پاکستان میں دہشت گردی کی اک نئی لہر


پاکستان میں دہشت گردی کی اک نئی لہر

                     پاکستان اس وقت دہشت گردی کی ایک نئی لہر کی لپیٹ میں ہے جس پر  ہر پاکستانی  ملک کی سلامتی سے متعلق غمزدہ ،پریشان اور متفکر ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی و انتہا پسندی ایک ناسور بن چکی ہے اور  ہر روز مار دھاڑ کی خبروں کو دیکھ دیکھ کر دل آزدہ ہو جاتا ہے.

                      کراچی میں ٹارگٹ کلنگ روز کامعمول بن کر رہ گئی ہے۔ آج بھی ۶  آدمی تشدد کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔   اس سے پہلے تشدد کے واقعات میں معروف عالم دین اور مفسر قرآن مولانا اسلم شیخو پوری اور مولانا سفرین سمیت کم از کم دس افراد جاں بحق ہوگئے. ۔ لکی مروت میں ممتاز عالم دین مولانا محسن شاہ کو قتل کر دیا گیا اور ان کے قتل سے بھی  دلوں میں  یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جان بوجھ کر علماء کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

                       کوئٹہ میں فرقہ ورانہ دہشت گردی جاری ہے اور تازہ ترین واقعہ میں  جیل کے وارڈن کو  لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں نے  گولیاں مار کر ہلاک کر دیا اور اس واقعہ کی ذمہ داری بھی قبول کر لی کیونکہ بقول لشکر جھنگوی، وارڈن ایک ظالم شخص تھا جو لشکر جھنگوی کے لیڈروں پر  جیل میں ظلم کرتا تھا۔

                    لاہور میں معروف ماہر تعلیم اور مصنف ڈاکٹر شبیہ الحسن کو ان کے کالج کے باہر گولیاں مار ہلاک کر دیا گیا ہے ۔ اس واقعہ میں سپاہ صحابہ  کے ملوث ہونے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں مسلمانوں کا مسلمانوں کے ہاتھوں خون ہو رہا ہے اور ہم سب خاموش تماشائی  ہیں؟

پاکستان میں دہشت گردی کی اک نئی لہر پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا؟


شمالی وزیرستان میں  فوجی کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا؟

         پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے، فوجی آپریشن کا فیصلہ طالبان کی جانب سے تیرہ فوجیوں کے سرقلم کرنے کے واقعہ کے بعد کیاگیا ہے، عسکری ذرائع  مطابق پاکستان کی عسکری قیادت نے بالآخر شمالی وزیرستان میں مخصوص اہداف کے خلاف فوجی آپریشن کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے جو اگلے چند دنوں میں شروع کیاجاسکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ملٹری آپریشن کے بارے میں آرمی  کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاکستان کے سپریم کمانڈر صدر آصف علی زرداری سے بھی مشاورت کی اور انہیں اعتماد میں لیا۔پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اتوار کے روز ہونے والا حملہ بظاہر طالبان نے مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مدُرس مولانا شیخ نصیب خان کی ہلاکت کے بدلے میں کیا ہے۔

        حکام کے مطابق طالبان شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا جس میں نو اہلکار ہلاک جبکہ دس زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے سے دو دن پہلے حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے مولانا شیخ نصیب خان کی ہلاکت کا بدلا لینے کا اعلان کیا تھا۔ حافظ گل بہادر گروپ کے ترجمان احمداللہ احمدی نے بتایا تھا کہ وہ مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مدُرس مولانا شیخ نصیب خان کی ہلاکت کا بدلا بُہت جلد پاکسانی سکیورٹی فورسز سے لیں گے۔ یاد رہے کہ حافظ گل بہادر کے حکومت پاکستان کے ساتھ معاہدہ ہے اور سیکورٹی فورسز پر حملہ کے بعد یہ معاہدہ خطرہ میں ہے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا؟ پڑھنا جاری رکھیں

اولیاء اللہ کےمزاروں پر دھماکے


اولیاء اللہ کےمزاروں پر دھماکے

 یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ سیرت و کردار کے زور سے پھیلا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کا سہرا اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کے سر ہے اور اس خطے میں ان نفوس قدسیہ کا وجود اﷲ کریم کا بہت بڑا انعام ہے۔ جو کام غازیان اسلام کی شمشیر اَبدادر ارباب ظواہر کی علمیت سے نہ ہو سکا وہ خدا وند تعالیٰ کے ان مقبول و برگزیدہ بندوں نے بخوبی اپنے اعلی سیرت و کردار سے سرانجام دیا۔ انہوں نے شبانہ روز محنت اور اخلاق حسنہ سے بر صغیر پاکستان و ہندوستان کو نور اسلام سے منور کیا اور اسلام کے ننھے منے پودے کو سر سبز و شاداب اور قد آور درخت بنا دیا۔ ہمارے اسلاف اور اولیائے کرام نے مکالمہ کے ذریعے لوگوں کو پرامن رکھا اور طاقت کے ذریعے اپنے نظریات اور افکار مسلط نہیں کئے۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔

اولیاء اللہ کےمزاروں پر دھماکے پڑھنا جاری رکھیں

باجوڑ ایجنسی: خودکش حملہ ۔۔۔۔۔۔نئے سوالات؟


باجوڑ ایجنسی: خودکش حملہ ۔۔۔۔۔۔نئے سوالات؟

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کے مطابق ایک مبینہ خودکش حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت  اب تک 29  افراد ہلاک اور چھالیس زخمی ہو گئے۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان اور باجوڑ ایجنسی میں تنظیم کے ترجمان قاری عمر نے الگ الگ بی بی سی کو فون کر کے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں باجوڑ لیویز کے کمانڈنٹ اور ڈپٹی کمانڈنٹ بھی شامل ہیں۔مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی صبح باجوڑ کے صدر مقام خار بازار میں پیش آیا۔باجوڑ کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ باجوڑ لیویز کے کمانڈنٹ اور ڈپٹی کمانڈنٹ خار بازار سے گزر رہے تھے کہ اس دوران ایک دھماکہ ہو گیا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا جس میں باجوڑ لیویز کے کمانڈنٹ سمیت بیس افراد ہلاک اور چھیالیس زخمی ہو گئے ہیں۔اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں لیویز کے کمانڈنٹ صوبیدار میجر محمد جاوید، ڈپٹی کمانڈنٹ فضل ربی، سرکاری محرر فدا محمد، مقامی ٹھیکیدار اور عام شہری شامل ہیں۔

باجوڑ ایجنسی: خودکش حملہ ۔۔۔۔۔۔نئے سوالات؟ پڑھنا جاری رکھیں

علم کااک چراغ اور بجھا


علم کااک چراغ اور بجھا

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان اور مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے دو سرکاری سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا ہے۔جنوبی وزیرستان کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے واقعہ میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب، صدر مقام وانا سے پانچ کلومیٹر دور کڑی کوٹ کے علاقے جنان کوٹ میں نامعلوم افراد نے لڑکیوں کے مڈل سکول میں دھماکہ خیز مواد نصب کر کے دو دھماکے کیے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکوں سے سکول کا مرکزی دروازہ مکمل طور تباہ ہوگیا جبکہ عمارت کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اہلکار کے مطابق چاردیواری بھی جگہ جگہ سےگر گئی۔

علم کااک چراغ اور بجھا پڑھنا جاری رکھیں

القائدہ کے پاکستان سے متعلق مذموم عزائم


القائدہ کے پاکستان سے متعلق مذموم عزائم

القائدہ خونی بھیڑیوں ، ٹھگوں اور  مجرموں  کا گروہ ہےجس کی بقا ،پنپنا اور پھلنا پھولنا دوسرے ملکوں میں افرا تفری،  بدامنی ،بد نظمگی ،لاقانونیت  اور قتل و غرت گری  و مار دھاڑ پھیلانے میں مضمر ہے،القائدہ بیساکھیوں پر ہے مگر اس کی اکڑفوں میں کوئی کمی نہ آئی ہے ۔ القائدہ پاکستانی فوجوں کی کاروائی اور مسلسل امریکی و عالمی برادری کی کوششوں و  ڈرون حملوں کے نتیجہ میں  بڑی حد تک عضو معطل ہو کر رہ گئی ہے ۔ القائدہ کے فنڈز کے سوتے  اور نئی بھرتی کے ذرائع بند ہوچکے ہیں اور اسامہ  اور دوسرے بڑے لیڈروں کی ہلاکت کے بعد القائدہ کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور القائدہ کے مقصد میں لوگوں کی دلچسپی اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ القائدہ کی ناکامی اس  کی ساتھی جماعتوں کی ناکامی و بربادی ہو گی۔القائدہ کو جانا ہوگا یہ وہ تنظیم ہے جس کے ذمہ معصوم لوگوں کا قتل عام ہے اور دنیا بھر میں دیگر ممالک اس کی شکست کیلئے پرعزم ہیں۔

                              القائدہ کے لیڈر دور دراز علاقوں میں  روپوش ہو کر اور چھپ کر نئے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ القائدہ کے غبارے کی رہی سہی ہوا   عرب سپرنگ نے نکال دی اور عام لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ مسلح جدوجہد کے بجائے پر امن  جمہوری اور سیاسی  عمل کے ذرائع سے جدوجہد ان کو جلد حقوق دلا سکتی ہے۔ اس موقع پر القاعدہ نے رنگ بدلا اور عرب انقلاب کی حمایت شروع کر دی۔ القائدہ نے تحریک طالبان ، پنجابی طالبان ،جیش محمد،حرکت الجہاد اسلامی ،حرکت الجہاد العالمی، لشکرجھنگوٰی اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے معصوم اور بے گناہ مسلمانوں ، طالبعلموں،اساتذہ،تاجروں اور معاشرے کے دوسرے افراد کے خون کی ہولی کھیلی، 40،000 کے قریب لوگ اپنی جان سے ہاتھ دہو بیٹھے اور معیشت کو ۷۰ ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا اور بندہ مزدور جس کے اوقات پہلے ہی مشکل تھے ان کی زندگی اور  دوبھر ہو گئی۔ مساجد اور بزرگوں کے مزارات کا تقدس اور اسلامی شعار ان بھیڑیوں کے ہاتھوں پامال ہوا اور لوگوں کو مساجد میں بجائے عبادت کے اپنی جانوں کے لالے پڑے رہتے ہیں۔ اور معاشرہ کا ہر فرد خوف وہراس کا شکار ہو کر حسرت و یاس کی تصویر بن گیا۔

القائدہ کے پاکستان سے متعلق مذموم عزائم پڑھنا جاری رکھیں

وزيراعظم گيلانی کو توہين عدالت کرنے پر سزا


وزيراعظم گيلانی کو توہين عدالت  کرنے پر سزا

پاکستان کی سپريم کورٹ  نے وزيراعظم يوسف رضا گيلاني کو توہين عدالت کا مرتکب قرار ديتے ہوئے انہيں عدالت برخاست ہونے تک سزا سنادي ہے.مقدمہ کي سماعت کرنے والے سات رکني بنچ کے سربراہ جسٹس ناصرالملک نے فيصلہ سناتے ہوئے وزيراعظم کو توہين عدالت کا مرتکب قرار ديا .فيصلہ سناتے ہي عدالت برخاست ہوئي تو وزيراعظم کو سنائي گئي سزا مکمل ہوگئي. عدالتي فيصلہ ميں قرار ديا گيا کہ وزيراعظم جان بوجھ کر عدالتي حکم کي نافرماني کے مرتکب ہوئے، عدالت کا مذاق اڑايا گيا، ان کو سزا کے سنجيدہ اثرات ہوسکتے ہيں، آرڈر ميں لکھاگياکہ سوئس حکام کو خط لکھنے کے عدالتي حکم کي خلاف ورزي ہوئي، وزيراعظم کا اقدام قانون کي پيروي ميں واضح خلاف ورزي ہے. سزا سنانے کے بعد ججز تو اٹھ کر چلے گئے ليکن وزيراعظم کچھ دير تک وہاں موجود رہے. سپريم کورٹ نے قومي مفاہمتي آرڈيننس ، اين آر او کو کالعدم قرار دے کر حکومت کو صدر آصف علي زرداري سے تعلق رکھنے والے سوئس کيسز کو بحال کرانے کا حکم ديا تھا ، اس پر عمل نہ ہونے کيخلاف عدالت نے وزيراعظم گيلاني کيخلاف توہين عدالت کا مقدمہ بنايا ، وزيراعظم کا کہناتھاکہ صدرمملکت کو حاصل آئيني استثني کي وجہ سے خط نہيں لکھا ، عدالت نے توہين عدالت کيس کي سماعت دو روز قبل مکمل کرلي تھي ، آج فيصلہ سنانے کيلئے وزيراعظم کو بھي طلب کيا گيا تھا. توہين عدالت کيس ميں وزيراعظم گيلاني کے وکيل اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ عدالت جو بھي فيصلہ کر ے اس پر عمل ہوگا. ملکی تاریخ میں کسی وزیراعظم وقت کو ،عدالت عالیہ سے یہ پہلی سزا ہے۔

        وزير اعظم کے خلاف يہ ايک علامتي سزا ہے ليکن ان کے لئے اس فيصلے نے مشکلات کھڑي کر دي ہيں. کيونکہ ان کو يہ سزا عدالت کي جانب سے سنائي گئي اور آئندہ ہفتوں يا مہينوں ميں انہيں نااہل قرار ديا جاسکتا ہے. توہينِ عدالت ميں زيادہ سے زيادہ سزا چھ ماہ قيد و ۵۰۰۰ روپے جرمانہ کی سزا  ہوسکتي ہے.

وزيراعظم کو توہين عدالت کا مرتکب قرار دينے پر ملک کے مختلف شہروں ميں پيپلزپارٹي کارکنوں نے احتجاج کيا جب کہ ملتان ميں احتجاج کے ساتھ فيصلے پر بھنگڑے بھي ڈالے گئے اور مٹھائي بھي تقسيم کي گئي. وزيراعظم کي سزا پر ان کے آبائي شہر ملتان ميں فوري ردعمل نظر آيا.

وزيراعظم گيلانی کو توہين عدالت کرنے پر سزا پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان دنیا کا ایک حسين وجميل ملك

%d bloggers like this: