عمران خان کی وزیرستان آمد سے قبل طالبان کی دھمکی، پولیس اور لیویز کو 3 دن میں علاقہ چھوڑنے کا حکم


عمران خان کی وزیرستان آمد سے قبل طالبان کی دھمکی، پولیس اور لیویز کو 3 دن میں علاقہ چھوڑنے کا حکم

زیراعظم عمران خان نے آج سے دو روز بعد جنوبی وزیرستان کا دورہ کرنا ہے اور انہوں نے وہاں عوامی جلسوں سے خطاب بھی کرنا ہے تاہم وزیراعظم کے دورہ وزیرستان سے قبل انتہائی تشویشناک خبر آگئی ہے۔ وانا اور وزیرستان کے علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پمفلٹ تقسیم کئے گئے ہیں اور دھمکی دی گئی ہے کہ پولیس اور لیویز 3 دن کے اندر اندر علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں۔

ڈان نیوز کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان  نے جنوبی وزیرستان میں پمفلٹ تقسیم کیے ہیں جن میں پولیس اور لیوزی کو  3 دن میں قبائلی علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پمفلٹ میں مقامی افراد کو سرکاری حکام سے قطع تعلق کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

تقسیم کئے گئے پمفلٹس میں اردو زبان میں پیغام دیا گیا ہے کہ “پولیس کو لازمی طور پر وانا اور محسود قبائل کے علاقے چھوڑ دینے چاہیے بصورت دیگر وہ (ٹی ٹی پی) ان کے خلاف طاقت کا استعمال کرے گی،  کہ پولیس افسران کو کچھ روز کے لیے وانا میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی، پمفلٹ میں بتایا گیا کہ ‘ہم نے ایک پولیس اہلکار(طاہر داوڑ) کو اسلام آباد سے اغوا کیا کیوں کہ اس نے ہمارے انتباہ کو نظر انداز کیا تھا’۔”

تحریک طالبان کی جانب سے دھمکی آمیز پمفلٹ تقسیم کئے جانے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا ہے۔  دوسری طرف وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اجمل خان وزیر نے ان دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ پمفلٹ کے ذریعے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ یہ پمفلٹ وزیراعظم عمران خان کی قبائلی علاقے میں آمد سے 2 روز قبل 2 مختلف تاؤنز میں تقسیم کیے گئے، جہاں وزیراعظم کا عوامی تقریب سے خطاب بھی شیڈول ہے۔

https://dailynewslounge.com/2019/04/23/12181/

پاکستان میں دہشت گردی و انتہا پسندی ایک ناسور بن چکی ہے اور طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں ،جس سے معاشرہ کے ہر فرد ،طبقہ اور ادارہ کو شدید خطرات لاحق ہں اور اس فتنہ کا فوری اور یقینی تدارک کرنا وقت کی اہم ضرورت بن گیا ہے ۔

طالبان اور طالبانی سو چ پاکستان کے وجود کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں اور طالبان جو کہ ۲۱ صدی کے خوارجین ہیں ،پاکستان،  اور پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے ہیں اور آئندہ کے لئے بھی ان سے کسی نیکی کی توقع رکھنا فضول ہے۔ طالبان حقیقی معنوں میں انارکسٹ ہیں جو نہ تو مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں اور نا ہی انسان۔

دہشت گردی کی تمام صورتیں اور اقسام انسانیت کے لئے خطرہ ہیں۔ اسلام کسی حالت میں بھی دہشتگردی اور عام شہریوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کی اکثریت اسلام کےانہی سنہری اصولوں پر کاربند ہے۔ دہشت گردی و خود کش حملے اسلام کے بنیادی اصولوں سےانحراف اور رو گردانی ہے۔
ٹی ٹی پی کی دہمکی پورے خطہ اور دنیا کے لئے ایک بڑی چونکا دینے والی خبر ہے جس سے طالبان کی ذہنی خباثت عیاں ہو جاتی ہے کہ طالبان کسی بھی قسم کی مخالفت برداشت کرنے کا حوصلہ نہ رکھتے ہیں اور مافیا کی طرح اپنے مخالفیں کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔
ہماری موجودہ اور آیندہ نسلوں کے وسیع تر مفاد میں ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو ہر ممکن طریقے سے اور ہر قیمت پر روکا اور ناکام بنایا جائے۔