قربانی کی کھالیں اور دہشتگرد


قربانی کی کھالیں اور دہشتگرد

پاکستان میں ہر سال عید الضحیٰ کےموقع پر اربوں روپے مالیت کے جانور قربان کیے جاتے ہیں۔امسال بھی پاکستان  میں بڑے پیمانے پرجانور قربان کئے جانے کی توقع ہے۔ اس سال پاکستان میں 90 لاکھ کے قریب جانور وں کی قربانی کی جائے گی جبکہ اس کا تخمینہ 361ارب روپے کے قریب لگایا جارہاہے۔  55 لاکھ کے قریب گائے اونٹ جبکہ 35 لاکھ کے قریب بکرے اورد نبے وغیرہ قربان کیے جائیں گے  ۔ان جانوروں کی کھالیں بھی ثواب کی نیت سے لوگ مختلف امدادی تنظیموں، دینی مدارس اور یتیم خانوں کو دیتے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند سالوں میں مختلف جہادی اور شدت پسند تنظیموں بھی کھالیں اکٹھی کرنے کے کام میں پیش پیش ہیں۔

عیدالضحی کے موقع پر پاکستانی طالبان سمیت دوسری دہشت گرد تنظیمیں قربانی کی کھالوں کو اکٹھا کر کے، ان سے حاصل کردہ رقم کو ،اپنی جہادی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ قربانی کی یہ کھالیں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کیلئے فنڈز کی فراہمی و دستیابی کا بہت بڑا ذریعہ ہونگی۔ قربانی کی کھالیں جمع کرنے والوں میں پاکستانی طالبان ، جماعت الدعوة ، تحریک غلبہ اسلام، حرکت المجاہدین، انصار الامہ ،جیش محمد اور اہل سنت والجماعت جیسی کالعدم تنظیموں شامل ہیں جو کھالیں جمع کرنے کے بعد ٹینریز کو فروخت کر دیتی ہیں۔

ادہروزارت داخلہ نے عوام سے کہاہے کہ وہ کالعدم یا زیر نگرانی تنظیموں کو قربانی کی کھالیں نہ دیں کیونکہ ایسا کرنے کی صوررت میں قید یا جرمانہ کی سزا ہوسکتی ہے۔

وزارت داخلہ کی جا نب سے جا ری کر دہ بیان میں کہا گیا کہ جن کالعدم اور زیر نگرانی تنظیموں کو قربانی کی کھالیں دینے سے اجتناب کا کہا گیا ہے کہ ان میں لشکر جھنگوی،سپاہ محمد، جیش محمد، لشکرطیبہ، سپاہ صحابہ پاکستان، تحریک جعفریہ پاکستان، تحریہ نفاذ شریعت محمد، تحریک اسلامی، القاعدہ، ملت اسلامیہ پاکستان، خدام اسلام ،اسلامی تحریک پاکستان، جمعیت الانصار، جمعیت الفرقان، حزب التحریر، خیرالناس انٹرنیشنل ٹرسٹ، بلوچستان لبریشن آرمی، اسلامک سٹوڈنٹس آف پاکستان، لشکر اسلام، انصار السلام، حاجی نامدار گروپ ، تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان ریپلکن آرمی، بلوچستان لبریشن فرنٹ، لشکر بلوچستان، بلوچستان لبریشن یونائٹڈ، بلوچستان مسلح دفاع تنظیم، شیعہ طلبہ ایکشن کمیٹی گلگت، مرکز سبیل آرگنائزیشن گلگت، تنظیم نوجوان اہلسنت، پیپلز امن کمیٹی( لیا ری)کراچی، اہل سنت والجماعت، الحرمین فانڈیشن، رابطہ ٹرسٹ، انجمن امامیہ گلگت بلتستان، مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن گلگت، تنظیم اہل سنت الجماعت گلگت، بلوچستان بنیاد پرست آرمی، تحریک نفاذ الامن، تحفظ حدود اللہ، بلوچستان واجہ لبریشن آرمی، بلوچ ریپلکن پارٹی آزاد، بلوچستان یونائٹڈ آرمی، اسلام مجاہدین، جیش اسلام، بلوچستان نیشنل لبریشن آرمی، خانہ حکمت گلگت بلتستان گلگت ،تحریک طالبان سوات، تحریک طالبان مہمند، طارق کیدر گروپ، عبداللہ اعظم بریگیڈ، ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ ، اسلامک موومنٹ آف پاکستان، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، اسلامک جہاد یونین، 313 بریگیڈ ، تحریک طالبان باجوڑ، امر بالمعروف ونہی المنکر (حاجی نامدار گروپ )، بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن آزاد، یونائٹڈ بلوچ آرمی، جئے سندھ متحدہ محاذ، داعش، آئی ایس آئی ایل ، آئی ایس /آئی ایس، آئی ایس،جماعت الاحرار، لشکر جھنگوئی العالمی، انصار الحسین، تحریک آزادی جموں وکشمیر، الاختر ٹرسٹ، الرشید ٹرسٹ، جماعت الدعو، فلاح انسانیت فانڈیشن، غلامان صحابہ اور معمار ٹرسٹ سمیت 71 تنظیمیں شامل ہیں۔ عوام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل ایکٹ 1948 میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997کے تحت قرار دی گئی کالعدم یا زیر نگرانی تنظیموں کی کسی بھی قسم کی معاونت، مالی امدادیا سہولیات فراہم کرنا قانونا جرم ہے جس کی سزا قید یا جرمانہ ہوسکتی ہیں۔

مگر قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے اپنے الحاقی یا ذیلی گروہوں کے ذریعے یہ عمل سرانجام دیتی ہیں۔ جماعت الدعوة فنڈز جمع کرنے کیلئے فلاح انسانیت کی ڈھال استعمال کرتی ہے، جیش محمد الرحمت ٹرسٹ کے نام سے رسیدیں جاری کرتی ہے ، انصار الامہ الہلال ٹرسٹ کے نام سے کھالیں اکٹھی کرتی ہے جبکہ اہل سنت ال ایثار ویلفیئر ٹرسٹ کا نام استعمال کرتی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کے ارکان مختلف علاقوں میں گھوم پھر کر اپنے ہم خیال لوگوں کو اس بات پر تیار کرتے ہیں کہ وہ جہاد کے فلسفے کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کی کھالیں انہیں عطیہ کریں۔ یہ تنظیمیں پمفلٹ اور بینرز کے ساتھ ساتھ جمعہ کے اجتماعات میں بھی اپنی مہم چلاتے ہیں۔اور اکٹھا ہونے والا روپیہ پیسہ اپنی دہشتگردانہ سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے اور اپنی طاقت بڑہانے استعمال کرتی ہیں۔ اس پیسے کے بل بوتے پر دہشتگرد اسلحہ خریدتے ہیں اور پھر خودکش حملوں اور بم دہماکے کرتے ہوئے پاکستان کے معصوم و بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ہمیں یہ سوچنا چاہئیے کہ

کیا ہم دہشتگردوں کے ہاتھوں اپنے ملک کومکمل تباہ وبرباد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر اس کوبچانا چاہتے ہیں؟

یقیننا تمام پاکستانی، اپنے وطن پاکستان سے محبت رکھتے ہیں۔ لہذا ہم سب کو چاہئیے کہ وہ اپنے قربانی کے جانوروں کی کھالیں دہشتگرد تنظیموں کو ہر گز ہر گز نہ دیں بلکہ یتم خانوں اور دوسرے مستحق اداروں اور خیراتی اداروں کو دیں اور وطن پاکستان کو دہشتگردوں سے بچانے کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔
آپ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چوکس کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی شعور بیدار کریں کہ قربانی کی کھالیں کہیں دہشت گردی کے لئے تو استعمال نہیں ہو رہی۔

Advertisements