ننگرہار کی مسجد میں دھماکے، 65 نمازی شہید، 100سے زائد زخمی


ننگرہار کی مسجد میں دھماکے، 65 نمازی شہید، 100سے زائد زخمی

 افغانستان کے صوبے ننگر ہار میں نماز جمعہ کے دوران مسجد میں2 بم دھماکوں سے 65 نمازی شہید اور 100سے زائد زخمی ہوگئے ۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ننگر ہار میں نماز جمعہ کے دوران مسجد میں2 بم دھماکوں کے بعد 65 نمازی شہید اور 100سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکے اس قدر خوفناک اور شدید تھے کہ مسجد کے شیشے ٹوٹ گئے اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا، ریسکیو اداروں نے فوری شہید اور زخمی ہونے والوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا ۔زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بیان کی جارہی ہے ۔ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ،ننگرہار پولیس کے سربراہ نے کہاہے کہ دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ننگرہار صوبے کے گورنر کے ترجمان عطااللہ خوگیانی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کے اندر رکھے دھماکا خیز مواد کے نتیجے میں کئی دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں مسجد مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ داعش کو علم ہونا چاہئیے کہ مساجد امن کا گہوارہ ہیں،مساجد پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہے دہشتگردوں کو مسجد کی حرمت کا بھی کوئی خیال نہ ہے

داعش اس واقعہ کا ذمہ دار ہے۔

دہشتگردی اور بم دہماکے حرام اورخلاف اسلام ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ معاشرہ میں فتنہ و فساد پھیلاتےہیں ۔ داعش خوارج بے گناہوں کا خون بہا رہے ہیں۔ کسی بے گناہ کی جان لینا ظلم عظیم ہے جو کسی بے گناہ کو قتل کریں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں ۔ کسی بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ داعش خوارج انسانیت کے دشمن ہیں۔ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔( المائدہ 32:05

نبی کریم نے جنگ کے دوران کفار کے چھوٹے بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے اور عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ معصوم بچوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرنا جہاد نہیں فساد ہے اور اسلام کے اس عظیم عمل کو بدنام کرنے کی خوفناک سازش ہے۔ اسلام میں بچوں اور عورتوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرناحالت جنگ میں بھی منع ہے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔ آپ نے کہا کہ ”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔