پاکستان میں عیدالاضحیٰ


پاکستان میں عیدالاضحیٰ
پاکستان میں اس سال عیدالاضحیٰ 12 اگست بروزسوموار  کو مذہبی جوش و خروش سے منائی جارہی ہے ، مسلمان حضرت ابراہیم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے عید الاضحی کے دن جانور قربان کریں گے ۔ ملک بھر میں عید کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں، عید کے موقع پر عوام خصوصاً بچوں میں خاصا جوش و خروش پایا جاتا ہے جو کئی دن قبل قربانی کے جانور لاکر ان کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اس حوالے سے خاصا جوش وخروش پایا جاتا ہے۔ کہیں خواتین خریداریوں کر رہی ہیں تو دوسری طرف مرد حضرات قربانی کیلیے چھریاں تیز کرانے اور قصائی ڈھونڈنے میں مصروف ہیں جبکہ ملک کے دیگر شہروں سے تلاش روزگار کیلیے آئے ہوئے لوگ بھی اپنے پیاروں کے ساتھ عید منانے کیلیے بے تاب نظر آتے ہیں۔

عید الضحی کی آمد آمد قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمانوں کو چھونے لگی،مویشی منڈیاں خالی ،مال مویشوں کے مالکان سخت پریشان ، بعض کا کہنا کہ پورا سال محنت کر کے جانوروں کا پالتے ہیں اور اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے ۔ مویشی منڈیوں میں جانوروں کو خریدنے کے لیے آنے والا کا راستہ دیکھ دیکھ کر بیوپاری حضرات شام کو گھر اداس لوٹ جاتے ہیں کچھ کسان حضرات کا کہنا ہے کہ پورا سال ہم اتنی محنت کر کے جانوروں کی خوب خدمت خاطر کرتے ہیں لیکن ہم کو ہماری مرضی کا بھاؤ نہیں ملتا گاہک کم قیمت میں خوبصورت اور اچھا جانور ڈھونڈتے ہیں ۔قربانی کے جانوروں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہرہوگئیں۔ لاہور میں اچھے بکرے کی پیمت 80 ہزار روے سے لیکر ایک لاکھ روے تک ہے اور گائے 95000 روپے سے زیادہ تک بک رہی ہے۔دنبہ یا بکرا خریدنا غریب کے بس میں نہیں رہا جس کے باعث اجتماعی قربانی کارجحان بڑھ گیاہے ۔

شام ہوتی نہیں کہ گلیوں میں بچے جانوروں کو ٹہلانے اور ریس لگانے کے لئے نکل پڑتے ہیں۔ گلیوں میں اور شامیانوں کے نیچے بندھے جانوروں کی ساری ساری رات دیکھ بھال اور رت جگوں کا سماع۔۔دیدنی ہے۔بیکریوں کے باہر بکرے کی ران راسٹ کرانے کے بینرز لگے ہیں۔ لوگوں کو قصابوں سے ’اپائنٹمنٹ‘ نہیں مل رہا۔ گوشت رکھنے کے لئے چٹائیوں کی دکانوں پر بھی خریداروں کا رش ہے ۔ٹوکریاں اور شاپنگ بیگز کے بھی دام اور ڈیمانڈ بڑھ چکی ہے۔

ادھر قصابوں نے بھی  اپنی چاقو چھریاں تیز کر کے عید قربان کے موقع پر شہریوں کی کھال اتارنے اورقربانی کے لئے اپنے من پسند دام وصول کرنے کے لئے شہروکینٹ میں اپنی تشہیرشروع کردی ہے ،جانور ذبح کرنے ، کھال اتارنے اور گوشت بنانے کے دام بڑھادئیے ہیں جبکہ اکثرقصابوں کے پاس عید کے پہلے دن کی بکنگ مکمل ہوگئی ہے۔

دینِ اسلام میں قربانی کی حیثیت ایک عبادت کی ہے ۔اور دینِ خداوندی میں عبادات کی حقیقت یہ ہے کہ اُن کے ذریعے سے بندہ اپنے پروردگار کے ساتھ اپنے تعلق کی یاد دہانی حاصل کرتا ہے ۔چنانچہ قربانی کی یہ عبادت بندہ اور اُس کے رب کے درمیان تعلق کا وہ مظہر ہے جسے سرِ عنوان بنا کر وہ اپنے مالک کی خدمت میں اپنا یہ پیام بندگی بھیجتا ہے۔

اے پروردگار! آج میں ایک جانور تیرے نام پر ذبح کر رہا ہوں ، اگر تیرا حکم ہوا تو میں اپنی جان بھی اِسی طرح تیرے حضور میں پیش کر دوں گا۔
اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قربانی مشروع کی ہے تاکہ اللہ نے اُن کو جو چوپائے بخشے ہیں ، اُن پروہ (ذبح کرتے ہوئے ) اُس کا نام لیں ۔پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے چنانچہ تم اپنے آپ کو اُسی کے حوالے کر دو۔اور خوشخبری دو اُن لوگوں کو جن کے دل خدا کے آگے جھکے ہوئے ہیں ۔‘‘ (الحج34:22)

حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور تمام احناف کے نزدیک قربانی واجب ہے۔ جس کا ثبوت مندرجہ ذیل حدیث مبارک سے ہو رہا ہے۔روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا قربانی واجب ہے ؟

حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی اور مسلمانوں نے قربانی کی اس نے پھر سوال کیا تو انہوں نے کہا کیا تم میں عقل ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی اور مسلمانوں نے قربانی کی ۔(جامع الترمذی)

قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں، ایک حصہ آپنے اور اہل و عیال کیلئے رکھا جائے، دوسرا رشتہ داروں میں، تیسرا مساکین و فقراء میں تقسیم کرے۔ غریبوں کی مدد ضرور کی جائے اور ان کو تیسرا حصہ ضرور دیا جائے، بہترین عمل یہی ہے۔

دوستو اس عید قربان پر اپنے غریب ہمسائیوں،دوستوں رشتہ داروں اور ہموطنوں اور گریبوں کو نہ بھولئیے گا۔