سانحہ اے پی ایس کی 5 ویں برسی


سانحہ اے پی ایس کی 5 ویں برسی

پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں طالبان کے دہشت گرد حملے کو5 سال بیت گئے، سفاک حملہ آوروں نے اسکول پرنسپل طاہرہ قاضی سمیت 150 کے قریب طلبہ اور اساتذہ کو شہید کیا تھا۔

اس سانحے نے پوری قوم کو دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے متحد کیا اور سیکورٹی اداروں نے کامیاب کارروائیاں کرکے وطن کو دہشت گردوں سے پاک کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

 پاکستان کی تاریخ میں 16 دسمبر 2014 وہ بدقسمت دن تھاجس نے ہر محب وطن پاکستانی کو دلگیر و اشکبار کیا، یہ وہ دن تھا جس کا سورج حسین تمناؤں اور دلفریب ارمانوں کے ساتھ طلوع ہوا، مگر غروب 132 معصوم و بے قصور بچوں کے لہو کے ساتھ ہوا۔

صبح دس سے ساڑھے دس بجے کے درمیان7 دہشت گرد اسکول کے قریب پہنچے اور اپنی گاڑی کو نذر آتش کیا۔ اس کے بعد سیڑھی لگا کر اسکول کے عقبی حصہ میں داخل ہوئے اور معصوم طالب علموں اور بےگناہ اساتذہ پر اندھادھند فائرنگ کی۔

سفاک دہشت گرد ایف سی کی وردیاں پہن کر اسکول میں داخل ہوئے، انسانیت سے سارے ناطے توڑ کر درندگی کو گلے لگانے والوں نے اسکول کے مرکزی ہال اور کلاس رومز میں گھس کر ان کلیوں کو بے دردی سے مسل ڈالا جو ابھی  کِھل بھی نہ پائی تھیں۔

واقعے میں ا سکول پرنسپل طاہرہ قاضی بھی دیگر کئی اساتذہ کے ساتھ شہید ہوئیں اور ہمیشہ کیلئے امر ہوگئی۔ حملے میں 2 دہشت گردوں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا تھا۔ اے پی ایس پر لگے زخم نے حکومت وقت کو نیشنل ایکشن پلان ترتیب دینے اور کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کو از سر نو فعال کرنے جیسے اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا۔

انہی اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردوں کو نشان عبرت بنانے کیلئے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا، بلاشبہ اے پی ایس کے 132 بچوں سمیت  150 فرزندان وطن نے اپنے لہو سے وہ شمع روشن کی جس کی لو آج بھی تازہ و غیر متزلزل ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ اے پی ایس پشاور میں ہونے والا قتل عام کبھی نہیں بھولیں گے، 5 دہشت گردوں کو ملٹری کورٹس کے ذریعے تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہداء کی پانچویں برسی کے موقع پر اپنے ایک بیان میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سانحہ کے شہداء اور ان کے اہل خانہ کو سلام پیش کیا اور کہا کہ متحد ہو کر پاکستان کے پائیدار امن اور خوشحالی کی طرف گامزن ہیں۔

سانحہ پشاور کے کرب سے گزرنے والی ماؤں کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ سانحہ آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں نے اپنے خون سے تاریخ رقم کی ان کا خون رائیگاں نہیں جائیگا۔ قوموں کی زندگیوں میں بجا طور پر ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو ان ترجٰیحات کو بدل ڈالتے ہیں۔ سانحہ پشاور کو بھی اس سرزمین پر دہشت گردی کی ایسی کاروائی سے منسوب کیا گیا جس نے انتہاپسندی کے عفریت کو پوری طرح نے نقاب کر کے رکھ ڈالا۔ اس ضمن میں سیاسی اور عسکری قیادت نے متفقہ طور پر دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے اس پختہ عزم کا اظہار کیا جس کی ایک جھلک کسی نہ کسی شکل میں اب بھی نظر آرہی۔ اس میں شک نہیں کہ انتہاپسندی کے خلاف جن بیس نکات کو منظور کیا گیا اس پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہوسکا مگر حکومت پر بجا طور پر یہ دباو موجود ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمہ کے مذید موثر اقدامات اٹھائے۔

طالبان قران کی زبان میں مسلسل فساد فی الأرض کےمرتکب ہو رہے ہیں۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا ۔ اسلامی شریعہ کے مطابق عورتوں اور بچوں کا قتل باقاعدہ جنگ میں میں بھی منع ہے۔طالبان نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان بلکہ انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
آج کے دن پوری پاکستانی قوم اس عزم کودہرائے گی کہ ہم دہشت گردی کی کسی بھی صورت کو برداشت نہ کریں گے ۔آج کے دن ہمیں تمام دنیاکویہ پیغام دیناچاہیں گے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی مانندہیں اس قوم کاہرجوان،ہربزرگ،ہرخاتون اورہربچہ دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے میں اپنے کردارکیلئے پرعزم ہے پوری قوم اپنی بہادراورجری افواج کی پشت پرہے۔ تمام پاکستانییوں کی ہمدردیاں شہیدہونے والوں کے ورثاء کے ساتھ ہیں ان میں ہرایک کاغم ان کاذاتی نہیں پوری قوم کاغم ہے شہیدہونے والے بچے اوراساتذہ اس ملک اور قوم کاقیمتی سرمایہ تھے ،ہیں اورتاقیامت رہیں گے۔