طالبان سے امن معاہدہ


طالبان سے امن معاہدہ 

تشدد میں کمی‘ کے معاہدے کا اعلان  جلد ہو جائے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان میں بات چیت کے ذریعے امن کو موقع دیا جائے۔  تمام سٹیک ہولڈرز کو امن کو ایک موقع دینا ہو گا کیونکہ یہ افغانستان میں آگے بڑھنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے گو کہ اس میں نئے خطرے مول لینا ہوں گے۔ وقت آچکا ہے کہ ’جنگ کو ختم کرنے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔امن سے بڑہ کر کو ئی چیز نہ ہے۔افغانستان کے باشندوں کو جو گذشتہ کئی سالوں سے اس جنگ کی سختیاں جھیل رہے ہیں، جلد ہی امن کو دیکھیں گے۔بات چیت کے علاوہ اور کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔ گزشتہ چالیس برس سے افغانستان میں عدم استحکام کا خمیازہ دونوں پاکستان اور افغانستان یکساں طورپر بھگت رہے ہیں ۔طالبان کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ جو افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی راہ ہموار کرسکتا ہے بظاہر بہت امید افزا ہے تاہم اس سے خطرہ ختم نہیں ہوا۔ تمام فریقین کو نیک نیتی سے اس مواہدہ پر عمل کرنا ہو گا۔  افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ مسعود اندرابی نے کہا کہ تشدد میں کمی کے دور کا آغاز آئندہ پانچ دن میں ہو جائے گا جو طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا ہے۔ اگر معاہدے کی مدت کے دوران حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو افغانستان میں موجود عالمی افواج اس کا بھرپور جواب دیں گی۔ تاہم ہمیں اس غلط فہمی میں بھی نہیں رہنا چاہیے کہ امریکا کا افغان طالبان کے ساتھ معاہدہ ہوتے ہی امن قائم ہوجائے گا، یقینی طور پر افغانستان میں ایسے جنگجو و سیاسی گروپ بھی موجود ہیں، جو امارات اسلامیہ کے مخالف اور ان کے اپنے فروعی مفادات ہیں، امریکی و افغان طالبان کے درمیان معاہدہ انہیں قبول بھی نہ ہو۔ لہذا اس موقع پردونوں فریقین دور اندیشی سے کام لیں اور افغان مفاہمتی عمل کو ایک بار پھر مُردہ کرنے کی عجلت کو نہ دوہرائے کیونکہ یہ خطے میں تمام ممالک کے حق میں بہتر ہے۔افغانستان میں امن تب ہی ممکن ہو گا جب اس حوالہ سے ہونے والا معاہدہ تمام سٹیک ہولڈرز کو قابل قبول ہو گا۔