طالبان نے قندھار میں خواتین اور بچوں کو زخمی کردیا


طالبان نے قندھار میں خواتین اور بچوں کو زخمی کردیا

قندھار کے صوبائی چیف پولیس، میجر جنرل تادین خان نے تصدیق کی کہ قندھار کے ميوند ضلع میں طالبان کے ساتھ ایک جھڑپ میں چار عورتیں اور تین بچے زخمی ہوگئے ہیں۔ طالبان کے  ایک بلاواسطہ مارٹر راونڈ نے 7 رہائشیوں ،تمام عورتوں اور بچوں کو زخمی کیا۔

انہوں نے کہا کہ  وہ امن کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن ان کی کارروائی سے ہماری خواتین اور بچوں کو نقصان پہنچا ہے. "ایم جی تادین نےسوشل میڈیاپر  کہا۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق ضلع چیف آف پولیس مائیوند، حاجی لالہ نے بتایا کہ طالبان نے ایک مارٹر گولہ فائر کیا، جو بجائے سیکیورٹی افواج  کے ایک مقامی رہائشی گھر کو لگا،جس نے خواتین اور بچوں کو زخمی کردیا۔

نبی اکرم نے جنگ کے دوران کفار کے چھوٹے بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ معصوم بچوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرنا جہاد نہیں فساد ہے اور اسلام کے اس عظیم عمل کو بدنام کرنے کی خوفناک سازش ہے۔ اسلام میں بچوں اور عورتوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرناحالت جنگ میں بھی منع ہے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔ آپ نے کہا کہ ”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔

رسول اللہﷺ نے جنگ کے لیے شریفانہ ضوابط بھی مقرر فرمائے اور اپنے فوجیوں اور کمانڈروں پر ان کی پابندی لازمی قرار دیتے ہوئے کسی حال میں ا ن سے باہر جانے کی اجازت نہ دی۔ قتال کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی جو ہدایات ہیں، وہ انسانی تاریخ میں منفرد اہمیت کی حامل ہیں، جہاد کے خلاف جو مہم جوئی چلائی جا رہی ہے اور اسے جس طرح دہشت گردی کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے، وہ سراسر بدنیتی اور تعصب پر مبنی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے قتال و جہاد کے لیے جو ہدایات دیں، ان کی تفصیلات یوں ہیں :
1. غیر اہل قتال کو نقصان پہنچانے سے منع کیا، نبی کریم نے اہل قتال اور غیر اہل قتال کا فرق واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ غیر اہل قتال کو نقصان نہ پہنچایا جائے، عورتوں، بچوں، بوڑھوں، بیماروں، گوشہ نشینوں، زاہدوں اور مندروں کے مجاوروں اور پجاریوں وغیرہ کو قتل نہ کیا جائے۔
2. رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم مجاہدین کو رخصت کرتے ہوئے فرماتے "کسی بوڑھے، بچے، نابالغ لڑکے اور عورت کو قتل نہ کرو، اموال غنیمت میں چوری نہ کرو، جنگ میں جو کچھ ہاتھ آ جائے سب ایک جگہ جمع کر دو، نیکی اور احسان کرو کیونکہ اللہ تعالٰی احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے” ۔(سنن ابی داؤد، کتاب الجھاد )۔