اسلام اور احترام انسانیت


اسلام  اور احترام انسانیت

شریعتِ اسلامی کی رُو سے ہر انسان مکرم اور معزّز ہے۔ ‘اسلام میں انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے، اس کے احترام و اکرام کی تعلیم دی گئی، انسان ہونے کے ناطے اسے پوری کائنات پر فضیلت و برتری عطا کی گئی ۔ اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب یا تہذیب میں انسانیت نوازی اور عام انسانوں پر رحم و کرم کا وہ تصور نہیں ملتا،جو اسلام نے پیش کیا ہے۔

اسلام نے احترام انسانیت کا نہ صرف درس دیا، بلکہ اس پر انتہائی عمل پیرا ہونے کا حکم بھی دیا۔ اسلام نے انسانوں کی دل آزاری سے اجتناب برتنے اور حقوق انسانی کے تحفّظ پر انتہائی زور دیا ہے۔ احترام کی صفت اسلامی اخلاقیات میں سے ایسی خوبی ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ ربط اور تعلق کی بنیاد ہے۔

 اسلام احترامِ انسانیت اور امن و سلامتی کا علم بردار ہے۔انسان دوستی اور احترام انسانیت دین اسلام کا امتیاز اور بنیادی شعار ہے ،جس کے بغیر احترام انسانیت اور امن و سلامتی کا تصور بھی محال ہے۔ رسول اللہ ؐ كے عطا كرده حقوق اللہ وحقوق العباد كے فلسفہ وحكمت سے يہ امر واضح ہے كہ يہ ہی نظام، عدل، وانصاف كا حامل ہے جو معاشرے كو امن وآشتى كا گہواره  بناتے ہوئے ايك فلاحى مملكت كى حقيقى بنياد فراہم كرتا ہے۔در حقيقت رسول اللہ ؐكے نظام حقوق وفرائض، انسانى حقوق كا ايك بے مثال عالمى چارٹر ہے۔ اور جسے انسانى حقوق كى پہلى دستاويز يا منشور  ہونے كا شرف  بھى حاصل ہے۔ اسلام نے ہمیشہ محبت و اخوت اور اعتدال وتوازن کا درس دیا ہے۔ انتہا پسندی ایک ایسی اصطلاح ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں بلکہ یہ دین کی حقیقی تعلیمات، اسلام کے پیغام امن وسلامتی اور پیغمبر رحمت، محسن انسانیت کے اسوہ حسنہ کے بالکل منافی ہے۔ قرآن مجید نے انتہا پسندی کے مقابلے میں اعتدال پسندی کو مستحسن عمل اور دین کی روح قرار دیا ہے۔

اسلام امن، محبت، تحمل، برداشت کی تعلیم دیتا ہے، ایک دوسرے کے عقائدو نظریات کا احترام سکھاتا ہے، اسلام میں انسانی جان کی قدر و قیمت اور حرمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دین اسلام میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے.

طالبان کو سمجھنا چاہئیے کہ  اسلام بلاتفریق رنگ و نسل بے گناہ انسانوں کے قتل کی سختی سے ممانعت کرتا ہے، اسلام احترام انسانیت اور امن کا مذہب ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جس نے کسی شخص کو بے وجہ(ناحق) قتل کیا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا، اللہ کریم کا حکم مرد، عورت ،چھوٹے ،بڑے، امیر غریب، مسلم ،غیر مسلم سب کے لیے ہے، قرآن حکیم نے کسی بھی انسان کو بلاوجہ قتل کرنے کی نہ صرف سخت ممانعت فرمائی ہے بلکہ اسے پوری انسانیت کا قتل ٹھہرایا ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول  اکرم کے نزدیک مسلمان کے جسم و جان ،عزت و آبرو کی اہمیت کعبۃاللہ سے بھی زیادہ ہے، بے گناہوں کی جان لینے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، معصوم انسانوں کی جان لینے والوں طالبان میں خوف خدا ہوتا تو ان کی وحشت اور بربریت سے لوگ محفوظ رہتے، اسلام جیسے پرامن و عافیت والے دین میں بے گناہوں کی جان لینے اور فساد برپا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.