خودکش حملے میں پی ٹی آئی امیدوار اکرام اللہ گنڈاپور جاں بحق


خودکش حملے میں پی ٹی آی امیدوار اکرام اللہ گنڈاپور جانبحق

تحریک انصاف کے صوبائی نشست کے لیے امیدوار اور سابق صوبائی وزیر اکرام اللہ خان گنڈا پور خودکش حملے میں شہید ہوگئے۔

پی ٹی آئی اکرام خان گنڈاپورپی کے 99 میں انتخابی جلسے میں شرکت کیلئے آرہے  تھے کہ اسی دوران ان کی گاڑی کے قریب ایک خودکش حملہ آیا اور خود کو دھماکے سے اڑا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا جبکہ پی ٹی آئی رہنما اور پولیس اہلکاروں سمیت متعدد زخمی ہو گئے جن کوطبی امداد کیلئے مقامی ہسپتال پہنچایاگیا ۔ ڈی پی او کے مطابق کلاچی میں ہونے والا دھماکاخود کش تھا،دھماکے میں زخمی اکرام خان گنڈاپور کوہیلی کاپٹر کے ذریعے سی ایم ایچ پشاورمنتقل کردیا گیاجہاں وہ وفات پا گئے۔

انتخابی مہم میں مصروف سابق صوبائی وزیر سردار اکرام اللہ خان گنڈہ پوراور ان کے ساتھیوں پر خودکش حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کرلی اور بتایا کہ حملہ ان کے ایک ذیلی گروپ کے جنگجو نے کیا۔

میڈیا ہاﺅسزکو جاری بیان میں کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بتایاکہ ٹی ایس جی گروپ سے تعلق رکھنے والے جنید نے سابق وزیرزراعت اکرام اللہ خان گنڈاپور پرحملہ کیا جس میں وہ ساتھیوں سمیت زخمی اور بعدازاں شہید ہوگیا۔طالبان ترجمان نے دعویٰ کیا کہ طالبان جنگجوؤں کو مارنے کا بدلہ لینے کیلئے حملہ کیا۔

خودکش حملے میں شہید ہونے والے تحریک انصاف کے امیدوار اکرام اللہ گنڈا پور کی نماز جنازہ ادا کردی گئی جب کہ واقعے کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں پی ٹی آئی امیدوار سردار اکرام اللہ خان گنڈا پور کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں پی ٹی آئی کارکنان سمیت علاقہ مکین اور گنڈاپور برادری کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد اکرام اللہ گنڈاپور کی تدفین ان کی رہائشگاہ میں ہی کردی گئی ہے۔

طالبان جمہوریت کے دشمن ہیں، انتخابات کے موقع پر طالبان کی دہشتگردی اور تحریک انصاف کو اپنی انتخابی مہم نہ چلانے دینا ،جمہوریت کی نفی ہے ۔ طالبان نے جمہوریت پر ایک کاری ضرب لگائی ہے۔

طالبان کے  خودکش حملے، دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے.بم دہماکے کرنا ، قتل و غارت کرنا اور دہشتگردی کا ارتکاب کرنا ،خلاف شریعہ ہے۔طالبان جہاد نہ کر رہے ہیں بلکہ اپنے اقتدار کی جنگ کر رہے ہیں۔
یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں ۔اسلام امن،برداشت اور بھائی چارہ کا دین ہے۔ طالبان کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ ایک خاص مائنڈ سیٹ ہے ۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا . اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہ دیتا ہے۔

طالبان، دہشت گرد ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔مذہب، عقیدے اور کسی نظریے کی بنیاد پر قتل وغارت گری اور دہشت گردی ناقابل برداشت ہے ۔جسکی اسلام سمیت کسی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں۔

جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)

 

Advertisements