طالبان ، امن کانفرنس کی منسوخی کے ذمہ دار


طالبان ، امن کانفرنس کی منسوخی کے ذمہ دار

أفغانستان کے امن مزاکرات منسوخ ہو چکے ہیں اور اب یہ بحث جاری ہے کہ کس فریق کی وجہ سے یہ مزاکرات منسوخ ہوئے ہیں۔ امن ہر حالت میں جنگ سے بہترہوتا ہے اور ان مذاکرات کی وجہ سے یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ شاید اب أفغانستان میں امن کا قیام ممکن ہو جائے گا اور أفغانستان کے جنگ سے متاثرہ عوام کو جنگ سے سے کچھ ریلیف ملے گا۔

مگر طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کو دیکھ کر تو ایسا لگ رہا تھا کہ ان کی سیاسی قیادت اور جنگجوؤں کے درمیان امن معاہدے پر اتفاق نہیں تھا۔ طالبان نے ایک جانب مذاکرات اور دوسری جانب دباؤ بڑھانے اور طاقت کے مظاہرے کی جو حکمت عملی اختیار کی تھی اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ دنیا میں جہاں بھی اس قسم کے مذاکرات ہوتے ہیں اس کا ماحول برقرار رکھنے اور اعتمادسازی کیلئے ماحول کو سازگار رکھنے کی پوری سعی ہوتی رہی ہے۔

طالبان کی امن بات چیت  کی منسوخی کے نتیجے میں ، افغانستان اب ردعمل کا شکار ہے۔طالبان عسکریت پسند گروپ نے تشدد کی ایک شیطانی مہم  دوبارہ تیز کردی ہے۔

افغان طالبان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ انہوں نے ماضی میں عادتاً امن معاہدوں کو توڑا ہے اور  طالبان نے تشدد کو ترک کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ماضی میں بھی، عسکریت پسندوں نے معاہدے توڑے ہیں کیونکہ وہ امن پر تشدد کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ تشدد سے طاقت حاصل کرتے ہیں”۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔‘

طالبان عسکریت پسندوں سے کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ کو ختم کر دینے کی امید کرنا غلط ہے کیونکہ انہیں بندوقیں اور بم استعمال کرنے کی تربیت دی گئی ہے اور ان کی حکمتِ عملی میں امن کی کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ  قتل و غارت گری کے علاوہ کوئی اور کام جانتے ہیں۔

ادہر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں دہمکی دی گیئ ہے کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان خود امریکہ کو ہوگا، اُن کے اعتبار کو نقصان ہوگا، اُن کا امن مخالف مؤقف دنیا کو نظر آئے گا اور اُن کی جان اور مال کا نقصان زیادہ ہوگا۔‘

سیکورٹی کے سینئر تجزیہ کار لیفٹینٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے کہا کہ "طالبان نے امن کی امیدوں کو چکنا چور کر دیا کیونکہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے افغانستان میں بم دھماکے بھی کر رہے تھے جس کی وجہ سے مجبورا مذاکرات کو منسوخ کر دیا گیا”۔

انہوں نے کہا کہ "یہ انتہائی مایوس کن ہے کہ طویل عرصے سے انتظار کیے جانے والے امن

مذاکرات کے نتائج کو چکنا چور کر دیا گیا ہے۔ ہم نے امید پال لی تھی کہ طالبان دہشت گردی کو  ختم کریں گے اور امن کا راستہ چنیں گے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا”۔

پشاور کے ایک امام مولانا جلال شاہ نے کہا کہ طالبان بار بار اپنے وعدوں کو توڑنے سے، دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے بدنامی کا باعث بنے ہیں”۔

انہوں نے طالبان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "مسلمان ہونے کے ناطے، آپ کو مخالفین سے کیے جانے والے معاہدوں پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ معاہدوں کا احترام کرنا اسلام کے بنیادی اجزا میں سے ایک ہے”۔

انہوں نے کہا کہ تاہم، عسکریت پسند، اسلام کی تعلیمات کے برخلاف، اپنے ہی لوگوں کو ہلاک کرنا جاری رکھیں گے”۔

امام شاہ نے کہا کہ تمام طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے مذہبی علماء نے خودکش حملوں کی مخالفت کی ہے اور ان کے خلاف فتوے دیے ہیں مگر طالبان ایسی ہلاکتوں اور عام شہریوں کو زخمی کرنا جاری رکھا ہوا ہے۔

طالبان کو اس امر پر بالآخر قائل ہونا پڑے گا کہ جنگ اور امن مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں ہوسکتے۔ ہم پھر بھی یہ امید کرتے ہیں کہ طالبان امن کو جنگ پر ترجیح دیں گے اور مذاکرات کی میز پر امن مذاکرات دوباہ شروع کریں گے۔ اگر افغانستان میں جنگ کا خاتمہ مطلوب ہے تو پھر مذاکرات کے ذریعے ہی اس کا حصول ممکن ہوگا اور مذاکرات کے ذریعے ہی امن آئے گا۔