خار کمڑ میں بارودی سرنگ کادھماکہ ، لیفٹیننٹ کرنل سمیت پاک فوج کے 3افسران ، ایک جوان شہید، 4زخمی


خار کمڑ میں بارودی سرنگ کادھماکہ ، لیفٹیننٹ کرنل سمیت پاک فوج کے 3افسران ، ایک جوان شہید، 4زخمی

شمالی وزیرستان کے علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں پاک فوج کے تین افسران اور ایک جوان شہید ہوگئے ، حملے میں چار جوان زخمی بھی ہوئے ۔

آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق شمالی وزیر ستان کے علاقے خار کمڑ میں فوجی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرانے سے پاک فوج کے تین افسراور ایک جوان شہید جبکہ چار زخمی ہوگئے ، شہید ہونیوالے میں لیفٹیننٹ کرنل راشد کریم بیگ، میجر معیز مقصود بیگ ، کیپٹن عارف اللہ اور لانس حوالدار ظہیر شامل ہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل راشد کریم بیگ کا تعلق ہنزہ کے علاقے کریم بیگ سے ہے ، شہید میجر معیز مقصود بیگ کاتعلق کراچی شہید کپٹن عارف اللہ کا تعلق لکی مروت اور لانس حوالدار ظہیر کا تعلق چکوال سے ہے ،دہشتگردوں نے بارودی سرنگ کے ذریعے پاک فوج کی گاڑی کو نشانہ بنایا، اب تک اس علاقے میں شرپسندوں کے حملے میں دس سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 35زخمی ہوچکے ہیں۔دہشتگردوں کی جانب سے حملہ اس علاقے میں کیا گیا جہاں پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

https://dailypakistan.com.pk/07-Jun-2019/975878

کالعدم تحریک طالبان نے وزیرستان دہشتگرد حملے کی زمہ داری قبول کر لی ہے۔

https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2019-06-08/news-1955669.html

طالبان کا قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے ۔

طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں .طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں. طالبان پاکستان کو نقصان پہنچا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں۔طالبان کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب تک 102.51 ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران معیشت کو 28 ارب 45 کروڑ 98 لاکھ ڈالرکا نقصان اٹھانا پڑا ۔

طالبان کا مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی ریاست کے خلاف منظم ہو کر طاقت کا استعمال قرآن و سنت کی رو سے حرام ہے، ایسے عمل کو بغاوت کہا جائے گا۔ باغی نیک نیتی کے ساتھ تاویل بھی رکھتے ہوں تو بھی ریاست اسلامی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا غیر شرعی ہے۔

عوام کی غالب اکثریت اسلامی ریاست کے حکمرانوں سے شدید نفرت کرتی ہو پھر بھی اسلام ایسے حکمرانوں کے خلاف مسلح حملوںکی اجازت نہیں دیتا البتہ پرامن طور پر ان کے خلاف جمہوری جدوجہد کی جا سکتی ہے۔

 طالبان کے اعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف ہین اور یہ وہ گروہ ہیں جو دائرہ اسلام سے اپنی غیر اسلامی حرکات کی وجہ سے خارج متصور ہونگے۔ طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔