پشاور میں اے این پی کے جلسے میں خود کش دھماکہ ،ہارون بلور سمیت 21 افراد شہید ،75 سے زائد زخمی


پشاور میں اے این پی کے جلسے میں خود کش دھماکہ ،ہارون بلور سمیت 21 افراد شہید ،75 سے زائد زخمی

پشاور کے علاقے یکہ توت میں اے این پی کے زیر اہتمام کارنر میٹنگ جاری تھی کہ اچانک ہونیوالے خودکش بم دھماکے سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہارون بلور سمیت 21 افراد شہید جبکہ 75 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

زور دار دھماکے سے پورے علاقے میں افراتفری پھیل گئی ،دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ امدادی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ،پاک فوج کی ٹیمیں بھی جائے وقوع پر پہنچ گئی ہیں۔ہارون بلور کی نماز جنازہ آج شام 5 بجے آبائی علاقے وزیر باغ میں ادا کی جائے گی جس کے بعد انہیں قبرستان وزیرباغ میں ہی دفنایا جائے گا۔

عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ میں خودکش حملے اور ہارون بلور سمیت کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرلی ہے ۔

اپنے ایک بیان میں تحریک طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی اور دعویٰ کیا کہ تحریک طالبان پاکستان کےعبدالکریم نے گزشتہ رات  فدائی حملہ کیا،جس میں وہ بھی مارا گیا۔ ترجمان نے آئندہ بھی عوامی نیشنل پارٹی کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی اور عوام کوخبردار کیا ہے کہ  اے این پی کے دفاتر اور ان کے لوگوں سے دور رہیں ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 2012ءمیں شہید ہارون بلور کے والد اور سابق صوبائی وزیربشیراحمد بلور بھی طالبان کے ایک خودکش حملے میں شہید ہوچکے ہیں۔

https://dailypakistan.com.pk/11-Jul-2018/812037

پشاور کے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران ہونے والے خودکش بم دھماکے کا ایک اور زخمی لیڈی ریڈنگ اسپتال میں دم توڑ گیا جس کے بعد اس سانحے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 22 ہو گئی۔

https://jang.com.pk/news/519835

رپورٹس کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام انتخابی کارنر میٹنگ جاری تھی کہ زور دار بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں پارٹی امیدوار ہارون بلورسمیت21افراد شہید ہوگئے جبکہ75 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ، کارنر میٹنگ کے دوران ہارون بلور کارکنوں سے خطاب کرنے کیلئے سٹیج کی جانب جارہے تھے کہ اس موقع پر ایک 24سالہ لڑکے نے ان کے قریب خود کو دھماکے سے اڑادیا, دھماکہ کے نتیجے میں ہار ون بلور شہید ہوگئے ,بلور خاندان نے بھی ہارون بلور کے شہید ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں اور زخمی اور شہید ہونیوالوں کوہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے اور پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذکردی گئی ہے۔پولیس کے مطابق خو د کش حملہ آور کارنر میٹنگ میں پہلے سے موجود تھا اور جونہی خطاب کےلئے ہارون بلو ر کا نام پکارا گیا اس نے ہارون بلور کے قریب آکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق حملہ خودکش دھماکہ تھا۔پولیس کے مطابق خود کش حملہ آور کارنر میٹنگ میں پہلے سے موجود تھا اور اس نے دھماکا اس وقت کیا جب ہارون بلور کی آمد پر آتش بازی کی جا رہی تھی۔دوسری طرف سی سی پی او پشاور قاضی جمیل نے کہا کہ واقعہ 11 بجے کے قریب پیش آیا جس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔قاضی جمیل نے بم ڈسپوزل یونٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں 8 کلو ٹی این ٹی کا استعمال کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہارون بلور کی سیکیورٹی پر دو پولیس اہلکار مامور تھے۔

گزشتہ روز عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ کے دوران ہونےوالے خودکش حملے میں شہید ہونےوالے 10 افراد کی اجتماعی نماز جنازہ اداکردی گئی ہے جبکہ دہشتگردی کے واقعے کے بعد شہر کی فضا سوگوار ہے۔

نگران وزیراعظم ناصرالملک اور متعدد سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے پشاور دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’شہید بشیر بلور کے بیٹے کی شہادت پر سب وطن پرست غمگین ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جمہوریت پسندوں پر دہشتگرد حملے بہت بڑی سازش ہے اور دہشتگرد کسے کو انتخابات سے باہر کرنا چاہتے ہیں یہ ظاہر ہو رہا ہے۔

طالبان کی پاکستانکے عوام اور مسلم ریاست کی افواج اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف جنگ اسلام کے سراسر منافی ہے۔ دہشت گردی و انتہاء پسندی، انسانیت کا قتل عام، خود کش حملے، ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت، علاقوں پر مسلح افراد کا قبضہ اور مسلم ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد پر مبنی افکار و نظریات کے حامل لوگوں کا چھوٹا سا اقلیتی گروہ اور جس کا اسلام کی حقیقی فکر سے کوئی تعلق نہیں اور یہ اسلام کو بدنام کرنے اور اس کے تابناک چہرے کو داغدار کرنے کی گہری سازش کا حصہ ہے ملک میں ۔حالیہ دہشت گردی کے سنگین واقعات کا تسلسل قوم کی سیاسی، عوامی، مذہبی اور عسکری قیادت سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

طالبان جمہوریت کے دشمن ہیں، انتخابات کے موقع پر طالبان کی دہشتگردی اور عوامی نیشنل پارٹی کو اپنی انتخابی مہم نہ چلانے دینا ،جمہوریت کی نفی ہے ۔ طالبان نے جمہوریت پر ایک کاری ضرب لگائی ہے۔

مٹھی بھر شر پسند عناصر کے عمل سے پاکستان کااسلام پر امن امیج دنیا کے سامنے دھندلا گیا ہے۔ تنگ نظر اور محدود فکر کو شریعت کے نام پر مسلط کرنے والوں نے وطن عزیز کو بدامنی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ پاکستان کو عالمی طور پر تنہا اور جنوبی ایشیاء میں اس کی مؤثر اور مضبوط حیثیت کو کمزور کرنے کے لیے اندرونی و بیرونی سازشیں عروج پر ہیں اور بندوق کے زور پر اپنی نام نہاد فکر کو 20 کروڑ عوام پر مسلط کرنے کے لیے ملک کا امن تاراج کیا جارہا ہے۔

اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان،لشکر جھنگوی اور دوسری کالعدم جماعتیں اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔مذہب، عقیدے اور کسی نظریے کی بنیاد پر قتل وغارت گری اور دہشت گردی ناقابل برداشت ہے ۔جسکی اسلام سمیت کسی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں۔

جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)

دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری بقا کی جنگ ہے اور یہ صرف  اور صرف ہمیں ہی لڑنی اور جیتنی ہے، اور کو ئی درمیانی آپشن موجود نہ ہیں اور نہ ہی  شکست کوئی آپشن  ہے۔

مذہبی انتہا پسندی، تشدد اور دہشت گردی پاکستانی ریاست اور معاشرہ کے لئے بڑے خطرے ہیں۔ اگر ان کی روک تھام کی طرف مکمل توجہ نہ دی گئی تو پاکستان ایک غیر موثر ریاست بن جائے گا اور معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا۔

Advertisements