ایف سی کے تربیتی مرکز پر حملہ ، 4 سکیورٹی اہلکار شہید،4 دہشت گرد ہلاک


ایف سی کے تربیتی مرکز پر حملہ ، 4 سکیورٹی اہلکار شہید،4 دہشت گرد ہلاک

لورالائی میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک تربیتی مرکز پر حملے کی کوشش ناکام بنادی ہے اور چار حملہ آور دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے جبکہ ان کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں چار سکیورٹی اہلکار شہید اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ادارے آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک اعلان میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے بلوچستان کے علاقے لورالائی میں ایف سی کے تربیتی مرکز کے انتظامی اور رہائشی احاطے پر حملہ کیا۔

داخلی دروازے پر موجود اہل کاروں نے ان کی کوشش ناکام بنا دی۔ اپنی ناکامی کے بعد دہشت گرد اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے چیک پوائنٹ سے ملحق ایک احاطے میں گھس گئے جسے سیکیورٹی فورسز نے فوراً محاصرے میں لے لیا گیا

بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے دہشت گرد رہائشی علاقے میں داخل ہونے میں ناکام رہے ۔اس کارروائی میں چار دہشت گرد ہلاک ہو گئے جن میں ایک خودکش بمبار بھی شامل ہے۔

فائرنگ کے تبادلے میں ایک صوبیدار میجر سمیت چارسیکیورٹی اہل کار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک طالبان کے ترجمان محمد خراسانی کی طرف سے میڈیا کے لیے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آج صبح تقریباً چار بجے کے قریب تحریک طالبان پاکستان کے ٹی ایس جی گروپ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے لورالائی کینٹ پر حملہ کیا۔

لڑائی تقریباً آٹھ گھنٹوں تک جاری رہی۔ اس وقت تک کے اطلاعات کے مطابق دسیوں اہل کار جبکہ بیسیوں مزدور فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پاکستانی طالبان کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیا سال منانے والوں کے لیے نئی پالیسی کے ساتھ تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے ایسی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اس سے قبل کی خبروں میں عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے گئے۔

حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان محمد خراسانی نے ایک نیوز ایجنسی کے دفتر فون کرکے قبول کر لی ہے۔

دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ دہشتگرد ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں. ان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔
دہشتگردی اوربم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے.دہشت گرد ان دہماکوں سے پاکستان کو تباہ اور پاکستانی شہریوں کو بلا دریغ ہلاک کر رہے ہیں۔ طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں.مسلم ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والوں کو کچلنااسلامی شریعہ کے مطابق احسن طریقہ ہے ،دہشت گردوں کے خلاف جہاد میں حکومت سے تعاون ہرشہری کا فرض ہے. مارکیٹوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے جہاد نہیں فساد ہیں۔ دہشت گرد فساد فی الارض کے مجرم اور جہنمی ہیں۔ خودساختہ تاویلات کی بنیاد پر مسلم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا اسلامی شریعہ کے مطابق درست نہ ہے ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.