کوئٹہ میں مسلسل دہشتگردی


کوئٹہ میں مسلسل دہشتگردی

              کوئٹہ گذشتہ کئی مہینوں سے مسلسل  دہشت گردی کے واقعات پیش آ نے کی وجہ سے دہشت زدہ علاقہ بن چکا ہے۔ کوئٹہ میں  مدرسہ مفتاح العلوم کے باہر  ایک بم دھماکے میں بچوں سمیت کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور پچاس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔ کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹائون میں دستار بندی کی تقریب کے اختتام پر مدرسہ کے باہر بم دھماکے کے نتیجے میں بچوں سمیت 15افراد جاں بحق جبکہ50سے زائد زخمی ہوگئے ، دھماکے سے کئی گاڑیوں، رکشوں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا، لاشوں اور زخمیوں کو کوئٹہ کے مختلف نجی اور سرکاری اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری اور قبائلی رہنما میر فروز لہڑی کے قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق سیٹلائٹ ٹائون کے علاقے سریاب لنک روڈ پر مدرسہ اسلامیہ مفتاح العلوم میں حافظ کرام ،فار غ التحصیل 150طلبا کی دستار بندی کی تقریب تھی جس میں سیکڑوں دیگر طلبا اور علماکرام بھی شریک تھے، جونہی تقریب ختم ہوئی اور شرکا باہر نکل رہے تھے کہ مدرسہ کے باہر زور دار دھماکا ہوا۔دھماکے کے نتیجے میں 4 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 10افرادنے سول اسپتال اور ایک نے گیلانی اسپتال میں دم توڑ ا ۔ جبکہ 40 سے زائد زخمیوں کو سول اسپتال، 7کو کمبائنڈ ملٹری اسپتال اور 6زخمیوں کو گیلانی اسپتال منتقل کیاگیا ۔سول اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں 10سے زائد افراد کی حالت تشویش ناک ہے ۔دھماکے میں مدرسے کے مہتم شیخ الحدیث مولانا عبدالباقی کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے ۔دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جس پر فائر بریگیڈنے قابو پالیا۔ 4 گاڑیاں، ایک رکشہ، ایک دکان اور ایک ریڑھی تباہ ہوگئی جبکہ کئی دکانوں اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے میں استعمال ہونے والی سائیکل کے پرخچے اڑ گئے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈکے مطابق دھماکا بائیسکل پر نصب ٹائم بم کے ذریعے کیا گیا اور اس میں 5 سے 6 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق بم میں چھرے اور نٹ بولٹ استعمال کرنے کی وجہ سے جانی نقصان زیادہ ہوا۔ سی سی پی او کوئٹہ میر زبیر محمود کے مطابق دھماکے میں ٹائم ڈیوائس کا استعمال کیا گیا۔ اس مدرسے پر حملے کی پیشگی اطلاعات نہیں تھیں ۔ ڈی آئی جی آپریشن قاضی واحد نے کہا کہ بم بائیسکل پر نصب کرکے اس کے اوپر ہار باندھے گئے تھے تاکہ لوگوں کو شک نہ ہو۔ مدرسے کے اندر سیکورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے اس لیے ملزمان نے بائیسکل مدرسے کے باہر کھڑی کی ۔ جاں بحق ہونے والے 2 بچے یونس اور وزاکت آپس میں رشتہ دار اور فیروز لہڑی کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیںجن کی لاشیں مسلم لیگ ن کے رہنما میر لیاقت لہڑی ساتھ لے کرگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں جمعیت علمااسلام (ف) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کے2بھتیجے بھی شامل ہیں۔صوبائی سیکرٹری صحت عصمت اللہ کاکڑ نے دھماکے کے بعد سول اسپتال کوئٹہ میں ہنگامی صورتحال نافذ کردی ہے گئی ۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے مدرسے کے قریب دھماکے کی فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔واضح رہے کہ مدرسہ مولانا سمیع الحق گروپ کے زیر انتظام ہے ۔علاوہ ازیں صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم گیلانی نے کوئٹہ میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ چونکہ پولیس خود اندہیرے میں ہے  لہذا یہ نہ کہا جا سکتا ہے کہ مخالف گروپ اس دہماکہ کے پیچھے ہے۔

کوئٹہ میں مسلسل دہشتگردی پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

نہ رات کو نیند آتی ہے، نہ دن کو‘


نہ رات کو نیند آتی ہے، نہ دن کو‘

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں نے نہ صرف القاعدہ کو پریشان کر رکھا ہے بلکہ مقامی طالبان پر زمین تنگ کر دی ہے۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سنہ دو ہزار پانچ سے امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ اٹھارہ جون سنہ دو ہزار چار کو کمانڈر نیک محمد پر کیاگیا۔ ان کی ہلاکت کے بعد تقریباً چار سال تک بہت کم ایسا ہوا کہ کوئی مقامی کمانڈر امریکی جاسوس طیارے کے حملے کا نشانہ بنا ہو۔سنہ دو ہزار نو میں تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود پر امریکی جاسوس طیارے کے حملے کے بعد سے ایک بڑی تعداد میں مقامی شدت پسند طالبان کمانڈر امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں مارے گئے جن میں حاجی عمر اور قاری حسین شامل ہیں۔حاجی عمر کمانڈر نیک محمد کے جانشین تھے جبکہ قاری حسین خود کش حملہ آور تیار کرنے کے ماہر تھے۔ اب قاری حسین کی جگہ ولی محمد المعروف طوفان کو خودکش حملہ آور تیار کرنے کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مقامی طالبان کی تعداد غیر ملکیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے اور وہ کھلے عام گاڑیوں اور بازاروں میں پھرتے نظر آتے ہیں لیکن غیر ملکیوں پر ڈرون حملے زیادہ ہوتے تھے۔

اب گزشتہ ایک عرصے سے مقامی طالبان بھی سخت نشانے پر ہیں اور چند مہینوں میں ملا نذیر اور حافظ گل بہادر گروپ کے پندرہ سے زیادہ اہم افراد ڈرون حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔مقامی طالبان پر حملوں میں تیزی کے بعد مقامی طالبان کا رابطوں کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے جبکہ وہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں بھی شریک نہیں ہو رہے ہیں۔مقامی افراد نے آج کل امریکی ڈرون طیارے کوایک نیا نام دیا ہے ’دہ طالبانوں پلار‘ یعنی طالبان کا باپ۔ مقامی افراد کہتے ہیں کہ یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ طالبان سوائے امریکی ڈرون حملوں کے علاوہ کسی اور سے نہیں ڈرتے۔

نہ رات کو نیند آتی ہے، نہ دن کو‘ پڑھنا جاری رکھیں

اسامہ کی بیواؤں کے سینے میں اب بھی اہم راز پوشیدہ ہیں


اسامہ کی بیواؤں کے سینے میں اب بھی اہم راز پوشیدہ ہیں

              القاعدہ کے بانی لیڈر اسامہ بن لادن کے خاندان سے تفتیش کرنے والے ایک پاکستانی تفتیشی افسر نے انکشاف کیا ہے کہ اسامہ کی بیواؤں نے اُنہیں بہت سے راز کی باتیں نہیں بتائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسامہ کو اپنی زندگی میں اپنی بیگمات پر بہت بھروسہ تھا اور بیویوں نے بھی دنیا کو مطلوب اپنے شوہر کے ساتھ بدعہدی اور بے وفائی نہیں کی۔ اسامہ کی تمام بیویاں نہایت وفا شعار ثابت ہوئیں۔ انہوں نے دوران تفتیش بہت سے رازوں سے پردہ اٹھانے سے انکار کردیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی”رائیٹرز” کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی تفتیش کار جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی کا کہنا ہے کہ اسامہ کے قتل کے بعد ان کی زیرحراست بیواؤں سے کئی پہلوؤں سے تفتیش کی گئی، وہ کبھی کبھار نرمی اور لچک کا مظاہرہ کرتیں لیکن اکثر و بیشتر ان کا طرز عمل”کچھ نہ بتانے والا” ہوتا۔

خیال رہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں کے کسی تفتیش کار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی ایک دوسرے تفتیش کار نے یہ انکشاف کیا تھا کہ اسامہ اپنی ایک بیوی کی بے وفائی کے باعث اپنے انجام کو پہنچے۔ بہ قول ان کے اسامہ کی ایک بیوی نے امریکیوں کے ساتھ رابطے رکھے اور اسامہ تک رسائی میں ان کی معاونت کی تھی۔ تاہم بن لادن کی بیگمات کے بارے میں ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوسکا ہے کہ وہ کس حد تک اپنے شوہر کے ساتھ وفادار تھیں یا اسامہ کو مروانے میں ان کی بیگمات یا کسی ایک بیگم کا ہاتھ تھا۔

پاکستان نے اسامہ کی بیواؤں کو گذشتہ برس 2 مئی کو اسلام آباد سے کچھ فاصلے پر واقع پرفضاء شہر ایبٹ آباد سے اس وقت حراست میں لیا تھا جب امریکی کمانڈوز نے مبینہ طور پر ایک کمپاؤنڈ میں چھپے اسامہ کو قتل کرکے اس کی لاش سمندر برد کردی تھی۔

پاکستانی خفیہ ادارے کے تفتیشی افسر کی جانب سے سامنے آنے والے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق یا تردید نہیں کی جاسکی کہ آیا اسامہ کی بیمگات نے سیکیورٹی اداروں کو بہت کچھ بتانے سے گریز کیا ہے یا انہوں نے تفتیش میں مکمل معاونت کی تھی۔ اب تک میڈیا کے ذریعے سے آنے والی اطلاعات میں یہی بتایا جاتا رہا ہے کہ اسامہ کی بیواؤں سے تمام سوالوں کے جوابات حاصل کیے جا چکے ہیں تب ہی ان کی سعودی عرب واپسی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

تفتیش کار کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے یمنی نژاد بیوہ آمل السادہ سے سوال جواب شروع کیے تو اس نے سخت برہمی کا اظہار کیا، جس سے انہیں اندازہ ہوا کہ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کرر رہی ہیں۔ دیگر دو سعودی نژاد بیویوں سے جب سوال پوچھے جاتے تو ان کی جانب سے بھی نہایت مایوس کن طرز عمل کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ وہ بیشتر سوالوں پر خاموش رہتی تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسامہ کی بیوائیں جب آپس میں بیٹھتیں تو نہایت ہمدردی اور محبت سے ایک دوسرے سے باتیں کرتیں۔ میں نے جب بھی آمل السادہ سے کچھ پوچھنا چاہا تو اس نے ہمیشہ غصے کے انداز میں اس کا جواب دیا۔
تفتیشی اہلکار کا مزید کہنا ہے کہ دوران تفتیش اسامہ کی بیواؤں کا رویہ غیر لچک دار رہا، جس کے باعث ان کے ذہنوں میں کھٹکنے والے کئی سوالوں کے جواب تشنہ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستانی عہدیدار کی جانب سے یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب اسامہ کی بیوائیں ایک ماہ قبل سعودی عرب واپس جا چکی ہیں۔ گذشتہ مہینے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر اسامہ کے خاندان کی ڈیڑھ ماہ کی سزا مکمل ہونے کے بعد انہیں ڈیپورٹ کردیا گیا تھا اور اب وہ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔

             اب اسامہ کا معاملہ خدا تعالی کے ہاتھ میں ہے جو دلوں کے پوشیدہ راز جانتا ہے۔ اسامہ خود تو مر گیا مگر اپنے پیچھے  القائدہ اور اس سے ملحقہ دہشت گردوں کی ایک ٹیم چھوڑ گیا ہے جو پاکستان کے لئے ابھی تک درد سر بنے ہوئے ہیں۔ القائدہ کی شہہ ،تحریک  اور تربیت پر طالبانی اور دوسرے دہشت گرد گروپوں نے پاکستان بھر میں لا قانونیت،افراتفری اور قتل و غارت گری کا ایک بازارا گرم کر رکھا ہے۔  القائدہ تمام دہشت گردوں کی گرو و استاد ہے اور اس ہی کے ذریعہ پاکستان میں خودکش حملوں کا سلسلہ متعارف ہوا۔

          اسامہ کے مرنے کے بعدپاکستان اور افغانستان میں جو القاعدہ  کے گڑھ تھے، اس تنظیم کی طاقت بہت کم ہو گئی ہے خاص طور سے گذشتہ مئی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس کا زور  بالکل ٹوٹ گیا ہے اور جلد ہی ایسا وقت آئے  جب القائدہ ، تاریخ کے اوراق میں گم ہو جائے گی۔

مٹے نامیوں کے نشان کیسے کیسے

نفاذ اسلام کے لئے مسلح جدوجہد کا کو ئی جواز نہ ہے


نفاذ اسلام کے لئے مسلح جدوجہد کا کو ئی جواز نہ ہے

                علماء امن کنونشن کے مشترکہ اعلامیہ اور قرار دادوں میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مسلح جدوجہد کا  کوئی جواز نہیں ہے شریعت کے لیے پر امن آئینی راستہ اور افہام و تفہیم کی راہ اپنائی جائے۔قومی املاک، مساجد، مدارس، سکولز ، فلاحی اداروں کو نقصان پہنچانا اسلامی تعلیمات  کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ سہ روزہ علماء امن کنونشن کے اختتام پر پیش کیے گئے مشترکہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ علماء کا یہ اجتماع اس عزم کا اظہار ضروری سمجھتا ہے کہ ملک کی تعمیر وترقی اور استحکام کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کرنا ہمارا فرض ہے اور ہم قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تمام فروعی‘ لسانی‘ عصبی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ختم کرکے ملک کی تعمیر وترقی میں بھرپور کردار ادا کریں اور ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی تخریب کاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کے بجائے افہام وتفہیم کی راہ اپنائے اور ملک وقوم کی املاک‘ مساجد‘ مدارس‘ اسکولز اور دیگر تعلیمی اور فلاحی اداروں وشاہراہوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں کیونکہ یہ عمل تعلیمات اسلامی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ علماء امن کنونشن امت کو اتحاد‘ اتفاق‘ محبت واخوت‘ عدل وانصاف‘ تحمل وبرداشت سمیت تمام اعلیٰ اخلاقی صفات اپنانے کی دعوت دیتا ہے جو اسلام کی روشن تعلیمات کا حصہ ہے‘ نوجوان علماء کرام کا یہ امن کنونشن اس بات کا عہد کرتا ہے کہ ہم معاشرے میں امن وسلامتی‘ خیروبھلائی‘ فلاح وبہبود اور انسانیت کی عظمت بحال کرنے کیلئے اپنا سرگرم کردار ادا کرینگے۔ علماء امن کنونشن قرار دیتا ہے کہ معاشرہ میں عدم تشدد اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے مؤثر اقدامات کی سخت ضرورت ہے ‘ اس ضمن میں انتظامیہ ‘ مقننہ‘ عدلیہ بھی اپنی ذمہ داری ادا کریں‘ علماء بھی منبر ومحراب کو اس مقصد کیلئے مؤثر طریقہ سے استعمال کریں۔

نفاذ اسلام کے لئے مسلح جدوجہد کا کو ئی جواز نہ ہے پڑھنا جاری رکھیں

دہشت گردی کے صوبہ خیبر پختونخواہ پر اثرات


دہشت گردی کے صوبہ خیبر پختونخواہ پر اثرات       

                  خيبر پختونخوا اور قبائلي علاقوں ميں دہشت گردي نے جہاں انفراسٹرکچر اور معاشرتي قدروں کو پامال کيا وہيں صوبے ميں صنعتي ترقي کا پہيہ بھي جام ہونے کو ہے اور معیشت پر دہشت گردی کے بڑے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ . خيبر پختون خوا کے گلي کوچوں ميں دہشت گردي کے خلاف لڑي جانے والي جنگ نے صوبے کي صنعتوں کو بھي نگل ليا. دس سال قبل خيبر پختون خوا ميں 2254کارخانے تھے.تاہم دہشت گردي کے باعث 1600کارخانے بند ہو گئے اور صنعت کاروں نے دوسرے شہروں کي راہ لي. صنعتوں کي بندش کے باعث 50ہزار سے زيادہ مزدور بے روزگار ہوئے. قبائلي علاقوں ميں بھي دہشت گردي اورفوجي آپريشنز کے باعث لگ بھگ اڑھائي سو کارخانے بند ہو ئے .صنعتوں کي بندش کے باعث صوبے کي برآمدات پچاس فيصد کم ہوگئيں جبکہ صنعتي پيداوار کم ہوکر 25فيصد رہ گئي ہے.صوبے کے صنعتي يونٹوں ميں تين کے بجائے اب صرف ايک شفٹ ميں کام ہوتا ہے. دہشت گردي کے ساتھ اغوا برائے تاوان کي وارداتوں کي وجہ سے بھي صنعت کار پريشان دکھائي ديتے ہيں.علاوہ ازین،  آپریشنز زدہ علاقوں سے آبادی کا  محفوظ علاقوں کی طرف انخلا ،معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہے۔

                  پاکستان کے چاروں صوبے میں سے صوبہ خیبر پختونخواہ نے عسکریت پسندی کے ہاتھوں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور یہاں افغان مہاجرین کی آمد رہی ہے۔ عاقل شاہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث میرے صوبے میں دو سو سال کے برابر ثقافت کو نقصان پہنچا ہے اور آمدنی کا ہر ذریعہ ختم ہو گیا ہے۔ اعداد و شمار عاقل کے ان اندازوں کو تقویت دیتے ہیں۔

دہشت گردی کے صوبہ خیبر پختونخواہ پر اثرات پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان میں دہشت گردی کی اک نئی لہر


پاکستان میں دہشت گردی کی اک نئی لہر

                     پاکستان اس وقت دہشت گردی کی ایک نئی لہر کی لپیٹ میں ہے جس پر  ہر پاکستانی  ملک کی سلامتی سے متعلق غمزدہ ،پریشان اور متفکر ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی و انتہا پسندی ایک ناسور بن چکی ہے اور  ہر روز مار دھاڑ کی خبروں کو دیکھ دیکھ کر دل آزدہ ہو جاتا ہے.

                      کراچی میں ٹارگٹ کلنگ روز کامعمول بن کر رہ گئی ہے۔ آج بھی ۶  آدمی تشدد کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔   اس سے پہلے تشدد کے واقعات میں معروف عالم دین اور مفسر قرآن مولانا اسلم شیخو پوری اور مولانا سفرین سمیت کم از کم دس افراد جاں بحق ہوگئے. ۔ لکی مروت میں ممتاز عالم دین مولانا محسن شاہ کو قتل کر دیا گیا اور ان کے قتل سے بھی  دلوں میں  یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جان بوجھ کر علماء کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

                       کوئٹہ میں فرقہ ورانہ دہشت گردی جاری ہے اور تازہ ترین واقعہ میں  جیل کے وارڈن کو  لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں نے  گولیاں مار کر ہلاک کر دیا اور اس واقعہ کی ذمہ داری بھی قبول کر لی کیونکہ بقول لشکر جھنگوی، وارڈن ایک ظالم شخص تھا جو لشکر جھنگوی کے لیڈروں پر  جیل میں ظلم کرتا تھا۔

                    لاہور میں معروف ماہر تعلیم اور مصنف ڈاکٹر شبیہ الحسن کو ان کے کالج کے باہر گولیاں مار ہلاک کر دیا گیا ہے ۔ اس واقعہ میں سپاہ صحابہ  کے ملوث ہونے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں مسلمانوں کا مسلمانوں کے ہاتھوں خون ہو رہا ہے اور ہم سب خاموش تماشائی  ہیں؟

پاکستان میں دہشت گردی کی اک نئی لہر پڑھنا جاری رکھیں

شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا؟


شمالی وزیرستان میں  فوجی کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا؟

         پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے، فوجی آپریشن کا فیصلہ طالبان کی جانب سے تیرہ فوجیوں کے سرقلم کرنے کے واقعہ کے بعد کیاگیا ہے، عسکری ذرائع  مطابق پاکستان کی عسکری قیادت نے بالآخر شمالی وزیرستان میں مخصوص اہداف کے خلاف فوجی آپریشن کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے جو اگلے چند دنوں میں شروع کیاجاسکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ملٹری آپریشن کے بارے میں آرمی  کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاکستان کے سپریم کمانڈر صدر آصف علی زرداری سے بھی مشاورت کی اور انہیں اعتماد میں لیا۔پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اتوار کے روز ہونے والا حملہ بظاہر طالبان نے مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مدُرس مولانا شیخ نصیب خان کی ہلاکت کے بدلے میں کیا ہے۔

        حکام کے مطابق طالبان شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا جس میں نو اہلکار ہلاک جبکہ دس زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے سے دو دن پہلے حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے مولانا شیخ نصیب خان کی ہلاکت کا بدلا لینے کا اعلان کیا تھا۔ حافظ گل بہادر گروپ کے ترجمان احمداللہ احمدی نے بتایا تھا کہ وہ مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مدُرس مولانا شیخ نصیب خان کی ہلاکت کا بدلا بُہت جلد پاکسانی سکیورٹی فورسز سے لیں گے۔ یاد رہے کہ حافظ گل بہادر کے حکومت پاکستان کے ساتھ معاہدہ ہے اور سیکورٹی فورسز پر حملہ کے بعد یہ معاہدہ خطرہ میں ہے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا؟ پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان دنیا کا ایک حسين وجميل ملك

%d bloggers like this: