سری لنکا میں ہلاکتوں کی تعداد 300 ہو گئی، 24 ملزمان گرفتار


سری لنکا میں ہلاکتوں کی تعداد 300 ہو گئی، 24 ملزمان گرفتار

سری لنکا میں مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر ہونے والے  بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 300 ہوگئی ہے، سیکیورٹی اداروں کو ان دھماکوں میں انٹرنیشنل نیٹ ورک کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا میں گزشتہ روز ہونے والے 8 بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 300 ہوگئی ہے اور 500 افراد زخمی ہیں۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ یہ بم دھماکے 3 چرچوں اور 3 ہوٹلوں پر کیے گئے جب کہ ایک ایک دھماکا دوسرے مقامات پر ہوئے۔

ملک میں ایک بار پھر کرفیو نافذ کردیا ہے جو رات 8 بجے تک جاری رہے گا، وزیر صحت اور کابینہ کے ترجمان نے بم حملوں میں ’انٹرنیشنل نیٹ ورک‘ کے ملوث ہونے کے شواہد ملنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام خود کش بمبار سری لنکا کے شہری ہی تھے۔ تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

گزشتہ روز پہلے دارالحکومت کولمبو سمیت 2 شہروں نیگمبو، بٹّی کالؤا کے تین گرجا گھروں میں دھماکے ہوئے۔ اس کے بعد کولمبو میں تین ہوٹلوں دی شینگریلا، سینامن گرانڈ اور کنگز بری کو بم حملوں کا نشانہ بنایا گيا۔

https://www.express.pk/story/1641421/10/

مذہب و اخلاق کی رو سے انسانی جان کو ہمیشہ حرمت حاصل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں پوری صراحت کے ساتھ حکم دیا ہے کہ کوئی شخص کسی کو قتل نہ کرے، قتل شرک کے بعد سب سے بڑا جرم ہے۔ شرک کے بعد سنگین ترین جرم ناحق قتل ہے، چنانچہ کسی کو قتل کرنا باعثِ خسارہ، اور دائمی جہنمی بننے کا سبب ہے۔ کسی کو قتل کرنا انسانیت کی تذلیل، قاتل و مقتول کیلئے ظلم اور زمین میں فساد کا باعث ہے، اس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلتا ہے، اور آبادیوں کی آبادیاں تباہ، اور زندگی اجیرن ہو جاتی ہے، قتل کی وجہ سے قاتل کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی درد ناک عذاب سے دو چار ہونا پڑتا ہے، قتل کے باعث مقتول کے ورثاء اور دیگر افراد کے حقوق تلف ہو جاتے ہیں، اسی کی وجہ سے امن و امان داؤ پر لگ جاتا ہے۔قتل بدترین جرم، اور قاتل بد ترین مجرم ہے۔عبادت گاہوں پر حملے غیر اسلامی اور غیر اخلاقی ہیں۔