طالبان عسکریت پسندوں نے غزنی شہر کے سب سے قدیم مزارات میں سے ایک کو اڑا دیا


طالبان عسکریت پسندوں نے غزنی شہر کے سب سے قدیم مزارات میں سے ایک کو اڑا دیا

 

غزنی شہر، جنوب مشرقی صوبہ غزنی کے صوبائی دارالحکومت میں سب سے قدیم مزارات میں سے ایک ، شمس العارفین کے مزار کو طالبان عسکریت پسندوں نے بارودی مواد سے تباہ کر دیا ہے  ۔غزنی شہر کے مغربی حصوں میں واقع مزار شہر کی سب سے مشہور مزارات میں سے ایک تھا اور بڑے پیمانے پر لوگوں کی طرف سے احترام کیا جاتا تھا۔

https://www.khaama.com/taliban-militants-blow-up-one-of-the-oldest-shrines-of-ghazni-city-03866/

نہایت افسوس کا مقام ہے کہ آج افغانستان میں، طالبان کے دہشت گردوں کے ہاتھوں اولیا اللہ کے مزار بھی محفوظ نہ ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں  اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ سیرت و کردار کے زور سے پھیلا ہے۔ برصغیر  پاک و ہند میں تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کا سہرا اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کے سر ہے اور اس خطہ میں ان نفوس قدسیہ کا وجود اﷲ کریم کا بہت بڑا انعام ہے۔ جو کام غازیان اسلام کی شمشیر اَبدادر ارباب ظواہر کی علمیت سے نہ ہو سکا وہ خدا وند تعالیٰ کے ان مقبول و برگزیدہ بندوں نے بخوبی اپنے اعلی سیرت و کردار  سے  سرانجام دیا۔  انہوں نے شبانہ روز محنت اور اخلاق حسنہ سے  بر صغیر پاکستان و ہندوستان کو نور اسلام سے منور کیا اور اسلام کے ننھے منے پودے کو سر سبز و شاداب اور قد آور درخت بنا دیا۔  ہمارے اسلاف اور اولیائے کرام نے مکالمہ کے ذریعے لوگوں کو پرامن رکھا اور طاقت کے ذریعے اپنے نظریات اور افکار مسلط نہیں کئے۔

 برصغیر پاک و ہند میں اسلام اولیائے اللہ کی تبلیغ اور حسن کردار سے پھیلا۔ ان برگزیدہ ہستیوں کے مزار اور مقابر صدیوں سے مرجع خلائق ہیں۔ لوگ اپنے اپنے ایمان عقیدے اور یقین کے مطابق ان مزاروں پر حاضری دیتے اور سکون قلب حاصل کرتے ہیں جنہیں اس مسلک سے اختلاف ہے وہ بھی ان ہستیوں کا دلی احترام کرتے اور ان کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ روایت کوئی نئی نہیں۔ سیکڑوں سال سے اس پر عمل ہورہا ہے اختلاف رائے کے باوجود اس پر کوئی جھگڑا یا خونریزی نہیں ہوئی۔

               در حقیقت  صوفیائے کرام کی تعلیمات  تمام مسلمانوں کو امن، اخوت،بھائی چارے کا درس دیتی ہیں  موجودہ نفسا نفسی اور دہشت گردی کے عروج  کے دور میں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ملک سے بدامنی و دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ   ہم سب  لسانی،گروہی ، مذہبی و مسلکی اختلافات کو بھلا کر نچلی سطح پر قیام امن کیلئے جدوجہد کریں۔ کسی ایک  صوفی نے بھی کبھی مزار پرستی کی تعلیم نہیں دی ۔تصوف کا مقصد تو روحانی اصلاح ہوا کرتا ہے۔

پتہ نہیں ان طالبان دہشت گردوں کو ان اولیا اکرام اور بزرگان دین سے کیا چڑ ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں دہشت گردوں نے صوفیاء کرام کے مزاروں کو  اپنےحملوں کا نشانہ بنایا ۔ صوفیاء کرام کے مزارات اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے والے عسکریت پسندوں کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔

               در حقیقت  صوفیائے کرام کی تعلیمات  تمام مسلمانوں کو امن، اخوت،بھائی چارے کا درس دیتی ہیں  موجودہ نفسا نفسی اور دہشت گردی کے عروج  کے دور میں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ملک سے بدامنی و دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ   ہم سب  لسانی،گروہی ، مذہبی و مسلکی اختلافات کو بھلا کر نچلی سطح پر قیام امن کیلئے جدوجہد کریں۔

 

 

 

 

“طالبان عسکریت پسندوں نے غزنی شہر کے سب سے قدیم مزارات میں سے ایک کو اڑا دیا” پر ایک تبصرہ

  1. پنگ بیک: URL

تبصرے بند ہیں۔