کوئٹہ کی مسجد میں دھماکہ، کم از کم 4 افراد ہلاک


کوئٹہ کی مسجد میں دھماکہ، کم از کم 4 افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کوئٹہ کے علاقے کچلاک میں بم دھماکے میں کم از کم 4افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوگئے۔ دھماکہ کچلاک ٹاﺅن میں کلی قاسم میں واقع مسجد میں ہوا۔

کچلاک پولیس کے ایک سینئر اہلکار نے فون پر بی بی سی کے محمد کاظم کو بتایا کہ دھماکہ نماز جمعہ کے خطبے کے دوران مسجد کے اندر ہوا۔ اہلکار نے بتایا کہ دھماکہ مسجد کے اندر دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 22زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں قاری احمد اللہ بھی شامل ہے جو کہ مسجد میں دھماکہ کے وقت خطبہ دے رہے تھے۔دھماکے میں زخمی افراد کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔پولیس اہلکار نے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

زخمی ہونے والے ایک شخص حکمت اللہ نے سول ہسپتال کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکہ خطبے کے دوران آگے کی صفوں میں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے ساتھ شعلہ بلند ہوا جس کے بعد دھویں اور گردوغبار کے باعث مسجد کے اندر اندھیرا چھا گیا۔

بعض دیگر عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ مسجد کے ممبر کے قریب ہوا۔کچلاک کوئٹہ شہر سے شمال میں اندازاً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس علاقے کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے جہاں افغان مہاجرین بھی آباد ہیں۔

ماضی میں امریکی حکام افغان طالبان کے رہنماﺅں بالخصوص افغان طالبان کے کوئٹہ شوریٰ کی اس علاقے میں موجودگی کا الزام بھی عائد کرتے رہے ہیں تاہم پاکستانی حکام ایسے الزامات کی سختی سے تردید کرتے رہے ہیں۔

ضلع کوئٹہ میں رواں سال نماز جمعہ کے خطبے کے دوران کسی مسجد میں بم دھماکے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل مئی کے مہینے میں کوئٹہ شہر کے علاقے پشتون آباد میں بھی ایک مسجد میں بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے تھے۔

https://www.bbc.com/urdu/pakistan-49372983

ایک رپورٹ کے مطابق ملا ہیبت اللہ ، طالبان کے امیر کے بھائی حافظ احمداللہ بھی اس واقعہ میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ داعش کے دہشتگرد اس واقعہ کے ذمہ دار ہیں۔

داعش کی دہشتگردی، اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے۔ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہ.دیتا ہے۔  

ایک بے گناہ انسان کا خون پو ری انسانیت کا خون ہے اور یہ بات طے ہےکہ  دہشت گر دی کے اس طر ح کے واقعات میں ملوث لوگ نا تو انسان ہیں اور نا ہی ان کو کو ئی مذہب ہو تا ہے ۔بے گناہ مسلمانوں کا قتل اور دہشت گردی اسلام میں قطعی حرام بلکہ کفریہ اعمال ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔( المائدہ 32:05

حضرت  ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے  جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہیں اور مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں مالوں کو مامون جانیں۔’

 فساد پھیلانا قتل و غارتگری کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اللہ کے رسول اکرم کا ارشا د ہے: اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی کو قتل کرنا اور والدین کی نا فرمانی کرنا اللہ کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے۔ (البخاری)

مساجد کی تباہی اور نمازیوں پر خودکش حملے ایک ناقابل معافی جرم ،انسانیت سوز اور سفاکانہ  داعش کاعمل   ہے۔ داعش کے دہشتگردمعصوم  انسانی جانوں کو اس بے دردی سے اپنی سفاکی کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ ہلاکو اور چنگیز خان  کی روحین بھی تڑپ گئی ہونگی۔ جسے اللہ تعالیٰ کے اتنے مقدس گھر میں خونزریزی کرتے ہوئے کوئی شرمندگی اورڈر محسوس نہ ہو اس کا اللہ تعالیٰ، اس کےرسول اللہ اور اسلام سے کیا واسطہ ہے؟

قران میں  ارشادہے :

اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کئے جانے کو روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے ۔۔۔ ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے ۔
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 114 )
مسجد اللہ کا گھر ہے ۔ مسجد میں اللہ ہی کی عبادت کی جاتی ہے ۔
اورمسجد کی اہمیت وخصوصیت کے بارے میں اللہ کے رسول فرماتے ہیں :
أحب البلاد إلى الله مساجدها
اللہ کو مسجدیں بہت زیادہ محبوب ہیں ۔
( مسلم ، کتاب المساجد ، باب فضل الجلوس فی مصلاہ بعد الصبح وفضل المساجد ، حدیث : 1560 )

داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔