مستونگ: انتخابی ریلی پر خود کش حملے میں سراج رئیسانی سمیت 149 بے گناہ افراد ہلاک


مستونگ: انتخابی ریلی پر خود کش حملے میں سراج رئیسانی سمیت 149 بے گناہ افراد ہلاک

ضلع مستونگ میں ایک انتخابی جلسے پر ہونے والے خود کش حملے میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار سراج رئیسانی سمیت کم از کم 149 افراد ہلاک اور 186 زخمی ہو گئے۔

ضلع مستونگ میں جمعہ کو ہونے والا خود کش حملہ ہلاکتوں کے حوالے سے بلوچستان میں سب سے بڑا حملہ ہے۔

سراج رئیسانی کے بھائی اور سابق سینیٹر لشکری رئیسانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے بھائی کی موت کی تصدیق کی ہے۔ جب سٹیج سیکریٹری نوابزادہ سراج رئیسانی کو خطاب کے لیے بلاتا ہے تو لوگ کھڑے ہوکر ان کا استقبال کرتے ہیں۔نوابزادہ سراج رئیسانی کے خطاب کے آغاز کے پندرہ سے بیس سیکنڈ کے بعد دھماکہ ہوتا ہے۔

دھماکے سے قبل براہوی زبان میں وہ صرف اتنا بول سکے کہ ‘بلوچستان کے بہادر لوگو’۔

سول ہسپتال کوئٹہ میں زخمی ہونے والے ایک زیر علاج شخص نے بتایا انتخابی جلسے کے لیے سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات نہیں تھے۔

 

نوابزادہ سراج رئیسانی کے خاندان کو بلوچستان کے قبائلی اور سیاسی سیٹ اپ میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔

ضلع مستونگ کے ڈپٹی کمشنر قائم خان لاشاری نے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ یہ دھماکہ کوئٹہ سے تقریباً 35 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں کوئٹہ تفتان شاہراہ کے قریب واقع درینگڑھ کے علاقے میں ہوا۔

جب دھماکہ ہوا تو بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ اسلم رئیسانی کے بھائی اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ بی پی 35 سے امیدوار سراج رئیسانی ایک انتخابی جلسے میں شرکت کر رہے تھے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ نے بم ڈسپوزل سکواڈ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ خود کش حملہ تھا جس میں آٹھ سے دس کلوگرام بال بیئرنگ استعمال کیے گئے جس کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔دولتِ اسلامیہ کی نیوز ایجنسی عماق کے مطابق مستونگ میں ہونے والے اس حملے میں خود کش جیکٹ کے ذریعے دھماکہ کیا گیا۔

جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے اعداد و شمار اکٹھی کرنے والی ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سات بچے بھی شامل تھے۔

مستونگ خود کش دھماکے کو پاکستان کی تاریخ کے چند بڑا سانحات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

داعش کے خودکش حملے ،دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا .معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا,خودکش حملے کرنا،قتل و غارت کرنا خلاف شریعہ ہے۔ اسلام میں خودکشی حرام ہے۔علمائے اسلام ایسے جہاد کوفی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ کہتے ہیں۔اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہ.یں داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔بچوں کا ناحق قتل خلاف شریعہ ہے۔

 

Advertisements