کابل : بم دھماکے میں 5 افراد جانبحق جبکہ 9 بچوں سمیت65 افراد زخمی


کابل : بم دھماکے میں 5 افراد جانبحق جبکہ 9 بچوں سمیت65 افراد زخمی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے بم  دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک جبکہ 65 زخمی ہوگئے۔دھماکے کے بعد حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز میں فائرنگ کا بھی تبادلہ ہوا۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل میں واقع وزارت دفاع کی عمارت کے قریب زور دار دھماکا ہوا جس کے بعد 3 مسلح افراد نے عمارت میں گھسنے کی کوشش کی۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق خطرناک دھماکے کے بعد تین اسلحے سے لیس افراد نے عمارت میں گھسنے کی کوشش بھی کی جنہیں افغان سیکیورٹی فورسز نے روکا اور ان کے درمیان دوطرفہ فائرنگ کا بھی تبادلہ ہوا۔

ترجمان وزارت صحت وحید اللہ میعار کا کہنا ہے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد سول سروس کمیشن کے ملازمین تھے جبکہ 65 زخمیوں میں 9 بچے بھی شامل ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز اتنی شدید تھی کہ علاقے میں خوف ہراس پھیل گیا اور ہر طرف دھواں ہی دھواں نظر آرہا تھا۔

افغان فٹ بال فیڈریشن کے ترجمان شافی شاداب نے بتایا کہ دھماکے میں فٹبال فیڈریشن کے چیف یوسف کارگار بھی زخمی ہوئے جب کہ جس مقام پر دھماکا ہوا وہاں وزارت دفاع کے علاوہ سرکاری دفاتر اور افغان فٹبال فیڈریشن کی عمارت بھی ہے۔

دوسری جانب طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملے سے عام شہریوں کو زیادہ نقصان نہیں ہوا۔

http://thebalochistanpost.com/2019/07/%da%a9%d8%a7%d8%a8%d9%84-%d8%a8%d9%85%db%94%d8%af%da%be%d9%85%d8%a7%da%a9%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-5-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8%d8%ad%d9%82-%d8%ac%d8%a8%da%a9%db%81-9/

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ طالبان کو علم ہونا چاہئیے کہ ایک بے گناہ انسان کا خون پو ری انسانیت کا خون ہے اور یہ بات طے ہے کہ دہشت گر دی کہ اس طر ح کے واقعات میں ملوث لوگ نا تو انسان ہیں اور نا ہی ان کو کو ئی مذہب ہو تا ہے ۔ طالبان  کی دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. یہ جہاد نہ ہے بلکہ دہشتگردی گردی ہے۔

حضرت  ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے  جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہیں اور مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں مالوں کو مامون جانیں۔’

 فساد پھیلانا قتل و غارتگری کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اللہ کے رسول اکرم کا ارشا د ہے: اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی کو قتل کرنا اور والدین کی نا فرمانی کرنا اللہ کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے۔ (البخاری)

بے گناہ مسلمانوں کا قتل اور دہشت گردی اسلام میں قطعی حرام بلکہ کفریہ اعمال ہے۔

اور جس کا جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت)۔ اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتحیاب ہے .سورہ الاسرا  ﴿17:33

طالبان کی حرکات اور عمل قران کی بنیادی تعلیمات  اور اوپر دی گئی سورہ کے برعکس ہیں۔

اسلام، رحمت کا مذہب ہے مسلمانوں کو بھی دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآن میں. جانوروں پر رحم کے لئے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور انہیں نقصان پہنچانا حرام ہے۔ اگر ایک مسلمان فرد دہشت گردی کے ایک ایکٹ کا ارتکاب کرے گا، یہ شخص اسلام کے قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا۔

اسلام میں عام شہریوں، عورتوں اور بچّوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی بڑی سختی کے ساتھ ممانعت کی گئی ہے۔بے گناہوں کا خون بہانے والے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔

اسلام میں بچوں اور عورتوں کے قتل کی ممانعت ہے۔

دہشت دہشتگردی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جہاد کا حقیقی  مقصد امن کی بحالی ہوتا ہے۔ انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔