اسلام میں انفرادی جہاد کا تصور


اسلام میں انفرادی جہاد کا تصور
اسلام میں انفرادی طور پر جہاد کا کوئی تصور نہ ہے اور نہ ہی اسلام انفرادی جہاد کی اجازت دیتا ہے۔طالبان اورانفرادی جہاد کے پرچارک اسلامی شریعہ کے منافی اقدامات کرنے کے مرتکب ہیں ۔

جہاد شروع کرنے کی ڈیوٹی ریاست کی ہےاور قانونی ریاست کو جہاد کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔ انفرادی حملہ آورکس طرح بھی مقصد کے حصول میں مدد نہ کر سکتے ہیں۔ جو وہ کرتے ہیں لوگوں کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ وہ طالبان کے خلاف دلوں کو سخت کر دیتے ہیں۔ وہ یہ نہ سوچیں کہ تشدد خدا کا فضل لائے گا؟ یہ صرف خدا کا غضب لاتا ہے۔
امام کعبہ شیخ صالح بن عبداللہ نے کہاہے کہ انفرادی اور تنظیمی جہاد کی کسی بھی صورت میں کوئی گنجائش نہیں ۔ یہ اسلامی حکومتوں کی ذمہ داری ہے خواہ وہ کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو ں ۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کے زیادہ نقصانات ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ جہاد اسلام کی چھت ہے اور حدیث کے مطابق یہ قیامت تک جاری رہے گا۔ لیکن جہاد ایک منظم حکمران کے زیر سایہ ہی ہو سکتا ہے اوراگر کوئی اس سے ہٹ کر جہاد کرے گا تو وہ ناکام ہوگا اور یہ تنظیمیں ناکام اس لئے ہی ہوئی ہیں اور داعش اس کی ایک مثال ہے ۔
اسلام میں کہیں بھی ایسے جہاد کا ذکر نہیں جو بےگناہوں کی گردنیں کاٹنے اور لوگوں کے خودکش بمبار بننے کی حمایت کرتا ہو، نام نہاد جہادی و طالبان ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے درمیان فساد فی الارض برپا کرنےکے ذمہ دار ہیں۔ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر جہاد کا ذکر ہے اور نبی کریم کے ارشادات کی روشنی میں جہاد کے پانچ مراحل ہیں جن میں روحانی، علمی، معاشرتی، سیاسی، سماجی اور دفاعی جہاد شامل ہے. پاکستانی طالبان اور دوسرے نام نہاد جہادی پہلے چار مراحل کو نظر انداز کر کے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اسلام دشمنی میں آخری مرحلے کو پکڑ کر بیٹھے ہیں۔ حالانکہ آخری مرحلے پر عمل صرف دفاعی صورت میں کیا جا سکتا ہے جس کی اجازت کسی جماعت یا تنظیم کو نہیں بلکہ صرف حکومت وقت کو ہے اور اس کی شرائط میں بھی دشمن کی خواتین، بوڑھوں، بچوں، سکولوں، چرچوں اور ہسپتالوں کو تحفظ کی ضمانت حاصل ہوتی ہے۔ ویسے بھی قتال کی بڑی سخت شرائط ہوتی ہیں۔ لفظِ جہاد کو ہمیشہ اور ہر جگہ قتال کے معنی میں کیوں لیا جاتا ہے؟ یہ جہاد کا بالکل غلط تصور ہے جو قرآن اور اِسلام کی واضح منشا کے سراسر خلاف ہے۔