القائدہ راہنما عاصم عمر کی ہلاکت


القائدہ راہنما عاصم عمر کی ہلاکت

القاعدہ برصغیر کے راہنما کو افغانستان، ہلمند کے علاقہ موسی قلعہ میں طالبان کے کمپاونڈ میں  دیگر 6 ساتھیوں کے ہمراہ ہلاک کیا گیا۔ عاصم عمر پاکستانی تھے، لیکن بعض رپورٹس کے مطابق وہ اتر پردیش ،انڈیا میں پیدا ہوئے تھے اور نوے کی دہائی کے آخر میں پاکستان آئے تھے۔ وہ القاعدہ سے پہلے حرکت الجہاد الاسلامی کے رکن تھے اور اس گروپ کے القاعدہ کے ساتھ رابطوں کی وجہ سے عاصم عمر نے بعد میں القاعدہ میں شمولیت اختیار کی۔ القائدہ  پاکستا ن اور افغانستان میں کافی حد تک ،اسامہ بن لادن کی  ہلاکت کے بعد کمزور ہوگئی تھی۔عاصم عمر کی ہلاکت سے القائدہ کی ریڑہ کی ہڈی ٹوٹ گئی  ہے اور اب اس کا خاتمہ یقینی  ہو گیا ہے۔

حالات گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان  و افغانستان کا علاقہ اب القائدہ کے لئے محفوظ نہ رہا ہے کیونکہ القاعدہ کے بے شمار لوگ یہاں مارے جا چکے ہیں یا گرفتار ہوچکے ہیں۔

 القائدہ ایک  مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہ ہے،جس کا اسلام سے دور کا واسطہ نہ ہے اور اسامہ ان مجرموں کا سردار تھا۔ القائدہ  کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہیں اور القائدہ کی حماقتوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔