کابل: پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر خودکش حملے میں افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی43


 

کابل: پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر خودکش حملے میں 43افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

افغان دارالحکومت کابل میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر خودکش حملے میں 43 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔افغان میڈیا کے مطابق بدھ کی صبح ضلع پولیس میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر کار سوار خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

افغان وزارت داخلہ نے خودکش حملے کے نتیجے میں 43 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جب کہ حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ شہدا میں عام لوگ شامل ہیں۔

افغان وزات داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ دھماکا اس وقت ہوا جب ایک گاڑی کو پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر واقع چیک پوائنٹ پر روکا گیا۔

افغان وزارت صحت کا کہنا ہےکہ دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت زیادہ تر عام شہری زخمی ہوئے جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دھماکے کے وقت علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، دھماکے کے بعد پورے علاقے میں دھوئیں کے بادل چھا گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملے میں متعدد پولیس اور فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

طالبان  کی دہشتگردی ، خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. یہ جہاد نہ ہے بلکہ دہشتگردی گردی ہے۔ اسلام میں خودکشی حرام ہے۔

خود کش حملے ناجائز، حرام اورخلاف اسلام ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔

بے گناہ مسلمانوں کا قتل اور دہشت گردی اسلام میں قطعی حرام بلکہ کفریہ اعمال ہے۔بے گناہ انسانیت کا قتل شریعت اسلامیہ میں حرام ہے۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔

نہتے انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی گناہ ہے.کیا طالبان نے رسول اکرم کی یہ حدیث نہیں پڑہی، جس میں کہا گیا ہے کہ  ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں دہشت گردوں کا  بچوں کو وحشیانہ طریقے سے قتل و زخمی کرنا ،ایک بہت بڑی مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی ہے اور یہ  بچوں کے ساتھ ظلم ہے اور افغانستان کی آیندہ نسلوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے . دنیا کا کوئی مذہب بشمول اسلام حالت جنگ میں بھی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، کوئٹہ بم دھماکے میں معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ کہاں کی بہادری ہے؟

رسول اکرم سلم نے اپنی شفقت’ محبت اور انسیت جو آپۖ کو بچوں سے تھی اس کا اظہار کچھ اس طرح فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔