افغانستان: طالبان کے حملے,الیکشن کمیشن کے 8ارکان سمیت 58 ہلاک


افغانستان: طالبان کے حملے,الیکشن کمیشن کے 8ارکان سمیت 58 ہلاک

افغانستان میں طالبان کے 4خود کش حملوں میں الیکشن کمیشن کے 8ارکان سمیت 58اہلکار ہلاک ،متعدد زخمی ہو گئے ۔افغان فورسز نے 45جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ قندہار میں ضلعی ہیڈکوارٹر پرطالبان نے بارود سے بھری چار گاڑیوں سے خودکش حملہ کر کے تباہی مچا دی۔بتایاگیا ہے کہ دھماکوں سے افغان الیکشن کمیشن کے 8 اہلکاروں اور پولیس افسروں سمیت 50 سے زائد سرکاری اہلکارہلاک ہوگئے ۔افغان وزارت داخلہ نے الیکشن کمیشن کے 8 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دھماکوں میں مرنیوالے زیادہ تر پولیس اہلکارتھے ۔صوبائی گورنرکے ترجمان عزیزاحمد عزیزی نے کہا کہ یہ حملہ بہت بڑا اورشدید نوعیت کاتھا تاہم اْنہوں نے فوری طورپرہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی ۔ افغان صدر اشرف غنی نے قندھا واقعے پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے ۔

https://dunya.com.pk/index.php/dunya-meray-aagay/2019-07-01/1465424

جبکہ طالبان نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرکے 57 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم افغان وزارت داخلہ نے 8 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/30-Jun-2019/986726

خود کش حملے ناجائز، حرام اور اسلام کے منافی ہیں۔جہاد کا اعلان کرنا ریاست اور حکومت کا حق ہے۔جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کئے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ حسن اخلاق سے پھیلا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے مفتوحہ علاقوں کے عوام کو سماجی اور مذہبی آزادی دی اور حسن کردار سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کیا۔ مسلمانوں کے بارے میں غلط تاثرات کے خاتمے کیلئے بار آور کوششیں ہونی چاہیں۔ مسلمان تمام انبیاء کرام اور ان کے پیغام کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ اس لئے ہمارا پیغام نفرت کیسے ہو سکتا ہے۔

 کبار ائمہ تفسیر و حدیث اور فقہاء و متکلمین کی تصریحات سمیت چودہ سو سالہ تاریخِ اسلام میں جملہ اہلِ علم کا فتویٰ یہی رہا ہے ۔ اپنی بات منوانے اور دوسروں کے موقف کو غلط قرار دینے کے لئے اسلام نے ہتھیار اُٹھانے کی بجائے گفت و شنید اور دلائل سے اپنا عقیدہ و موقف ثابت کرنے کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ ہتھیار وہی لوگ اُٹھاتے ہیں جن کی علمی و فکری اساس کمزور ہوتی ہے اور وہ جہالت و عصبیت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کو اسلام نے باغی قرار دیا ہے جن کا ٹھکانہ جہنم ہے۔اسلام میں عام شہریوں، عورتوں اور بچّوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی بڑی سختی کے ساتھ ممانعت کی گئی ہے۔

خود کش حملے ناجائز، حرام اورخلاف اسلام ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔

قرآن مجید میں امن، رواداری، ہمدردی اور اخلاقیات کی ایک کتاب ہے، جبکہ دہشت گردی دوٹوک پرامن بقائے باہمی اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہے ۔قرآن کریم جیسے اسلامی تعلیمات کے اہم ذرائع کا مطالعہ اس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔کیونکہ معصوم لوگوں پر جیمنیزیم، اسٹیڈیم، بازار، مارکیٹ وغیرہ وغیرہ پر خوفناک اور سفاکانہ حملوں کو لے کر محاربہ (اللہ کے خلاف دشمنی) اور دھمکی (دہشت گردی) جو اسلامی شریعت میں مکمل طور پر حرام اور ممنوعہ ہیں ۔قرآن مجید کے بہت سے آیات میں دہشت گردی کو سختی سے روک دیا جاتا ہے ۔”اور کسی روح کو قتل نہ کرو جس نے خدا نے مقدس بنایا ہے، قانونی طور پر بچاؤ.” [الانعام 151]

دہشت گردی کے موجودہ واقعات میں ملوث خود کش بمبار قتل اور خود کشی جیسے دو حرام امور کے مرتکب ہوکر صریحا کفر کر رہے ہیں۔ اپنی بات منوانے اور دوسروں کے موقف کو غلط قرار دینے کے لیے اسلام نے ہتھیار اٹھانے کی بحائے دلیل، منطق، گفت و شنید اور پرامن جد و جہد کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ جو لوگ اس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ بالعموم جہالت اور عصبیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بغاوت کے مرتکب ہوتے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.