افغانستان میں عید الاضحی کے موقع پر جنگ بندی


افغانستان میں عید الاضحی کے موقع پر جنگ بندی

عید الفطر پر افغان طالبان اور حکومت کے درمیان جنگ بندی کا تجربہ اچھا ثابت ہوا، لہذا امید کی جاتی  ہے کہ عیدالاضحی کے مبارک موقع  پر بھی طالبان جنگ بندی کے لئے رضامند ہو جائیں گے اور یہ جنگ بندی زیادہ عرصہ کے لئے ہونی چاہئیے تاکہ ایک لمبے عرصہ سے جنگ کے شکار ،افغان عوام کو امن و سکون کے لمحات میسر ہوں۔

طویل خانہ جنگی کے بعد جنگ بندی کے لئےدونوں فریقوں کا تیار ہونا ایک اچھا شگون ہو گا۔ اس جنگ بندی کے موقع پر فریقین کو امن مزاکرات کی طرف پیش رفت بھی کرنی چاہئیے۔ کیونکہ امن مذاکرات ہی ملک سے خونریزی کے خاتمے اور امن کا واحد راستہ ہے۔ دونوں فریقوں کی جنگ کے میدان میں تندی و تیزی کےباوجود اس تنازع کا سیاسی حل ہی موزوں ترین حل سمجھا جاتا ہے کیونکہ جنگ مسائل کا حل نہ ہے۔

افغانستان میں ہر روز بم دھماکے ہو رہے ہیں اور بے گناہ اور معصوم مرد ، عورتوں اور بچوں کا ناحق قتل ہورہا ہے اور ملک کو تباہ کیا جا رہا ہے اور اس طرح ملک بجائے آگے بڑہنے کے پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔

طالبان کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہئیےکیونکہ تشدد و دہشت گردی سے لوگوں کو اپنے ساتھ نہ ملایا جاسکتا اور نہ ہی لوگوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں اور نہ ہی جنگ، خودکش حملوں، دہماکوں ،بے گناہوں مرد ،عورتوں اور بچوں کا قتل عام  سے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔مذاکرات اور پر امن جمہوری جدوجہد سے ہی مسائل کا دیر پا اور پر امن حل نکالا جانا ممکن ہے ۔
دنیا بھر میں آج تک صرف اور صرف پر امن جمہوری تحریکیں ہی کا میابی سے ہمکنار ہوئی ہیں۔ اسلام کا طریقہ بھی یہ ہی ہے اور اسلام امن کو جنگ پر ترجیح دیتا ہے۔

قران حکیم کی سورۂ انفال میں ہدایت کی گئی ہے ’’اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہو تو تم بھی اس کے لئے آمادہ ہوجاؤ، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، بے شک اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لئے اللہ ہی کافی ہے‘‘یعنی اللہ کے نزدیک صلح و آشتی اتنی پسندیدہ چیز ہے کہ دشمن سے دھوکے کا اندیشہ ہو تب بھی اللہ کے بھروسے پر صلح کے راستے کو ترجیح دینے کو کہا گیاہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام جو امن و سلامتی کا دین ہے، حتی الامکان خونریزی کو روکنا چاہتا ہے اور کوئی دوسری صورت باقی نہ رہنے کی شکل ہی میں مسلح جنگ کی اجازت دیتا ہے۔
اگر مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کا کوئی حل نکل سکتا ہے تو افغان حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن ہمیں زمینی حقائق کا ادراک ہونا چاہئیے اور ان حقائق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے خون خرابہ ختم ہو گا اور ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے اور افغان طالبان قومی سیاسی دھارے میں بھی آ سکتے ہیں اور پر امن افغانستان ترقی کرے گا اور خطے میںامن و استحکام آئے گا ۔مگر طالبان کو بھی امن  کے حصول کے لئے کچھ قدم آگے بڑھنا ہو گا۔

دنیا بھر میں آج تک صرف اور صرف پر امن جمہوری تحریکیں ہی کا میابی سے ہمکنار ہوئی ہیں۔ طالبان سے مزاکرات کے معمولات نہایت سخت اور پیچیدہ ہیں اور یہ کو ئی آسان کام نہ ہے اور نہ ہی کسی کے ہاتھ میں جادو کی چھڑی ہے جس سے الجھے ہوئے مسائل کا حل چٹکی بھر میں ہو جائے گا۔مذاکرات تعطل کا شکار بھی ہو سکتے ہیں لیکن مذاکرات کو کامیاب بنانے کی کوشش جاری رہنی چاہئے ۔مستقل مزاجی اور مصمم ارادہ سے ہر کام ممکن ہےاور مشکل سے مشکل اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.