سانحہ اے پی ایس کی 5 ویں برسی


سانحہ اے پی ایس کی 5 ویں برسی

پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں طالبان کے دہشت گرد حملے کو5 سال بیت گئے، سفاک حملہ آوروں نے اسکول پرنسپل طاہرہ قاضی سمیت 150 کے قریب طلبہ اور اساتذہ کو شہید کیا تھا۔

اس سانحے نے پوری قوم کو دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے متحد کیا اور سیکورٹی اداروں نے کامیاب کارروائیاں کرکے وطن کو دہشت گردوں سے پاک کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

 پاکستان کی تاریخ میں 16 دسمبر 2014 وہ بدقسمت دن تھاجس نے ہر محب وطن پاکستانی کو دلگیر و اشکبار کیا، یہ وہ دن تھا جس کا سورج حسین تمناؤں اور دلفریب ارمانوں کے ساتھ طلوع ہوا، مگر غروب 132 معصوم و بے قصور بچوں کے لہو کے ساتھ ہوا۔

صبح دس سے ساڑھے دس بجے کے درمیان7 دہشت گرد اسکول کے قریب پہنچے اور اپنی گاڑی کو نذر آتش کیا۔ اس کے بعد سیڑھی لگا کر اسکول کے عقبی حصہ میں داخل ہوئے اور معصوم طالب علموں اور بےگناہ اساتذہ پر اندھادھند فائرنگ کی۔

سفاک دہشت گرد ایف سی کی وردیاں پہن کر اسکول میں داخل ہوئے، انسانیت سے سارے ناطے توڑ کر درندگی کو گلے لگانے والوں نے اسکول کے مرکزی ہال اور کلاس رومز میں گھس کر ان کلیوں کو بے دردی سے مسل ڈالا جو ابھی  کِھل بھی نہ پائی تھیں۔

واقعے میں ا سکول پرنسپل طاہرہ قاضی بھی دیگر کئی اساتذہ کے ساتھ شہید ہوئیں اور ہمیشہ کیلئے امر ہوگئی۔ حملے میں 2 دہشت گردوں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا تھا۔ اے پی ایس پر لگے زخم نے حکومت وقت کو نیشنل ایکشن پلان ترتیب دینے اور کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کو از سر نو فعال کرنے جیسے اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا۔

انہی اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردوں کو نشان عبرت بنانے کیلئے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا، بلاشبہ اے پی ایس کے 132 بچوں سمیت  150 فرزندان وطن نے اپنے لہو سے وہ شمع روشن کی جس کی لو آج بھی تازہ و غیر متزلزل ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ اے پی ایس پشاور میں ہونے والا قتل عام کبھی نہیں بھولیں گے، 5 دہشت گردوں کو ملٹری کورٹس کے ذریعے تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہداء کی پانچویں برسی کے موقع پر اپنے ایک بیان میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سانحہ کے شہداء اور ان کے اہل خانہ کو سلام پیش کیا اور کہا کہ متحد ہو کر پاکستان کے پائیدار امن اور خوشحالی کی طرف گامزن ہیں۔

سانحہ پشاور کے کرب سے گزرنے والی ماؤں کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ سانحہ آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں نے اپنے خون سے تاریخ رقم کی ان کا خون رائیگاں نہیں جائیگا۔ قوموں کی زندگیوں میں بجا طور پر ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو ان ترجٰیحات کو بدل ڈالتے ہیں۔ سانحہ پشاور کو بھی اس سرزمین پر دہشت گردی کی ایسی کاروائی سے منسوب کیا گیا جس نے انتہاپسندی کے عفریت کو پوری طرح نے نقاب کر کے رکھ ڈالا۔ اس ضمن میں سیاسی اور عسکری قیادت نے متفقہ طور پر دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے اس پختہ عزم کا اظہار کیا جس کی ایک جھلک کسی نہ کسی شکل میں اب بھی نظر آرہی۔ اس میں شک نہیں کہ انتہاپسندی کے خلاف جن بیس نکات کو منظور کیا گیا اس پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہوسکا مگر حکومت پر بجا طور پر یہ دباو موجود ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمہ کے مذید موثر اقدامات اٹھائے۔

طالبان قران کی زبان میں مسلسل فساد فی الأرض کےمرتکب ہو رہے ہیں۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا ۔ اسلامی شریعہ کے مطابق عورتوں اور بچوں کا قتل باقاعدہ جنگ میں میں بھی منع ہے۔طالبان نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان بلکہ انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
آج کے دن پوری پاکستانی قوم اس عزم کودہرائے گی کہ ہم دہشت گردی کی کسی بھی صورت کو برداشت نہ کریں گے ۔آج کے دن ہمیں تمام دنیاکویہ پیغام دیناچاہیں گے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی مانندہیں اس قوم کاہرجوان،ہربزرگ،ہرخاتون اورہربچہ دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے میں اپنے کردارکیلئے پرعزم ہے پوری قوم اپنی بہادراورجری افواج کی پشت پرہے۔ تمام پاکستانییوں کی ہمدردیاں شہیدہونے والوں کے ورثاء کے ساتھ ہیں ان میں ہرایک کاغم ان کاذاتی نہیں پوری قوم کاغم ہے شہیدہونے والے بچے اوراساتذہ اس ملک اور قوم کاقیمتی سرمایہ تھے ،ہیں اورتاقیامت رہیں گے۔

گاجر کا حلوہ


گاجر کا حلوہ

گاجر کا حلوہ بر صغیر ہندو پاک کے ہر خاص و عام کی پسند ہے۔ یہ مغلیہ دور میں مغلیہ دربار کا پسندیدہ میٹھا ہوتا تھا۔ سردیوں میں گرم گرم گاجر کا حلوہ ایک عجب مزہ دیتا ہے۔

گاجر کا حلوہ گھر میں بنانے کی آسان ترکیب

اجزا:

کدوکش گاجر۔۔۔2 کلو

چینی۔۔۔1-2/1 کپ

ہر ی الائچی۔۔۔10 عدد

پگھلا ہوا گھی۔۔۔2/1 کپ

کھویا۔۔۔500 گرام یا 2 کپ

بادام ، پستے سلائس۔۔۔4 کھانے کے چمچے

ترکیب:

ایک پین میں 2 کلو کدوکش گاجر اور 1-2/1 کپ چینی ڈال کر ہا تھ سے اچھی طرح مکس کریں۔ اب اس میں 10 عدد ہر الائچی ڈال کر ڈھکیں اور پکالیں۔ پانی خشک ہو جائے تو اس میں 2/1 کپ پگھلا ہوا گھی ڈال کر 10 منٹ کیلئے اچھی طرح فرائی کر لیں، یہاں تک کہ پانی اچھی طرح خشک ہو جائے۔پھر اسے چولہے سے اتار کر 500 گرام یا 2 کپ کھویا شامل کر کے اس پر فوراً حلوہ ڈالیں اور 15 منٹ کیلئے چھوڑ دیں ۔ آخر میں اسے اچھی طرح مکس کر کے سرو کر یں۔مزیدار

گرما گرم گاجر کا حلوہ تیار ہے۔

پاکستانی طالبان کی دہشتگردی


 پاکستانی طالبان کی دہشتگردی

ایک وقت تھا کہ پورا پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا ۔طالبان دہشت گرد جہاں چاہتے اور جس طرح کے ٹارگٹ کو چاہتے اپنے نشانے پر رکھ لیتے ۔طاقت کے نشے میں چور ، دہشت گردانہ عزائم رکھنے والے طالبان  نے اپنے ہی بھائیوں کو نشانے پر رکھ لیا تھا ۔اسلام کا نام لے کر نہتے لوگوں اور اپنے ملک کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے خلاف ’’جہاد‘‘کا اعلان کردیاگیاجوکہ اصل میں فساد فی الارض تھا۔قانون نافذ کرنیوالے ادارے، اسپتال، ہوٹل، مزار، مساجد غرض کوئی علاقہ بھی دہشتگردی سے بچا ہوا نہیں تھا۔ ان دہشتگردوں کیخلاف ایک عشرے سے زائد سیکیورٹی  فورسز اپنی پوری تندہی و طاقت سے برسرپیکاررہے ۔اب کچھ عرصہ سے جب سیکیورٹی اداروں نے محسوس کیا ہے کہ دہشتگرد تعداد میں کم ہوچکے ہیں اور ان کی طاقت کا محورختم ہوچکا ہے تو دیگر مسائل پر توجہ دی جارہی ہے۔ طالبان دہشتگرد اب سرحد پار بھاگ گئے ہیں اور  ان کے باقیات آئے دن سرحدی اور  شہری علاقوں میں  دہشتگردانہ حملے کرتے رہتے ہیں۔ طالبان اسلام کے  مقدس نام کو بدنام کر رہے ہیں۔ طالبان سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صرف وہ ہی مسلمان ہیں اور باقی سب کافر بستے ہیں ،اس لئے وہ سب دوسرے مسلمانوں کا قتل جائز سمجھتے ہیں۔ مزید براں طالبان پاکستان کے موجودہ سیاسی اور سماجی نظام و ڈہانچےکو غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اس سیاسی و سماجی ڈہانچے کو بزور طاقت گرانے کے خواہاں ہیں۔ طالبان جمہوریت کو بھی غیر اسلامی گردانتے ہیں جبکہ مفتی اعظم دیو بند کا خیال ہے کہ طالبان اسلامی اصولوں کو مکمل طور پر نہ سمجھتے ہیں۔ کیا طالبان نے رسول اکرم کی یہ حدیث نہیں پڑہی، جس میں کہا گیا ہے کہ ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے؟

جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲ )

کینو کے چھلکوں کا فائدہ


کینو کے چھلکوں کا فائدہ 

کینو کے چھلکوں سے آپ کئی طرح کے فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ وٹامن سی سے بھرپور پھل کے چھلکوں میں بھی فائبر ، وٹامن بی 6 ، کیلشیم، وٹامن اے ، فولک ایسڈ سمیت جڑی بوٹی ہونے کے سبب پولی فینول طبی اجزاء پائے جاتے ہیں جو دل اور معدے کے امراض میں بے حد مفید ہیں، یہ مانا جاتا ہے کہ پولی فینول کی موجودگی کینو کے چھلکے دائمی صحت میں کردار ادا کرتی ہیں، چھلکےذیابطیس 1 اور ذیابطیس 2، موٹاپا، الزائیمر جیسی بیماریوں سے بچاؤ کے ساتھ بیماریوں کے علاج میں بھی مفید ہیں۔

*انہیں کاٹ کر خشک کریں اور اس سے مزیدار چائے کا لطف اٹھائیں، یہ چائے بھی وٹامن سی سے بھرپور ہوگی۔

*اگر آپ کپڑوں سے بدبو دور کرنا چاہتے ہیں تو کینو یا مالٹے کے چھلکے کاٹ کر خشک کرلیں اور انہیں الماری میں رکھ دیں، کپڑوں میں سے خوشبو آنے لگے گی۔

*انہیں ابال کر نہانے والے پانی میں شامل کرنے سے جسم سے خوشبو آئے گی اور آپ کی جلد تازہ رہے گی۔

*ان میں موجود تیزابیت کی وجہ سے دانتوں کو چمکایا جاسکتا ہے۔اگلی بار اپنے دانتوں کو ان چھلکوں سے صاف کریں اور فرق دیکھیں۔

*ان چھلکوں کو جلد پر ملنے سے آپ کے قریب کیڑے مکوڑے نہیں آئیں گے، مچھروں سے بچنے کے لئے بھی یہ ایک آزمودہ نسخہ ہے۔

*چھلکوں کو سرکے میں بھگو کررکھیں اور اس کی مدد سے داغ اور نشانات کو صاف کریں۔

*ان چھلکوں کو سوکھانے کے بعد اچھی طرح پیس کر سفوف بنالیں، اب اس سفوف کو شہد میں اچھی طرح حل کریں اور چہرے پر ماسک کے طور پر استعمال کریں۔

*اگر آپ کچن میں موجود کچرے کی بو سے پریشان ہیں تو باسکٹ میں کینو کے چھلکے ڈال دیں،

ناگوار بو کا خاتمہ ہوجائے گا۔

ان چھلکوں سے جیم بنایا جا سکتا ہے۔

سنگھاڑے کے فائدے


سنگھاڑے کے فائدے

بہت سے فائدے ہیں، لیکن کم افراد کو ان کے بارے میں معلوم ہے۔ جب اسے تازہ فروخت کیا جاتا ہے تواس میں خفیف سے زہریلے اثرات بھی ہوتے ہیں۔ کھانے سے پہلے اسے اچھی طرح سے دھولینا چاہیے۔ سنگھاڑے کوکئی طرح سے کھاسکتے ہیں، چاہے اُبالیں، تلیں یابھونیں، لیکن تقریباََ سات منٹ تک، اس سے زیادہ نہیں ورنہ خراب ہوسکتا ہے۔

یہ بھوک کو بڑھاتا ہے۔
٭ سنگھاڑا مرض جریان اور مردانہ کمزوری میں کھانا مفید ہوتا ہے۔
٭ سنگھاڑا امراض قلب میں فائدہ مند رہتا ہے۔
٭ سنگھاڑا دبلے پتلے افراد کو موٹا کرتا ہے۔
٭ سنگھاڑا حلق کی خشکی کو دور کرنے میں مدد گار ہے۔
٭ سنگھاڑا گردے کی پتھریوں کو توڑنے کے لئے بہتر کام کرتا ہے۔
٭ سنگھاڑا تلی کی کمزوری کو دور کرتا ہے۔
٭ سنگھاڑا دماغ کی صحت کے لئے بھی مفید ہے۔
٭ سنگھاڑا جسم میں خون کی روانی کو بہتر بناتا ہے۔
٭ سنگھاڑا کھانسی کو ختم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
٭سنگھاڑا معدے اور انتڑیوں کے زخموں کو شفا دیتا ہے۔
٭ سنگھاڑا بڑھاپے میں کمزور یاداشت کو بہتر کرنے میں مدد گار ہے۔
٭ خونی دستوں میں سنگھاڑے کا استعمال فائدہ مند رہتا ہے۔
٭سنگھاڑا کھانے سے دانت مضبوط اور چمکدار ہوتے ہیں۔
٭ زچگی کے بعد خواتین کا سنگھاڑے کا آٹا استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔
٭ سنگھاڑا کے پاؤڈر کو زخموں پر چھڑکا جائے تو خون بہنا رک جاتا ہے۔
٭ مقعد کے ناسور میں سنگھاڑا کھانا فائدہ مند ہے۔
٭ سنگھاڑے کا حلوہ جسم کو فربہ کرتا ہے۔

 تازہ سنگھاڑے میں نشاستہ (کاربوہائڈریٹ) لحمیات (پروٹینز)، فولاد اور آیوڈین ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں میگنیزئیم، کیلسئیم، پوٹاشیئم، جست تانبا اور کثیرالحیاتین بھی ہوتی ہیں۔ ڈبوں کی نسبت تازہ حالت میں مذکورہ صحت بخش اجزا اس میں دگنی مقدار میں ہوتے ہیں۔ صحت مند زندگی کے لیے سنگھاڑا ایک عمدہ غذا ہے۔ نصف پیالی سنگھاڑوں میں 1ء 0گرام چکنائی، 8ء 14گرام نشاستہ اور 9ء 0گرام لحمیات ہوتی ہیں دودھ کے مقابلے میں اس میں 22فیصد معدنیات زیادہ ہوتی ہیں، جب کہ حراروں کی تعداد 60ہوتی ہے۔ اس میں کولیسٹرول نہیں ہوتا۔ سنگھاڑے میں سوڈئیم بہت کم ہوتاہے۔ حیاتین ب 6اور ب 7(وٹامنزبی 6اور بی 7) 10فیصد ہوتی ہیں۔ جوقوت مدافعت بڑھاتی اور دماغ کوطاقت دیتی ہیں۔ اس میں تھایامن اور رائبوفلاون بھی ہوتے ہیں، جو غذا کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ چکنائی نہ ہونے کی بناپراسے کھانے سے وزن نہیں بڑھتا۔ ان سب فوائد کے باجود سنگھاڑے کومناسب مقدار میں کھانا چاہیے، حال آنکہ یہ معدے کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن ایک صحت مند شخص کودس سے پندرہ گرام سنگھاڑوں سے زیادہ نہیں کھانا چاہیے۔ زیادہ کھانے کی صورت میں آپ کے معدے میں درد ہوسکتا ہے۔ 

افغان امن مذاکرات


انگریزی زبان کی کہاوت ہےجو لوگ تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے تاریخ انہیں سبق سیکھاتی ہے۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات دوہا، قطر میں دوبارہ شروع ہوے۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے "مذاکرات” ہی مثبت اور واحد راستہ ہے۔ پرامن افغانستان پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔ بات چیت ہی سیاسی روڈ میپ اور دیرپا امن کا راستہ ہے۔ بات چیت کے علاوہ اور کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔ گزشتہ چالیس برس سے افغانستان میں عدم استحکام کا خمیازہ دونوں پاکستان اور افغانستان یکساں طورپر بھگت رہے ہیں۔

ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان میں اکثریت یعنی 88.5 فیصد لوگ، طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششوں کی پرزور یا کسی حد تک حمایت کرتے ہیں۔

افغانستان میں ہر روز طالبان کےبم دھماکے ہو رہے ہیں اور بے گناہ اور معصوم مرد ، عورتوں اور بچوں کا ناحق قتل ہورہا ہے اور ملک کو تباہ کیا جا رہا ہے اور اس طرح ملک بجائے آگے بڑہنے کے پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔ ان حالات کی وجہ سے طالبان پر  جنگ کو ختم کرنے سے متعلق عوامی دباو میں اضافہ ہورہا ہے اور طالبان ایک لمبے عرصہ تک اس دباو کو نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہ ہیں کیونکہ عوام کا صبر جواب دے چکا ہے۔

قران حکیم کی سورۃ انفال میں ہدایت کی گئی ہےـ اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہو تو تم بھی اس کے لئے آمادہ ہوجاؤ، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، بے شک اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لئے اللہ ہی کافی ہے‘‘یعنی اللہ کے نزدیک صلح و آشتی اتنی پسندیدہ چیز ہے کہ دشمن سے دھوکے کا اندیشہ ہو تب بھی اللہ کے بھروسے پر صلح کے راستے کو ترجیح دینے کو کہا گیاہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام جو امن و سلامتی کا دین ہے، حتی الامکان خونریزی کو روکنا چاہتا ہے اور کوئی دوسری صورت باقی نہ رہنے کی شکل ہی میں مسلح جنگ کی اجازت دیتا ہے۔

افغانستان کا معاملہ کئی سال پرانامسئلہ ہے اور اس کے دیرپا حل کیلیے اصل طالبان کو بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا، ان کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہو گا،  فریقین کوانتہائی سنجیدگی اور ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ کئی سال سے بدامنی کے شکار،افغانستان میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموارہوسکے۔طالبان کو بھی زمینی حقائق کا ادراک ہونا چاہئے کیونکہ لمبی خانہ جنگی اور آئے روز کی بڑہتی ہوئی ہلاکتوں کی وجہ سے افغانستان کے لوگ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل سے متعلق مایوس ہیں اور وہ جنگ سے بھی تنگ آچکے ہیں اور امن کو موقع دینے کے خواہاں ہیں۔قطر میں طالبان کے ایک رہنما اور دو دیگر افراد نے بتایا کہ یہ گروپ مذاکرات کے دوران امریکیوں کے ساتھ "مکمل فائر بندی” پر راضی ہے اگر واشنگٹن بالآخر افغان سرزمین سے تمام فوجیں واپس بلانے پر راضی ہوجاتا ہے۔

طالبان کو بھی ان مذاکرات میں بلاکسی شرط  ،شامل ہو کر، کچھ دو  کچھ لو کی بنیاد پر  اس کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے فریقین کے رویوں میں لچک ضروری ہے دونوں فریقوں کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کے رویوں میں لچک نہ ہونے کے باعث انہیں  عوام کے عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خیبر پختونخواہ تعلیمی اداروں پر دہشتگردوں کے حملے کا خطرہ، الرٹ جاری


خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور میں واقع سرکاری و نجی تعلیمی اداروں پر دہشت گردوں کے ممکنہ حملے کے خطرے کے پیشِ نظر حفاظتی اقدامات کی ہدایت کر دی ہے۔ محکمہ اعلٰی تعلیم کی جانب سے سرکاری و نجی سکولوں، کالجوں اور جامعات سمیت دیگر تعلیمی اداروں کو جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کا ایک گروپ پشاور کے تعلیمی اداروں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کیلئے متعلقہ اداروں نے الرٹ بھی جاری کیا ہے، لہٰذا تمام تعلیمی ادارے سکیورٹی کے فل پروف انتظامات کو یقینی بنائیں۔

تعلیم کے دشمن، ظالم ، بے رحم اور انسانیت کے دشمن طالبان دہشتگردوں نے پاکستان کی امیدوں اور مستقبل پر حملے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے ۔ چونکہ طلبہ سافٹ ٹارگٹ ہیں، ان پر حملے سے زیادہ دہشت پھیلتی ہے، اور دہشت گرد یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آپریشن ضربِ عضب کے بعد بھی ان میں اب بھی صلاحیت ہے کہ وہ دہشت پھیلا سکتے ہیں۔دہشت گرد ہمارے تعلیمی اداروں پر حملے کر کے ہماری نوجوان نسل کو ملک کے روشن مستقبل سے مایوس نہیں کرسکتے اور وہ اپنے ناپاک عزائم میں ناکام رہیں گے۔

طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزاں ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔بچوں اور بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔ طالبعلموں اور اساتذہ کے قتل اور اغوا میں ملوث ہیں۔ ۔مساجد اور بازاروں پر حملے کرتے ہیں اور پھر بڑی ڈھٹائی سے، ان برے اعمال کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔

پاکستان دنیا کا ایک حسين وجميل ملك

%d bloggers like this: