افغانستان: پولیس ہیڈکوارٹر پر حملہ،13 اہلکار ہلاک


افغانستان: پولیس ہیڈکوارٹر پر حملہ،13 اہلکار ہلاک

افغانستان کے صوبے بغلان میں پولیس ہیڈکوارٹر پر حملے میں 13 اہلکار ہلاک 55 زخمی ہوگئے ہیں۔افغان وزارت داخلہ نےدعویٰ کیا ہے کہ جوابی کارروائی میں تمام 8 حملہ آور مارے گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے بغلان کے شہر پُلِ خوماری میں واقع پولیس ہیڈ کوارٹر میں طالبان جنگجوؤں نے حملہ کردیا، پہلے خود کش بمبار نے دروازے پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرادی جس کے بعد دیگر طالبان جنگجو اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 13 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پولیس ہیڈ کوارٹر پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک خود کش بمبار کے ساتھ 7 جنگجوؤں نے دھاوا بولا تھا اور گھمسان کی جھڑپ میں افغان پولیس کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔

حکام کے مطابق شہر پل خمری کے پولیس ہیڈکوارٹر پر 8 مسلح شدت پسندوں نے حملہ کیا۔حکام کے مطابق کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے حملے میں 13 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 20 شہریوں اور اہلکاروں سمیت 55 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تمام حملہ آور بھی مارے گئے۔

https://urdu.geo.tv/latest/199641-

خود کش حملے ناجائز، حرام اور اسلام کے منافی ہیں۔ کوئی مسلمان ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔ اس سے مسلمانوں اور خصوصاً غریب عوام کا نقصان ہو رہا ہے۔ لوگ جاں بحق ہو رہے ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔ جہاد کا اعلان کرنا ریاست اور حکومت کا حق ہے۔جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کئے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ حسن اخلاق سے پھیلا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے مفتوحہ علاقوں کے عوام کو سماجی اور مذہبی آزادی دی اور حسن کردار سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کیا۔ مسلمانوں کے بارے میں غلط تاثرات کے خاتمے کیلئے بار آور کوششیں ہونی چاہیں۔ مسلمان تمام انبیاء کرام اور ان کے پیغام کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ اس لئے ہمارا پیغام نفرت کیسے ہو سکتا ہے۔

ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد بھی حرام ہے۔ حکومت کے خلاف ہر طرح کی عسکری کارروائیوں یا مسلح طاقت کے استعمال کو شرعی لحاظ سے حرام قرار دیا گیا ہے۔کچھ لوگوں نے جہاد کے نام پر خود کش حملوں اور بم دھماکوں سے وطن عزیز کے پرامن اور محب وطن عوام کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا ہے چنانچہ آج ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔ ہمارا دین اسلام دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں دیتا۔ ہمیں اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور ایسے تمام عناصر کو بے نقاب کرنا ہوگا جو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ اسلام ایک ہمہ گیر اور مکمل دین ہے۔ اس میں دہشت گردی ، انتہا پسندی اور جہالت کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ اسلام زندگی کے معاملات میں میانہ روی اپنانے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلامی ریاست کے خلاف خروج کر کے مسلح جدوجہد کرنا غیر اسلامی عمل ہے۔ باغیوں کو کچلنا دینی حکم کے عین مطابق ہے، اسلامی ریاست کے خلاف منظم ہو کر طاقت کا استعمال قرآن و سنت کی رو سے حرام ہے، ایسے عمل کو بغاوت کہا جائے گا۔ باغی نیک نیتی کے ساتھ تاویل بھی رکھتے ہوں تو بھی ریاست اسلامی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا غیر شرعی ہے۔

عوام کی غالب اکثریت اسلامی ریاست کے حکمرانوں سے شدید نفرت کرتی ہو پھر بھی اسلام ایسے حکمرانوں کے خلاف مسلح حملوںکی اجازت نہیں دیتا البتہ پرامن طور پر ان کے خلاف جمہوری جدوجہد کی جا سکتی ہے۔