عید الفطر، خوشیوں کا تہوار


عید الفطر، خوشیوں کا تہوار

عید کی آمد آمد ہے اور دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی عید کی تیاریاں بڑے زور و شور سے کی جا رہی ہے۔ ہر سال پاکستان میں عید الفطر پورے مذہبی جوش و جذبے اور نہائیت مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا تی ہے،مختلف شہروں میں نماز عید کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جن میں پاکستان کی سلامتی، بقا اور خوشحالی کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

عید کے دن مسلمان صاف ستھرے کپڑے پہنتے ہیں اور عید گاہ یا جامع مسجد میں جاکر نماز عید پڑھتے ہیں۔اس کے بعد وہ اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور عزیزوں کی ملاقات کو جاتے ہیں۔خوشی سے ایک دوسرے کے گلے ملتے ہیں، دعوتیں کرتے ہیں،اور صدقہ و خیرات دیتے ہیں۔غریبوں محتاجوں کو کھانا کھلاتے ہیں،احباب کو تحفے بھی پیش کیے جاتے ہیں کئی جگہ میلے بھی لگتے ہیں اور خوب رونق ہوتی ہے۔

نماز عید کے روح پرور اجتماعات میں علما اور خطیب امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی پر زور دیتے ہیں اور دہشت گردی، شدت پسندی اور انتہا پسندی کی خصوصی طور پر مذمت کرتے ہیں کیونکہ اسلام میں دہشت گردی، شدت پسندی اور انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔اسلام امن و محبت اور اخوت کا درس دیتا ہے ۔

عیدالفطر کے پر مسرت موقع پر جو آپس میں کسی وجہ سے ناراض ہیں ان کو ایک دوسرے سے صلح کر لینی چاہیے اور بروز عید ایک دوسرے سے بغل گیر ہونا چاہیے۔ عید کے دن دل میں کوئی رنجش نہ رکھیں کیونکہ عید آتی ہے اور خوشیاں دے کر چلی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیںکہ اور جب انسان اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے سرفراز ہو تو اسے چاہیے کہ وہ خوب خوشیاں منائے عید کے دن مسلمانوں کی مسر ت اور خوشی کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے خدا کے احکامات کی ایک ماہ تک سختی سے تعمیل کی اور اس تعمیل کے بعد خوش و مسرور رہتے ہیں، حضرت ابوہریرہؓ ایک مشہور صحابی تھے آپ سے روایت کرتے ہیں، کہ عیدالفطر کے دن حضور میدان میں نماز ادا فرماتے نماز کی ادائیگی کے بعد لوگوں سے ملاقات کرتے گلے ملتے پھر واپس گھر آجاتے۔

عیدالفطر کا مقصد لوگوں کےدرمیان محبت کو بڑھانا ہے۔عید الفطر کا یہ یہ تہوار شکر, احسان اور خوشی کا دن ہے۔عید کے خوشیوں بھرے تہوار کے موقع پر ہر گھر میں خواتین مختلف قسم کے میٹھے اور نمکین پکوانوں کا خصوصی اہتمام کرتی ہیں،اور اپنے گھر والوں اور گھر آنے والوں مہمانوں کی تواضع انہی لذیذ پکوانوں سے کرتی ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے عید کے دن خاص طور سے غریبوں، مسکینوں اور ہمسایوں کا خیال رکھنے کی تاکید فرمائی، اور عید کی خوشی میں شریک کرنے کیلئے صدقہ فطر کا حکم دیا تاکہ وہ نادار جو اپنی ناداری کے باعث اس روز کی خوشی نہیں منا سکتے اب وہ بھی خوشی منا سکیں۔ ہمیں غریبوں ‘یتیموں ‘مسکینوں اور بیواؤں کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کرنا چاہیے تاکہ رب کی رحمتیں ہمارا مقدر بنیں۔
اما م ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ’’عید ، اللہ کی جانب سے نازل کردہ عبادات میں سے ایک عبادت ہے ۔رسول اکرم کا ارشاد ہے:’’ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے‘‘۔حضرت ابن عبا س سے روایت ہے کہ نبی محترم نے صدقہ فطر کو مساکین کے کھانے کے لئے مقرر کیاہے۔ جو شخص اس کو عید کی نماز سے پہلے ادا کرے تو وہ مقبول صد قہ ہے اور جو نماز کے بعد ادا کرے تو وہ عام صدقہ شمار ہوگا(سنن ابی داؤد)لہٰذا گھر کے تما م زیر کفالت افراد ،ملازمین اور بچوں کی طرف سے عید الفطر کی صبح نماز عید سے قبل صدقہ فطر ادا کر دینا چاہیے جس کا بہترین مصرف آپ کے آس پاس وہ غریب و مسکین خاندان ہیں جن کو دو وقت کو روٹی بھی میسر نہیں جس کی وجہ سے وہ عیدکی لذتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔نہ ان کے پاس کپڑے خریدنے کے لیے پیسے ہوتے ہیں اور نہ ہی مادی ذرائع جنہیں استعمال میں لاتے ہوئے یہ عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکتے۔

عید کے اس پُرمسرّت موقعے پر ہمیں اپنےآس پڑوس اور رشتے داروں پر نظر دوڑائیں کہ کہیں اُن میں سے کوئی ایسا تو نہیں، جو اپنی غربت اور تنگ دستی کے سبب عید کی خوشیوں میں شامل ہونے سے محروم ہے، ان کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کریں۔ روایت ہے کہ آقائے دوجہاںﷺنمازِ عید سے فارغ ہوکر واپس تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں آپؐ کی نظرایک بچّے پر پڑی، جو میدان کے ایک کونے میں بیٹھا رو رہا تھا۔ نبی کریمﷺ اُس کے پاس تشریف لے گئے اور پیار سے اُس کے سَر پر دستِ شفقت رکھا، پھر پوچھا’’ کیوں رو رہے ہو؟ ‘‘بچّے نے کہا’’ میرا باپ مرچُکا ہے، ماں نے دوسری شادی کرلی ہے، سوتیلے باپ نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے، میرے پاس کھانے کو کوئی چیز ہے، نہ پہننے کو کپڑا۔‘‘یتیموں کے ملجاﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے،فرمایا کہ’’ اگر میں تمہارا باپ، عائشہؓ تمہاری ماں اور فاطمہؓ تمہاری بہن ہو، تو خوش ہو جائو گے؟‘‘ کہنے لگا’’ یارسول اللہﷺ! اس پر مَیں کیسے راضی نہیں ہو سکتا۔‘‘حضورِ اکرمﷺبچّے کو گھر لے گئے۔