نفاذ اسلام کے لئے مسلح جدوجہد کا کو ئی جواز نہ ہے


نفاذ اسلام کے لئے مسلح جدوجہد کا کو ئی جواز نہ ہے

                علماء امن کنونشن کے مشترکہ اعلامیہ اور قرار دادوں میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مسلح جدوجہد کا  کوئی جواز نہیں ہے شریعت کے لیے پر امن آئینی راستہ اور افہام و تفہیم کی راہ اپنائی جائے۔قومی املاک، مساجد، مدارس، سکولز ، فلاحی اداروں کو نقصان پہنچانا اسلامی تعلیمات  کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ سہ روزہ علماء امن کنونشن کے اختتام پر پیش کیے گئے مشترکہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ علماء کا یہ اجتماع اس عزم کا اظہار ضروری سمجھتا ہے کہ ملک کی تعمیر وترقی اور استحکام کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کرنا ہمارا فرض ہے اور ہم قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تمام فروعی‘ لسانی‘ عصبی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ختم کرکے ملک کی تعمیر وترقی میں بھرپور کردار ادا کریں اور ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی تخریب کاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کے بجائے افہام وتفہیم کی راہ اپنائے اور ملک وقوم کی املاک‘ مساجد‘ مدارس‘ اسکولز اور دیگر تعلیمی اور فلاحی اداروں وشاہراہوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں کیونکہ یہ عمل تعلیمات اسلامی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ علماء امن کنونشن امت کو اتحاد‘ اتفاق‘ محبت واخوت‘ عدل وانصاف‘ تحمل وبرداشت سمیت تمام اعلیٰ اخلاقی صفات اپنانے کی دعوت دیتا ہے جو اسلام کی روشن تعلیمات کا حصہ ہے‘ نوجوان علماء کرام کا یہ امن کنونشن اس بات کا عہد کرتا ہے کہ ہم معاشرے میں امن وسلامتی‘ خیروبھلائی‘ فلاح وبہبود اور انسانیت کی عظمت بحال کرنے کیلئے اپنا سرگرم کردار ادا کرینگے۔ علماء امن کنونشن قرار دیتا ہے کہ معاشرہ میں عدم تشدد اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے مؤثر اقدامات کی سخت ضرورت ہے ‘ اس ضمن میں انتظامیہ ‘ مقننہ‘ عدلیہ بھی اپنی ذمہ داری ادا کریں‘ علماء بھی منبر ومحراب کو اس مقصد کیلئے مؤثر طریقہ سے استعمال کریں۔

نفاذ اسلام کے لئے مسلح جدوجہد کا کو ئی جواز نہ ہے پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

دہشت گردی کے صوبہ خیبر پختونخواہ پر اثرات


دہشت گردی کے صوبہ خیبر پختونخواہ پر اثرات       

                  خيبر پختونخوا اور قبائلي علاقوں ميں دہشت گردي نے جہاں انفراسٹرکچر اور معاشرتي قدروں کو پامال کيا وہيں صوبے ميں صنعتي ترقي کا پہيہ بھي جام ہونے کو ہے اور معیشت پر دہشت گردی کے بڑے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ . خيبر پختون خوا کے گلي کوچوں ميں دہشت گردي کے خلاف لڑي جانے والي جنگ نے صوبے کي صنعتوں کو بھي نگل ليا. دس سال قبل خيبر پختون خوا ميں 2254کارخانے تھے.تاہم دہشت گردي کے باعث 1600کارخانے بند ہو گئے اور صنعت کاروں نے دوسرے شہروں کي راہ لي. صنعتوں کي بندش کے باعث 50ہزار سے زيادہ مزدور بے روزگار ہوئے. قبائلي علاقوں ميں بھي دہشت گردي اورفوجي آپريشنز کے باعث لگ بھگ اڑھائي سو کارخانے بند ہو ئے .صنعتوں کي بندش کے باعث صوبے کي برآمدات پچاس فيصد کم ہوگئيں جبکہ صنعتي پيداوار کم ہوکر 25فيصد رہ گئي ہے.صوبے کے صنعتي يونٹوں ميں تين کے بجائے اب صرف ايک شفٹ ميں کام ہوتا ہے. دہشت گردي کے ساتھ اغوا برائے تاوان کي وارداتوں کي وجہ سے بھي صنعت کار پريشان دکھائي ديتے ہيں.علاوہ ازین،  آپریشنز زدہ علاقوں سے آبادی کا  محفوظ علاقوں کی طرف انخلا ،معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہے۔

                  پاکستان کے چاروں صوبے میں سے صوبہ خیبر پختونخواہ نے عسکریت پسندی کے ہاتھوں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور یہاں افغان مہاجرین کی آمد رہی ہے۔ عاقل شاہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث میرے صوبے میں دو سو سال کے برابر ثقافت کو نقصان پہنچا ہے اور آمدنی کا ہر ذریعہ ختم ہو گیا ہے۔ اعداد و شمار عاقل کے ان اندازوں کو تقویت دیتے ہیں۔

دہشت گردی کے صوبہ خیبر پختونخواہ پر اثرات پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان میں دہشت گردی کی اک نئی لہر


پاکستان میں دہشت گردی کی اک نئی لہر

                     پاکستان اس وقت دہشت گردی کی ایک نئی لہر کی لپیٹ میں ہے جس پر  ہر پاکستانی  ملک کی سلامتی سے متعلق غمزدہ ،پریشان اور متفکر ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی و انتہا پسندی ایک ناسور بن چکی ہے اور  ہر روز مار دھاڑ کی خبروں کو دیکھ دیکھ کر دل آزدہ ہو جاتا ہے.

                      کراچی میں ٹارگٹ کلنگ روز کامعمول بن کر رہ گئی ہے۔ آج بھی ۶  آدمی تشدد کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔   اس سے پہلے تشدد کے واقعات میں معروف عالم دین اور مفسر قرآن مولانا اسلم شیخو پوری اور مولانا سفرین سمیت کم از کم دس افراد جاں بحق ہوگئے. ۔ لکی مروت میں ممتاز عالم دین مولانا محسن شاہ کو قتل کر دیا گیا اور ان کے قتل سے بھی  دلوں میں  یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جان بوجھ کر علماء کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

                       کوئٹہ میں فرقہ ورانہ دہشت گردی جاری ہے اور تازہ ترین واقعہ میں  جیل کے وارڈن کو  لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں نے  گولیاں مار کر ہلاک کر دیا اور اس واقعہ کی ذمہ داری بھی قبول کر لی کیونکہ بقول لشکر جھنگوی، وارڈن ایک ظالم شخص تھا جو لشکر جھنگوی کے لیڈروں پر  جیل میں ظلم کرتا تھا۔

                    لاہور میں معروف ماہر تعلیم اور مصنف ڈاکٹر شبیہ الحسن کو ان کے کالج کے باہر گولیاں مار ہلاک کر دیا گیا ہے ۔ اس واقعہ میں سپاہ صحابہ  کے ملوث ہونے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں مسلمانوں کا مسلمانوں کے ہاتھوں خون ہو رہا ہے اور ہم سب خاموش تماشائی  ہیں؟

پاکستان میں دہشت گردی کی اک نئی لہر پڑھنا جاری رکھیں

شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا؟


شمالی وزیرستان میں  فوجی کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا؟

         پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے، فوجی آپریشن کا فیصلہ طالبان کی جانب سے تیرہ فوجیوں کے سرقلم کرنے کے واقعہ کے بعد کیاگیا ہے، عسکری ذرائع  مطابق پاکستان کی عسکری قیادت نے بالآخر شمالی وزیرستان میں مخصوص اہداف کے خلاف فوجی آپریشن کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے جو اگلے چند دنوں میں شروع کیاجاسکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ملٹری آپریشن کے بارے میں آرمی  کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاکستان کے سپریم کمانڈر صدر آصف علی زرداری سے بھی مشاورت کی اور انہیں اعتماد میں لیا۔پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اتوار کے روز ہونے والا حملہ بظاہر طالبان نے مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مدُرس مولانا شیخ نصیب خان کی ہلاکت کے بدلے میں کیا ہے۔

        حکام کے مطابق طالبان شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا جس میں نو اہلکار ہلاک جبکہ دس زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے سے دو دن پہلے حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے مولانا شیخ نصیب خان کی ہلاکت کا بدلا لینے کا اعلان کیا تھا۔ حافظ گل بہادر گروپ کے ترجمان احمداللہ احمدی نے بتایا تھا کہ وہ مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مدُرس مولانا شیخ نصیب خان کی ہلاکت کا بدلا بُہت جلد پاکسانی سکیورٹی فورسز سے لیں گے۔ یاد رہے کہ حافظ گل بہادر کے حکومت پاکستان کے ساتھ معاہدہ ہے اور سیکورٹی فورسز پر حملہ کے بعد یہ معاہدہ خطرہ میں ہے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا؟ پڑھنا جاری رکھیں

اولیاء اللہ کےمزاروں پر دھماکے


اولیاء اللہ کےمزاروں پر دھماکے

 یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ سیرت و کردار کے زور سے پھیلا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کا سہرا اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کے سر ہے اور اس خطے میں ان نفوس قدسیہ کا وجود اﷲ کریم کا بہت بڑا انعام ہے۔ جو کام غازیان اسلام کی شمشیر اَبدادر ارباب ظواہر کی علمیت سے نہ ہو سکا وہ خدا وند تعالیٰ کے ان مقبول و برگزیدہ بندوں نے بخوبی اپنے اعلی سیرت و کردار سے سرانجام دیا۔ انہوں نے شبانہ روز محنت اور اخلاق حسنہ سے بر صغیر پاکستان و ہندوستان کو نور اسلام سے منور کیا اور اسلام کے ننھے منے پودے کو سر سبز و شاداب اور قد آور درخت بنا دیا۔ ہمارے اسلاف اور اولیائے کرام نے مکالمہ کے ذریعے لوگوں کو پرامن رکھا اور طاقت کے ذریعے اپنے نظریات اور افکار مسلط نہیں کئے۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔

اولیاء اللہ کےمزاروں پر دھماکے پڑھنا جاری رکھیں

باجوڑ ایجنسی: خودکش حملہ ۔۔۔۔۔۔نئے سوالات؟


باجوڑ ایجنسی: خودکش حملہ ۔۔۔۔۔۔نئے سوالات؟

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کے مطابق ایک مبینہ خودکش حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت  اب تک 29  افراد ہلاک اور چھالیس زخمی ہو گئے۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان اور باجوڑ ایجنسی میں تنظیم کے ترجمان قاری عمر نے الگ الگ بی بی سی کو فون کر کے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں باجوڑ لیویز کے کمانڈنٹ اور ڈپٹی کمانڈنٹ بھی شامل ہیں۔مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی صبح باجوڑ کے صدر مقام خار بازار میں پیش آیا۔باجوڑ کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ باجوڑ لیویز کے کمانڈنٹ اور ڈپٹی کمانڈنٹ خار بازار سے گزر رہے تھے کہ اس دوران ایک دھماکہ ہو گیا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا جس میں باجوڑ لیویز کے کمانڈنٹ سمیت بیس افراد ہلاک اور چھیالیس زخمی ہو گئے ہیں۔اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں لیویز کے کمانڈنٹ صوبیدار میجر محمد جاوید، ڈپٹی کمانڈنٹ فضل ربی، سرکاری محرر فدا محمد، مقامی ٹھیکیدار اور عام شہری شامل ہیں۔

باجوڑ ایجنسی: خودکش حملہ ۔۔۔۔۔۔نئے سوالات؟ پڑھنا جاری رکھیں

علم کااک چراغ اور بجھا


علم کااک چراغ اور بجھا

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان اور مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے دو سرکاری سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا ہے۔جنوبی وزیرستان کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے واقعہ میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب، صدر مقام وانا سے پانچ کلومیٹر دور کڑی کوٹ کے علاقے جنان کوٹ میں نامعلوم افراد نے لڑکیوں کے مڈل سکول میں دھماکہ خیز مواد نصب کر کے دو دھماکے کیے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکوں سے سکول کا مرکزی دروازہ مکمل طور تباہ ہوگیا جبکہ عمارت کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اہلکار کے مطابق چاردیواری بھی جگہ جگہ سےگر گئی۔

علم کااک چراغ اور بجھا پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان دنیا کا ایک حسين وجميل ملك

%d bloggers like this: