ٹیگ کے محفوظات: دہشت گردوں کی جانب سے نجی کالج میں 26 بم نصب کئے گئے تھے ،

باجوڑ، دہشت گردوں کا تعلیمی ادارے میں تباہی کا بڑا منصوبہ سیکورٹی اداروں نے ناکام بنا دیا


ایک رپورٹ کے مطابق باجوڑ میں تباہی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا، طالبان دہشت گردوں کی جانب سے کالج میں نصب بم ناکارہ بنا دیئے گئے۔دہشت گردوں کی جانب سے نجی کالج میں 26 بم نصب کئے گئے تھے اطلاع ملنے پر سیکورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لیا اور بم ڈسپوزل سکواڈ نے کالج میں لگائے گئے 26 بموں کو ناکارہ بنا دیا، بم ڈسپوزل سکواڈ باجوڑ کے انچارچ صوبیدار احسان اللہ ٹیم کے ہمراہ پہنچے اور باجوڑ کے علاقہ تحصیل خار کے عنایت قعلہ کالج میں دہشت گردوں کی جانب سے نصب بم ناکارہ بنا

سیکورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے تباہی کا بڑا منصوبہ بنا رکھا تھا جسے ناکام بنا دیا گیا،واقعہ کے بعد علاقے میں‌سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، دہشت گردوں کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ طالبانائزیشن ایک آ ئیڈیالوجی کا نام ہے اور اس کے ماننے والے وحشی اور درندے طالبان، انتہا پسند،تشدد پسند اور دہشت گرد نظریات و افکار پر یقین رکھتے ہیں اور صرف نام کے مسلمان ہیں، جن کے ہاتھ پاکستان کے معصوم اور بے گناہ شہریوں،طلبا و طالبات، اساتذہ اور ہر شعبہ ہائے ذندگی کے لوگوں کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔۔ طالبان اسلام اور شریعت کا دن رات ڈھول پیٹ رہے ہیں مگر اُن کی جہالت

کا سب سے بڑا شاہکار  سکولوں  اور کالجوں کا نذرِ آتش کرنا اور طالبعلموں قتل ہے۔

سکولوں و کالجوں کی تباہی ان طالبان کی قبیح حرکات و کرتوت ہیں جو پاکستان میں تعلیمی اداروں کو تباہ کر کے،طلبا ،اساتذہ و دیگر بے گناہ اور معصوم لوگوں کو قتل کرکے اسلامی نظام نافذ کرنے چلے ہیں۔ طالبان نے پاکستانی مسلمانون کی موجودہ اور آئیندہ نسل کو تعلیمی میدان میں جان بوجھ کر پیچھے کی طرف دھکیل دیا ہے اور جرم عظیم کا ارتکاب کیا ہے۔ سکولوں کو جلانے کے معاملہ میں طالبان کی سرگرمیاں اسلام کے سراسر خلاف ہیں لہذا ہمیں نہیں چاہئے طالبان کا اسلام جس کی تشریح تنگ نظری پر مبنی ہو اور نہ ہی ہم طالبان کو اس امر کی اجازت دیں گے کہ وہ اپنا تنگ نظری والا اسلام ، پاکستان کی مسلمان اکثریت پر مسلط کریں۔ تعلیم کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں پاکستان میں غربت ، پسماندگی ، جہالت اور انتہا پسندی و دہشت گردی جیسے مسائل مزید گھمبیر ہو جائینگے، تعلیم کے فروغ‌ سے ہم پاکستان میں دہشتگردی و انتہا پسندی کی عفریت پر قابو پا سکتےہیں اور لوگ اس بات کو درست طورپرسمجھ سکیں گے کہ خرابی دین اسلام میں نہیں بلکہ اسلام کی اس غیر معقول اور تنگ نظر طالبانی تشریح میں ہے جس کا علاج، بہتر تعلیم سے ہی کیا جاسکتا ہے اور اسی میں پاکستان کی تعمیر و ترقی کی تعبیر مضمر ہے۔