افغان فورسز نے ننگرہار میں ایک مسجد کے اندر طالبان کے سرخ یونٹس کی اہم جائے پناہ تباہ کر دی


افغان فورسز نے ننگرہار میں ایک مسجد کے اندر طالبان کے سرخ یونٹس  کی اہم جائے پناہ تباہ کر دی

افغان سیکیورٹی فورسز نے ننگرہار صوبے میں طالبان کے سرخ یونٹ کی اہم پناہ گاہوں میں سے ایک کو  تباہ کر دیا۔ افغان مسلح افواج نے آپریشن کے دوران طالبان کے کم از کم 30 ریڈ یونٹ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ۔ صوبائی حکام نے  بتایا کہ طالبان عسکریت پسندوں نے ایک مسجد کے اندر یہ جائے پناہ قائم کیی ہوئی تھی ۔ ایک بیان میں ننگرہار کے گورنر کے دفتر نے کہا کہ طالبان کی ریڈ یونٹ نے شیرزاد ڈسٹرکٹ میں ایک مسجد کے اندر اس  جائے پناہ کو قائم کیا تھا ۔ بیان نے مزید کہا کہ افغان مسلح افواج  نے احتیاط سے مسجد کی مقدس جگہ کو مد نظر رکھتے ہوئے گروپ کی قائم کی ہوئی جائے پنای کے خلاف آپریشن کیا

۔ بیان میں مزید کہا اصلا پاکستان سے تعلق رکھنے والے طالبان کے تین ریڈ یونٹ کمانڈرز ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے ۔ اسی آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے طالبان کے 14 ریڈ یونیٹس عسکریت پسندوں کو بھی زخمی کیا ۔ صوبائی گورنر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے سعودی مسلح افواج بیج اور ہتھیار اور گولیاں قبضہ کرنے کے علاوہ پاکستانی سرٹیفکیٹ کو ضبط کیا ۔ طالبان سمیت حکومت مخالف مسلح عسکریت پسندوں نے اب تک آپریشن کے بارے میں تبصرہ نہیں کیا ہے

خامہ پریس۔ کام

اسلام کے تصور عبادت میں مسجد کا بلاشبہ ایک اہم مقام حاصل ہے لیکن بالعموم تقابلی مطالعوں میں مسجد کو وہی مقام دے دیا جاتا ہے جو دیگر مذاہب کے مقام عبادات کو حاصل ہے چنانچہ مسجد‘ گرجا‘ کلیسااور مندر کی اصطلاحات ان مقدس مقامات کے لیے استعمال کی جاتی ہے ۔ جہاں داخل ہوتے وقت یہ تصور ذہن میں آتا ہے کہ وہاں کی زمین دیگر مقامات کے مقابلے مین زیادہ مقدس ہیں لیکن ا سلام نے اس فرق کو ختم کردیا جو دیگر مذاہب میں مقدس اور غیر مقدس زمین کے فرق کو دور کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور ربوبیت کو دنیا کے چپے چپے ہی نافذ و جاری کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اسلام کے مفہوم کو صحیح طور پر سمجھنے والے اصحاب رسولؐ اور ان کے بعد آنے والوں نے اسلام کو مسجد میں قید نہ ہونے دیا اور اپنے ہر عمل سے ثابت کیا کہ عبادت مسجد تک محدود اور مقید نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان کی صلوٰۃ اور اس کے مراسم عبودیت و قربانی اس کی حیات و ممات ہر ہر عمل عباردت ہی کی ایک شکل ہے وہ پور اکاپور ا اسلام میں داخل ہوکر ہی مسلمان بنتا ہے اس کی زندگی دین و دنیا کے خانوں میں بٹی ہوئی نہیں ہے۔ مسجد دراصل مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا ایسا مرکز و محور ہے جہاں سے ان کے تمام مذہبی‘اخلاقی‘ اصلاحی‘ تعلیمی و تمدنی‘ ثقافتی و تہذیبی سیاسی اور اجتماعی امور کی رہنمائی ہوتی ہے۔

مسجد کی یہ حیثیت حضور اکرمؐ کے زمانے سے لے کر صدیوں بعد تک قائم رہی۔ اسلام کے مثالی دور میں مسجد ہی عدل و انصاف کا مرکز تھی۔ خود حضور اکرمؐ اور خلفائے راشدین اور اس کے تمام حکام مسجد ہی میں بیٹھ کر عدل گستری کے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ تعلیم و تعلم کا سلسلہ مسجدنبویؐ مںہ صفہ سے شروع ہوا جو صدیوں تک ہر مسجد کے ساتھ قائم رہا چنانچہ مسلمانوں کے قدیم ترین تعلیمی ادارے جامعہ ازھر‘ جامعہ زیتونہ اور جامعہ قرویین مسجدوں میں قائم ہوئے اور مسجدوں ہی میں انہوں نے ترقی و ارتقا کےجملہ مراحل طے کئے۔ مسلمانوں نے اپنے مثالی ادوار میں جیسے شہر اور بستیاں اباد کیں تو ساتھ ساتھ مساجد کی بنیادیں بھی ڈالیں چنانچہ کوفہ‘ بصرہ اور زروان وغیرہ کے بنیادوں کے نقشے میں مساجد کی تعمیر کو مرکزی مقام دیا گیا۔

اسلام میں مساجد کی بڑی اہمیت ہے، یہ اللہ کا گھر ہے، روئے زمین کا یہ سب سے افضل وبرتر اور مقدس خطہ ہے، اس جگہ رات ودن اور صبح وشام اللہ کو یاد کیا جاتا ہے، یہاں ایسے لوگ آتے ہیں جو اللہ کی اطاعت وبندگی کرنے والے ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فِیْ بُیُوتٍ أَذِنَ اللّٰہُ أَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ یُسَبِّحُ لَہٗ فِیْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالO رِجَالٌ لَّا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَلَا بَیْْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ وَإِیْتَائِ الزَّکَاۃِ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْأَبْصَارُO (النور: ۳۶-۳۷)
” وہ نور ملتا ہے ایسے گھروں میں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کی تعظیم کی جائے اور ان میں اس کا نام لیا جائے، ان میں صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جنہیں اللہ کی یاد اقامت نماز اور ادائیگی زکو سے نہ کوئی سوداگری غفلت میں ڈال سکتی ہے اور نہ ہی کوئی خرید و فروخت ان کے آڑے آسکتی ہے وہ ڈرتے رہتے ہیں ایک ایسے ہولناک دن سے جس میں الٹ دئیے جائیں گے دل اور پتھرا جائیں گی آنکھیں۔

طالبان کا مسجد کو اپنی جائے پناہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اس کو اصلحہ کاسٹور بنا دینا اور  تباہی و بربادی کے لئے استعمال کرنا، خلق خدا کو قتل کرنے کے منصوبے بنانے کے لئے استعمال کرنا ،خلاف اسلام ہے۔ یہ طالبان ایک طرف تو افغانستان میں اسلامی مملکت بنانا چاہتے ہیں اور دوسرے طرف مسجد کو اصلحہ خانہ میں تبدیل کر کے اسلام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ مجھے تو ان کے تمام دعوے جھوٹے لگتے ہیں کیونکہ یہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

طالبان یہ بھول گئے کہ اسلامی احکام میں یہ بات فرض ہے کہ مسجد میں کوئی کسی کاقتل نہیں کرسکتا  اور نہ ہی قتل کی منصوبہ بندی کرستا ہےکیونکہ وہ اللہ کا گھر ہے جہاں ہر ایک کو امان ہے ۔ مسجدیں اس کعبہ کی شکل ہیں ۔ اس اعتبار سے مساجد بھی اللہ تعالی کا گھر ہوتی ہیں جہاں اسلامی اصول کے مطابق کوئی کسی کو نقصان نہیں پہونچا سکتا ہے چہ جائے کہ وہاں بے گناہوں کو بم دھماکوں میں مار دیا جائے ۔ یہ نہ تو کسی اسلامی اصول اور نہ ہی کسی انسانی اصول کے موافق ہے ۔ کوئی بھی عبادت گاہ ہو وہ محترم اور مقدس سمجھی جاتی ہے ۔ وہ عقیدت کا مقام ہوتی ہے ۔ ایسی جگہ پر قتل و خون  کرنا یا منصبے بنانےکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اصلحہ بم سٹور کیا جاسکتا ہے۔

آج ہی ہمیں عہد کر لینا چاہئے کہ ہم اب مسجد سے غافل نہیں ہوں گے، اسے آباد کریں گے، اور اسے دینی ومذہبی ضیاء پاشیوں کا مرکز اسی طرح بنائیں گے جس طرح پہلے تھیں،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ أَحَدًا(الجن: ۱۸)
” اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لئے ہیں پس تم لوگ مت پکارو اللہ (وحدہ لاشریک)کے ساتھ کسی کو بھی”
إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللّٰہَ فَعَسٰی أُوْلٰـئِکَ أَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ(التوبۃ:۱۸)
” اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کر سکتے ہیں، جو ایمان رکھتے ہوں اللہ پر اور قیامت کے دن پر، جو قائم رکھتے ہوں نماز کو اور ادا کرتے ہوں زکوۃ اور وہ کسی سے نہ ڈرتے ہوں سوائے اللہ کے، سو ایسے لوگوں کے بارے میں امید ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے”۔