کابل: شادی کی تقریب میں دھماکا، 63 افراد ہلاک


کابل: شادی کی تقریب میں دہماکہ،63 افراد ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں شادی کی ایک تقریب میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 63 افراد ہلاک اور 182 زخمی ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق دھماکا ہفتے کی رات کو کابل کے مغربی علاقے میں قائم ایک شادی ہال میں ہوا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔

دیگر شدت پسندوں نے شادی ہال کے باہر کھڑی ایک گاڑی کو بھی دھماکہ خیز مواد سے اڑایا۔

طالبان نے حملے میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ادھر افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد کابل میں حالیہ مہینوں میں ہونے والے حملوں سے کہیں زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

شادی کی تقریب میں موجود محمد فرہاگ کا کہنا تھا کہ وہ خواتین کے لیے مختص جگہ پر تھے کہ انہوں نے مردوں کی جگہ سے دھماکے کی آواز سنی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘دھماکے کے فوری بعد ہر کوئی روتے ہوئے بھاگتا ہوا نظر آیا۔

انہوں نے کہا کہ ’20 منٹ تک شادی ہال میں دھواں بھرا رہا، مردوں کی جگہ سے تقریباً تمام افراد ہلاک یا زخمی ہوئے اور دھماکے 2 گھنٹے بعد بھی شادی ہال سے لاشیں نکالی جارہی تھیں۔

https://www.dawnnews.tv/news/1108963

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سنیچر کی شب شادی کی ایک تقریب میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ایک خودکش بمبار نے شادی کی تقریب میں خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا جبکہ دیگر شدت پسندوں نے شادی ہال کے باہر کھڑی ایک گاڑی کو بھی دھماکہ خیز مواد سے اڑایا۔

https://www.bbc.com/urdu/regional-49384738

خود کش حملے ناجائز، حرام اورخلاف اسلام ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔

معاشرے میں فتنہ اور فساد پھیلانے والے داعش خوارج ہیں ۔ خوارج بے گناہوں کا خون بہا رہے ہیں۔ کسی بے گناہ کی جان لینا ظلم عظیم ہے جو کسی بے گناہ کو قتل کریں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں ۔ کسی بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ داعش خوارج انسانیت کے دشمن ہیں۔ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔

امت مسلمہ کے چاروں مسالک کے علماءکرام اور مفتیان عظام نے خود کش حملوں اور ان کے نتیجے میں جانی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد اسلامی ممالک میں خود کش حملے شریعت کی رو سے حرام اور اسلام کے منافی ہیں۔ کوئی بھی مسلمان دہشت گردی کا تصور تک نہیں کر سکتا۔

ایک بے گناہ انسان کا خون پو ری انسانیت کا خون ہے اور یہ بات طے ہےکہ  دہشت گر دی کے اس طر ح کے واقعات میں ملوث لوگ نا تو انسان ہیں اور نا ہی ان کو کو ئی مذہب ہو تا ہے ۔بے گناہ مسلمانوں کا قتل اور دہشت گردی اسلام میں قطعی حرام بلکہ کفریہ اعمال ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔( المائدہ 32:05

اسلام کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان یا انسان کی بلاوجہ جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔

نبی اکرم نے جنگ کے دوران کفار کے چھوٹے بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ معصوم بچوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرنا جہاد نہیں فساد ہے اور اسلام کے اس عظیم عمل کو بدنام کرنے کی خوفناک سازش ہے۔ اسلام میں بچوں اور عورتوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرناحالت جنگ میں بھی منع ہے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔ آپ نے کہا کہ ”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.