دہشتگردی اور اسلام


دہشتگردی اور اسلام

طالبان کو علم ہونا چاہئیے کہ اسلام امن و سلامتی اور محبت و مروت کا دین ہے۔ انسانی جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ شریعت اسلامی کے اہم مقاصد میں سے ہے۔ کسی بھی انسان کی ناحق جان لینا یا اسے اذیت دینا فعل حرام ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ انسان مسلم ہے یا غیر مسلم۔

دہشت گردی کے موجودہ واقعات میں ملوث خود کش بمبار قتل اور خود کشی جیسے دو حرام امور کے مرتکب ہوکر صریحا کفر کر رہے ہیں۔ اپنی بات منوانے اور دوسروں کے موقف کو غلط قرار دینے کے لیے اسلام نے ہتھیار اٹھانے کی بحائے دلیل، منطق، گفت و شنید اور پرامن جد و جہد کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ جو لوگ اس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ بالعموم جہالت اور عصبیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بغاوت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مسلم ریاست کے خلاف بغاوت فتنہ و فساد اور محاربت کے زمرے میں آتی ہے، جس کی حرمت قطعی پر اجماع امت ہے۔ مسلم حکومت میں نظمِ ریاست اور ہیئت اجتماعی کے خلاف ہتھیار اٹھانا ’’خوارج‘‘ کا کام ہے ۔ عہد حاضر کے دہشت گرد بھی درحقیقت انہی خوارج کا تسلسل ہیں۔ لہٰذا ان کی سرکوبی اور مکمل خاتمے کے لیے بھی اسی طرح اقدامات ضروری ہیں جس طرح قرون اُولیٰ میں اٹھائے گئے تھے۔( ڈاکٹر طاہر القادری)