور ولی محسود تحریکِ طالبان پاکستان کے نئے امیر مقرر


مفتی نور ولی محسود تحریکِ  طالبان پاکستان کے نئے امیر مقرر

کالعدم دہشتگرد تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے اپنے سربراہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے نور ولی محسود کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ۔

افغان اور پاکستانی حکام ملا فضل اللہ کی ہلاکت کا دعوی کر رہے تھے جس کی تصدیق طالبان نے ہفتے کو ایک بیان میں کی ہے۔بیان کے مطابق تنظیم کی رہبری شوریٰ نے کثرت رائے سے مفتی نورولی محسود کو تحریک طالبان پاکستان کا مرکزی امیر اور مفتی مزاحم المعروف مفتی حفظہ اللہ کو نائب امیر مقرر کیا ۔

نور ولی محسود کو رواں برس فروری میں خالد سجنا کی ہلاکت کے بعد حلقہ محسود کے شدت پسندوں کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔ مفتی نور ولی سابق امیر بیت اللہ محسود کے قریبی ساتھی تھے اور ماضی میں تحریک کی اہم ذمہ داریاں سنبھالتے آ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چالیس سالہ مفتی نور ولی نے طالبان کی تاریخ پر ایک کتاب بھی تحریر کی تھی جس میں کئی اہم انکشافات جیسے کہ بینظیر کے قتل میں ٹی ٹی پی کا ہاتھ اور فنڈنگ کہاں کہاں سے ہوتی تھی سامنے آئے ہیں۔

مفتی نور ولی محسود کے بقول اس کا مقصد یہ تھا کہ شدت پسند ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ سکیں اور انھیں مستقبل میں نہ دہرائیں۔ ایک اور وجہ ان کے بقول تجزیہ نگاروں، محققین اور مورخین کی ‘تصحیح’ کی جاسکے۔

کتاب میں مفتی نور ولی نے اعتراف کیا تھا کہ طالبان گروہ اور تنظیمیں ماضی میں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے تحریک ہی کی چھتری تلے ڈاکہ زنی، بھتہ خوری، اجرتی قتال جیسی کارروائیوں میں ملوث رہیں۔

کتاب میں اپنی ذرائع آمدن کے بارے میں تحریک نے بتایا کہ سال 2007 میں جنوبی وزیرستان میں اہلکاروں کے علاوہ مختلف قسم کے اسلحے اور گاڑیوں سے لیس ایک فوجی قافلے کے اغوا کے واقعے کے بعد حکومت سے ایک معاہدے کے تحت یہ سب کچھ مبینہ طور پر چھ کروڑ روپے کے بدلے واپس لوٹائی گئی تھیں۔

طالبان نے ان فوجیوں کو کئی ماہ تک اپنی حراست میں رکھا تھا اور بات چیت کے نتیجے میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ اس وقت اس رہائی اور سامان کی واپسی پر کسی رقم کا کسی نے کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ اس بارے میں فوج سے رابطہ کیا گیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔  اس وقت طالبان کے رہنما حکیم اللہ محسود نے ان اغوا شدہ فوجیوں میں سے چند سے ملنے کی اجازت بھی دی تھی۔

نور ولی محسود جنوبی وزیرستان کے علاقے تیارزہ میں پیدا ہوئے اور وہ فیصل آباد، گوجرانوالہ اور کراچی کے مختلف دیو بندی مدارس میں زیر تعلیم رہ چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جب پاکستانی افواج نے آپریشن ضربِ عضب شروع کیا تو مفتی نور ولی محسود نے اس محاذ میں پاکستانی افواج کے خلاف لڑائی میں شرکت کی۔سنہ 2014 میں امریکی ڈرون نے جنوبی وزیرستان کے علاقے سروکئی میں نور ولی محسود کے ایک ٹھکانے کو بھی نشانہ بنایا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے اور آٹھ طالبان مارے گئے تھے۔

پاکستانی انٹیلیجنس کے ذرائع نے بتایا تھا کہ 13 جون کو ملا فضل اللہ کنّڑ کے ضلع مروارہ میں واقع بچائی مرکز میں منعقدہ افطار پارٹی میں گئے تھے۔ اطلاعات تھیں کہ رات دس بج کر 45 منٹ پر جب وہ اپنی گاڑی میں بیٹھے تو اس پر ڈرون حملہ ہوا۔ اس وقت ان کے ہمراہ ان کے تین ساتھی بھی موجود تھے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے جن کی لاشیں جل گئیں اور انھیں 13 جون کی شب  کوبچائی میں سپردِ خاک کر دیا۔

شدت پسندی پر کام کرنے والے بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نور ولی محسود کی امیر مقرر ہونے کے بعد محسود طالبان ایک بار پھر متحرک ہو سکتے ہیں اور ان کی کوشش ہو گی کہ ناراض دھڑوں کو منا کر تنظیم کو مضبوط بنایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ تنظیم اس طرح تو دوبارہ فعال نہیں ہو سکتی جسے 11 سال پہلے تھی لیکن ہر نیا مقرر ہونے کے بعد اپنی کارکردگی دیکھانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔

تاہم وزیرستان کے ایک سینئیر صحافی سلیم محسود اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کی بیشتر اہم قیادت کی ڈرون حملوں میں ہلاکت کے بعد یہ تنظیم کافی حد تک کمزور ہوچکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شاید ملافضل اللہ کی موجودگی کی وجہ سے تنظیم میں کسی حد تک اتحاد برقرار تھا لیکن ان کے ہلاکت کے بعد اب یہ خطرہ بڑھے گا کہ ان سے چند کمانڈر الگ ہو کر دولت اسلامیہ کے ساتھ مل جائے کیونکہ افغانستان میں ان کا اثر رسوخ تیزی سے بڑھتا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جہاں تک ان کا خیال ہے کہ ٹی ٹی پی میں اختلافات کی وجہ سے شاید اب وہ طاقت باقی نہیں رہی جو پہلے تھی لہذٰا عسکری تنظیموں میں یہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے کہ جہاں پلڑا بھاری ہوتا ہے لوگ اس طرف نکل سکتے ہیں۔

ملا فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد پاکستانی طالبان میں نہ صرف قیادت کا بحران پیدا ہو گیا بلکہ  صدیوں پرانی دشمنیاں بھی ابھرنے لگی ہیں،جس کی وجہ سے یہ گروہ ایک مضبوط، مربوط  و متحرک گروپ کی حیثیت کھو بیٹھا ہے اور طاقت  کے حصول کے لیے ایک نئی رسہ کشی  کا آغاز ہوگیا ہے،جس سے تحریک طالبان کی طاقت کو زبردست دہچکا لگنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

اس دہشت گرد تنظیم کا کمزور قیادتی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ چکا ہے اور نئے سربراہ کو منتخب کرنے سے  کی اندرونی رسہ کشی نے گروپ کے حوصلے مزید پست کر دیے  ہیں۔

نور ولی محسود افغان طالبان سے قربت رکھتا ہے اور اسے حقانی نیٹ ورک کی حمایت بھی حاصل ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کی ایک عشرے سے جاری پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں 70 ہزاربے گناہ افراد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دہشت گرد پاکستان کو شدید مالی نقصان پہنچا رہے ہیں جس کے بارے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے  خصوصی طور پر بتایا ہے۔ ایس بی پی نے کے مالی سال کے لیے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ 2002 سے اب تک، انتہاپسندانہ تشدد سے ملک کو118.3 بلین ڈالر 12.4 (ٹریلین روپے) کا بلواسطہ اور بلاواسطہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

تمام طالبان ایک جیسے وحشی اور خونخوار درندے ہیں جن کے ہاتھوں پر معصوم اور بیگناہ افراد ، عورتوں اور بچوں کا خون ہے اور جو جنگ و جدال اور خونخواری اور تباہی و بربادی کے دلدادہ ہیں۔طالبان انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں اور ٖصرف نام کے مسلمان ہیں ۔ ان کے اعمال اسلام کے خلاف ہیں۔اسلام کو اپنے سیاسی مقاصد اور اقتدار کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔طالبان کا نام نہاد جہاد اسلامی جہاد کے اصولوں کے منافی ہے اور یہ اپنے اقتدار کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔

یہ کالعدم گروپ اپنی پر تشدد سرگرمیوں اور بے گناہ لوگوں کو ہلاک کرنے کے دعوٰ ٰی سے دستبردار  نہ ہوا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والےان مسلح گروہوں کا اکٹھ ہے جنہوں نے افغانستان پر امریکی حملے کے بعد دیوبندی مفتی نظام الدین شامزئی صاحب کے فتوے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے ۔ان گروہوں کوہمیشہ دیوبندی مکتب فکر کے جید مفتیان کرام کی پشت پناہی حاصل رہی ہے

دہشت گردی کی وارداتوں کے علاوہ تحریک طالبان کے افراد مختلف جرائم میں ملوث رہتے ہیں جن میں اغوا برائے تاوان، سمگلنگ اور بینک ڈکیتی وغیرہ شامل ہیں۔

Advertisements