داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی پانچ سال بعد منظرعام پر


داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی پانچ سال بعد منظر عام پر

شدت پسند تنظیم داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی پانچ سال بعد ایک نئی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ داعش کے میڈیا ونگ کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی اس ویڈیو میں ابوبکر البغدادی کو شام میں اپنی تنظیم کی شکست اور دنیا بھر میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بارے میں بات کرتے دکھایا گیا ہے۔

ابو بکر البغدادی 2010 میں دولت اسلامیہ العراق نامی شدت پسند تنظیم کے امیر کے طور پر سامنے آئے۔ اس تنظیم کی بنیاد خفیہ طور پر رکھی گئی تھی۔  خود ساختہ دولت اسلامیہ نامی ریاست قائم کرنے کے بعد وسیع علاقے پر حکومت کی، تاہم اب بغدادی شکست خوردہ ہیں اور ان کے ہزاروں جنگجو یا تو مارے جا چکے ہیں یا جیلوں میں قید ہیں۔ وہ سوڈان اور الجزائر کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں اور سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر تین گرجا گھروں اور چار ہوٹلوں پر بم حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا بھی دعویٰ کررہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے الباغوز پر قبضے کا ردعمل تھے۔ البغدادی نے ویڈیو میں دھمکی دی ہے کہ ان کا گروپ اپنے جنگجوؤں کی ہلاکت اور انھیں پابند سلاسل کرنے کا انتقام لے گا۔

ویڈیو میں 47 سالہ ابوبکر البغدادی کو لمبی اور گھنی داڑھی میں دیکھا گیا، بیگناہ لاکھوں انسانوں کے قاتل کو ویڈیو میں بظاہر نرم لہجے میں رک رک کر گفتگو کرتے دیکھا گیا۔ اس سے قبل وہ 2014ء میں موصل میں آخری مرتبہ عوام کے سامنے نظر آیا تھا، جہاں اس نے شام اور عراق میں خلافت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد متعدد بار اس کے قتل اور زخمی ہونے کی متضاد اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

داعش کو علم ہونا چاہئیے کہ ایک انسان کا خون پو ری انسانیت کا خون ہے اور یہ بات طے ہے دہشت گر دی کہ اس طر ح کے واقعات میں ملوث لوگ نا تو انسان ہیں اور نا ہی ان کو کو ئی مذہب ہو تا ہے ۔

داعش ، ظلم اور بربریت میں اپنی مثال آپ ہیں۔ مسلمانوں کا کوئی فرقہ بھی ان کی سفاکی اور بربریت سے محفوظ نہ ہےجیسا کہ داعش نے لوگوں کے ساتھ شام اور عراق میں کیا ہے۔

دولت اسلامیہ کو بری طرح  سےعراق اور شام میں شکست ہو چکی ہے اور اب یہ مردہ ہے، بغدادی   کا پیغام نیوز / میڈیا میں آئی ایس آئی ایس کو زندہ رکھنے کی ایک مایوس کن اور ناکام کوشش ہے ۔بغدادی ایک ناکام، نا اہل اور غیر ذمہ دار لیڈر ہے ، جس نے اپنے ساتھیوں کو مصیبت میں چھوڑ دیا ہے اور وہ خود روپوش ہیں۔  بغدادی کو دولت اسلامیہ کے لئے مرنے والوں کا اور جن لوگوں کو دولت اسلامیہ نے قتل کیا ہے کوئی خیال نہ ہے۔ بغدادی نے دولت اسلامیہ کے ان ہزاروں عورتوں اور بچون کا کوئی ذکر نہ کیا ہے جو عراق و شام میں بے یارو مددگار پڑے ہیں۔

دولت اسلامیہ درحقیقت ایک مردہ گھوڑا ہے، جبکہ اسکا پیغام جھوٹ کا ایک پلندہ اور دھوکہ ہے۔ خطے کے ممالک کی سلامتی اور استحکام کیلئے داعش ایک سنجیدہ خطرہ ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشیں کی  ضرورت ہے۔