افغانستان: غزنی میں خود کش حملہ 85 افراد ہلاک و زخمی


افغانستان: غزنی میں خود کش حملہ 85 افراد ہلاک و زخمی

افغانستان کے صوبے غزنی میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق پچاسی افراد ہلاک و زخمی ہوئیں ہیں۔دھماکہ غزنی شہر میں شامیر کے علاقے میں واقع این ڈی ایس کے ایک سب آفس پہ ہوا ۔غزنی کے طبی زرائع کے مطابق اب تک دھماکے کے نتیجے میں 16 افراد جانبحق جبکہ ستر سے زائد زخمی ہوئیں ہیں۔

جانبحق افراد میں دو سیکیورٹی اہلکار جبکہ باقی راہگزر بتائے جاتے ہیں اور زخمیوں میں اکثریت کی عام شہریوں کی ہے۔

غزنی میں محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اسپتال میں ایک بچے سمیت چودہ افراد کی لاشیں لائی گئیں ہیں جبکہ واقعے میں 180 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں قریب واقع اسکول کے 60 طلبا بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے غزنی حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک خودکش بمبار کے زریعے غزنی خفیہ ادارے کے آفس کو نشانہ بنایا۔

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں این ڈی ایس کے درجنوں افسران یا تو مارے گئے یا پھر زخمی ہوئے۔

طالبان  کی دہشتگردی ، خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. یہ جہاد نہ ہے بلکہ دہشتگردی گردی ہے۔ اسلام میں خودکشی حرام ہے۔

 نبی اکرم نے جنگ کے دوران کفار کے چھوٹے بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ معصوم بچوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرنا جہاد نہیں فساد ہے اور اسلام کے اس عظیم عمل کو بدنام کرنے کی خوفناک سازش ہے۔ اسلام میں بچوں اور عورتوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرناحالت جنگ میں بھی منع ہے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔ آپ نے کہا کہ ”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔

حضرت  ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے  جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہیں اور مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں مالوں کو مامون جانیں۔’

 فساد پھیلانا قتل و غارتگری کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اللہ کے رسول اکرم کا ارشا د ہے: اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی کو قتل کرنا اور والدین کی نا فرمانی کرنا اللہ کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے۔ (البخاری)

بے گناہ مسلمانوں کا قتل اور دہشت گردی اسلام میں قطعی حرام بلکہ کفریہ اعمال ہے۔

اور جس کا جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت)۔ اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتحیاب ہے .سورہ الاسرا  ﴿17:33

دہشت دہشتگردی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جہاد کا حقیقی  مقصد امن کی بحالی ہوتا ہے۔ انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.